یوسف بچھ کون تھے؟

1949 میں سرینگر سے نکالے گئے یوسف بچھ بھٹو کابینہ میں مشیر، سفیر اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے معاون خصوصی رہے۔ 24 مئی کو نیویارک میں انتقال ہوا، تدفین مظفرآباد میں ہو گی۔

1949 میں بھارت زیر انتظام کشمیر سے نکالے جانے کے بعد یوسف بچھ صرف ایک بار اپنی والدہ کی وفات پر سرینگر جا سکے۔ (سوشل میڈیا)

ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں معاون خصوصی برائے اطلاعات، سوئٹزر لینڈ میں پاکستانی سفیر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معاون خصوصی رہنے والے معروف کشمیری دانشو ریوسف بچھ 24مئی کو امریکی شہر نیو یارک میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر لگ بھگ 97 سال تھی اور وہ کافی عرصہ سے نیویارک میں ہی مقیم تھے۔ ان کی میت 29 مئی کو پاکستان لائی جائے گی اور وصیت کے مطابق تدفین پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہو گی۔

یوسف بچھ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی پہلی عبوری حکومت میں چیف پبلسٹی آفیسر رہے ہیں۔  اس دوران ان کی نمایاں کارکردگی، قابلیت اور تخلیقی صلاحیتوں کا تذکرہ حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر میں تعینات پہلے جنرل سیکرٹری(چیف سیکرٹری) قدرت اللہ شہاب نے اپنی شہرہ آفاق کتاب شہاب نامہ میں بھی کیا۔

1953 میں یوسف بچھ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مضمون نویسی کے بین الاقوامی مقابلہ جیت کر نیویارک پہنچے اور پھر وہیں رہائش اختیار کر لی۔

1972 میں وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو انہیں پاکستان واپس لائے اور اپنی کابینہ میں وفاقی وزیر کے ہم پلہ معاون خصوصی برائے اطلاعات کا عہدہ دیا۔  1977میں سوئیٹزرلینڈ میں اپنی بطور سفیر تعیناتی تک وہ اس عہدے پر برقرار رہے۔ یوسف بچھ 18سال تک اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے معاون خصوصی کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔

یوسف بچھ کی پیدائش 1922 میں سرینگر میں ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب جموں کشمیر کی ریاست پر ڈوگرہ حکمرانوں کا راج تھا اورریاست کے متعدد علاقوں میں آزادی کی تحریک پنپ رہی تھی۔ 1931 میں جب حکومت کےخلاف عملاً بغاوت کا آغاز ہوا تو یوسف بچھ کی عمر محض نو سال تھی۔ تاہم وہ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ حکومت مخالف مظاہروں میں شریک رہے۔ اولین عمر سے ہی کشمیر میں آزادی کی تحریک کے نشیب و فراز سے واقفیت، قدیم اور جدید تاریخ بارے معلومات کے ذخیرہ کی بناء پر یوسف بچھ کو کشمیر کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا سمجھا جاتا تھا۔

یوسف بچھ نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول سرینگر اور ایس پی کالج سرینگر سے حاصل کی۔ بعد ازاں جموں و کشمیر کی سول سروسز کے لیے مقابلے کا امتحان امتیازی حیثیت میں پاس کیا اور تحصیل اوڑی میں محکمہ مال کے تحصیلدار مقرر ہوئے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جب کشمیر میں ہندوستانی فوجیں اتریں تو یوسف بچھ نے حریت پسندوں کے کیمپ کو چنا۔ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی جماعت مسلم کانفرنس کی کھلم کھلا حمایت پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

1948 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خط لکھا کہ پاکستان اور ہندوستان کو قیدیوں کا باہمی تبادلہ کرنا چاہئے۔ اس خط کے ساتھ منسلک 27 قیدیوں کی فہرست میں ایک نام یوسف بچھ کا بھی تھا۔ پنڈت نہرو نے تجویز مان لی۔ یوں 1949 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم شیخ عبداللہ نے یوسف بچھ اور دیگر سرگرم نوجوانوں کے ایک گروپ کو جموں کشمیر سے بے دخل کرتے ہوئے سچیت گڑھ کے راستے پاکستان کے حوالے کر دیا۔

پاکستان کے سابق سفیر عارف کمال کے بقول یوسف بچھ کشمیریوں کی مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کے سخت مخالف تھے۔ یوسف بچھ نے جموں کشمیر سے ہجرت کرنے والے پنڈتوں کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ 'اس مراسلے میں انہوں نے پناہ گزین پنڈتوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ انہیں جموں کشمیر سے نکالنے میں مقامی مسلمانوں کا ہاتھ نہیں۔ بلکہ یہ کشمیر میں اس وقت کے گورنر جگ موہن کی سازش تھی۔ خط کے ذریعے انہوں نے مہاجر کشمیری پنڈتوں کو اپنے گھر واپس آنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تاکہ بطور کشمیری ان کی شناخت برقرار رہے۔'

کئی سالوں سے امریکہ میں مقیم آزادی پسند کشمیری راہنما راجہ مظفر کی یوسف بچھ کے ساتھ کافی قربت رہی ہے۔ ان کے بقول 'زندگی کا پون حصہ گھر اور خاندان سے دور گزارنے والے یوسف بچھ نے اپنی زندگی تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو عائلی زندگی پر ترجیح دی۔'

قریبی دوستوں کے مطابق ایمی نامی امریکی خاتون سے ان کی شادی محض تین سال چل سکی۔ ان کی کوئی اولاد نہیں۔ بہن بھائی انتقال کر چکے ہیں۔  آخری وقت میں ایک بھتیجا ان کی دیکھ بھال کے لیے نیویارک میں موجود تھا۔

1949 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے بےدخلی کے بعد یوسف بچھ صرف ایک بار اپنی والدہ کی وفات پر اپنے آبائی شہر سرینگر جا سکے تھے۔

یوسف بچھ نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کر رکھی تھی کہ ان کی تدفین مظفرآباد میں کی جائے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی میت 29مئی کو پاکستان پہنچے گی۔ 

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق نماز جنازہ مظفرآباد میں ادا کی جائے گی۔ جبکہ ان کی تدفین سابق صدر میر واعظ یوسف شاہ اور قائداعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری خورشید حسن خورشید (کے۔ایچ۔خورشید) کے پہلو میں ہو گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل