کمزور معاشی صورتحال اور بیرونی مداخلت

موجودہ جمہوریہ کا اقتصادی نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ ملک معاشی طور پر خوشحال ہو اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے چنگل سے نکل سکے۔

(اے ایف پی)

ایک پائیدار اور مستحکم جمہوریہ نظام کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں اتنی سکت ہو کے بیرونی مداخلت کو روک سکے اور اپنی خودمختاری کو قائم رکھ سکے۔ موجودہ جمہوریہ کی ناکامی کا ذمہ دار اس میں کچھ ایسی خامیاں ہیں کے وہ بیرونی قوتوں کو ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے راستہ فراہم کرتی ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بیرونی قوت جمہوری نظام کی خامیوں سے فائدہ نہیں اٹھاتی گی تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

پاکستان جمہوری طور پر ایک کمزور ملک ہے مگر امریکہ جیسے منظم ملک میں بھی ہم نے دیکھا کہ بیرونی قوتوں نے ان کے الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کے آئی ایم ایف صرف ایک مالی ادارہ نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ امریکہ اور دوسری مغربی قوتیں ترقی پزیر ممالک کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتی ہیں۔ موجودہ جمہوریہ کا اقتصادی نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ تقریباً ناممکن ہے کہ ملک معاشی طور پر خوشحال ہو اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے چنگل سے نکل سکے۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں ہمارے خرچے زیادہ اور کمائی کم ہے اور دوسرے طرف وہی آئی ایم ایف کے لگائے ہوئے وزیر خزانہ اشرفیہ کے لیے ایمنسٹی کا اعلان کرتے ہیں تاکہ پیغام یہ جائے کے اس ملک میں ٹیکس دینے والے ہی ہمیشہ نقصان میں ہیں اور ٹیکس دینا بے وقوفی ٹھہرے۔ دوسرے لفظوں میں جو پیسہ ادھار ملے اسے ایک دفعہ پھر ضائع کر دو تاکہ اگلے پیکج کے لیے ابھی سے ماحول بن سکے اور یہ عوام ایک غلام قوم کی طرح محکوم رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں اس کی تمام آبادی اپنی حکومت سے خوش ہو۔ ایسے ممالک جہاں صوبوں کے نام پر ریاست کے اندر ریاست قائم ہے وہاں بیرونی قوتیں اس کے نوجوانوں کو ورغلا کر ملک توڑنے کی کوششیں جاری رکھتی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ایک طرف تو حکومت میں معاشرتی انصاف ناپید ہے اور دوسری طرف ہم نے پاکستانی شناخت کے اوپر کئی مقامی شناختوں کو ترجیح دی ہے۔ یہ بیرونی قوتوں کو موقع فراہم کرتی ہیں کے وہ علیحدگی پسندوں کو ریاست کے مقابلے میں کھڑا کرے۔
موجودہ جمہوریہ کا تمام نظام فقط 300 خاندانوں کے اردگرد گھومتا ہے جو صرف 13 فیصد ووٹ لے کر سیاسی طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ کوئی بھی بیرونی قوت جو ان خاندانوں سے روابط بنا لے تو اس کے لیے اس نظام کو اپنے ہاتھ میں لینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں میں کسی پر غداری کا الزام نہیں لگا رہا بلکہ اس نظام کی وہ خامیاں سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہوں جو بیرونی قوتوں کو ہمارے اندر آنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ نئے رہنما اور رکن اسمبلی کا سامنے آنا اور چند خاندانوں پر انحصار نہ کرنا ایک اچھے نظام کی نشانیوں میں سے ہے جو ہمارے موجودہ نظام میں ناپید ہے۔

ایک ایسی جمہوریہ جس میں عوام طاقت کا سرچشمہ ہوں اس میں تمام بیرونی معاہدے پارلیمان کی منظوری کے بغیر عمل میں نہیں لائے جا سکتے۔ پاکستان کے موجودہ جمہوری نظام کی حالت یہ ہے کہ کوئی ایک بھی اہم معاہدہ پارلیمان سے منظور نہیں کروایا گیا۔ پاکستان نے اب تک کئی آئی ایم ایف کے معاہدے کئے مگر ایک کو بھی پارلیمان سے منظور نہیں کروایا۔ سی پی ای سی بھی کبھی پارلیمان سے منظور نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند غیر منتخب لوگ یہ معاہدے کرتے ہیں اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بیرونی طاقتیں چند لوگوں پر اثرانداز ہو کر پورے ملک کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہیں۔ چند لوگ غلطی کر سکتے ہیں مگر ایک پارلیمان سے غلطی ہونا کافی مشکل ہے۔

موجودہ جمہوریہ ایک کمزور نظام پر کھڑی ہے اور اس میں ایسی خامیاں ہیں جو بیرونی قوتوں کو ہمارے اوپر مسلط کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ اگر ہم پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو صرف ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ ہم ایک نئی جمہوریہ کا نظام ترتیب دیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ