پاکستان میں ڈینگی کیوں بے قابو ہو رہا ہے؟

سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی ٹیسٹ کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور بخار چیک کرنے والا تھرمامیٹر تک میڈیکل سٹوروں سے غائب ہو چکا ہے۔

لاہور میں 27 ستمبر  2021کو محکمۂ صحت کا ایک اہلکار ڈینگی کے خلاف سپرے کر رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان میں ڈینگی کے پھیلاؤ کی صورت حال کیا ہے؟ اس کا اندازہ اسلام آباد جیسے جدید شہر کے حالات دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے تک 2603 کیسز رپورٹ ہوئے۔

یہ صورت حال کس قدر سنگین ہے، اس کا اندازہ اس بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پورے بھارت میں اس سال ایک ہزار کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ پاکستان میں اس سال صرف پنجاب میں 11 ہزار اور خیبر پختونخوا میں تقریباً پانچ ہزار کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یکم جنوری سے اب تک پاکستان میں ڈینگی کے 27 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کیا اس کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے بر وقت اقدامات نہیں کیے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اس وقت خیال آیا جب پنجاب میں 693 کیس رپورٹ ہو چکے تھے اور گذشتہ ماہ 20 ستمبر کو انہوں نے ڈینگی کنٹرول کے بارے میں حکام کو احکامات دیے حالانکہ اس وقت لاروا پنپ کر مچھر بن چکا تھا اور روز سینکڑوں لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

پاکستان میں سب سے پہلے ڈینگی نے 2012 میں سر اٹھایا تھا جب شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے۔ انہوں نے ڈینگی کے خاتمے کے لیے محنت کی تھی۔ کئی سرکاری محکموں پر مشتمل ایک پول بنایا گیا جس کے ذمے ڈینگی کے لاروا کا خاتمہ تھا۔ سری لنکا، تھائی لینڈ، سنگاپور اور ملائیشیا سے ماہرین بلوائے گئے جنہوں نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے سہولیات مہیا کی گئیں۔ ڈینگی ٹیسٹوں کے لیے پرائیویٹ لیبارٹریوں کو بھی شامل کیا گیا جہاں 80 روپے میں ٹیسٹ ہو جاتا تھا جبکہ اس وقت ڈینگی ٹیسٹ دو سے چار ہزار میں ہو رہا ہے اور روزانہ پلیٹ لیٹس کاؤنٹ ٹیسٹ کے پانچ سو روپے اس کے علاوہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی ٹیسٹ کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ بخار چیک کرنے والا تھرمامیٹر میڈیکل سٹوروں سے غائب ہو چکا ہے۔ ڈینگی سے اب تک 50 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، ہسپتالوں میں ہنگامی صورت حال ہے مگر سہولیات ناپید ہیں، جس کی وجہ ہسپتالوں کو مطلوبہ فنڈز نہ ملنا بتایا جاتا ہے۔

عثمان بزدار کے پہلے دو سال میں بھی ڈینگی اس لیے کنٹرول میں رہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری سینٹر بند تھے، جو ڈینگی کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، لیکن جیسے ہی زندگی معمول پر آئی ڈینگی بے قابو ہو گیا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس سال بزدار انتظامیہ نے اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور بروقت اقدامات نہیں کیے۔

گذشتہ دور حکومت میں جہاں جہاں ڈینگی کیس سامنے آتا تھا وہاں فوراً محکمہ صحت کی ٹیمیں پہنچ کر سپرے کرتی تھیں۔ یہی پروٹوکول دیگر ممالک میں بھی رائج ہے مگر اس بار چونکہ حکومت نے اس کو سیریس نہیں لیا اور اس نے ایک اشتہار جاری کرنے پر ہی اکتفا کیا کہ ڈینگی سپرے مضر صحت ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ سپرے لاطینی امریکہ سے مشرق بعید کے ممالک میں کیا جا رہا ہے مگر یہ الہام صرف ہماری حکومت کو ہوا ہے کہ یہ مضر صحت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت