’ہسپتالوں میں جگہ ختم، ڈینگی سےمتاثرہ کا علاج گھر پر ہورہا ہے‘

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سے ڈینگی کے 231 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ جب کہ گذشتہ روز بدھ کو لاہور سے ڈینگی کے 146 مریض رپورٹ ہوئے۔

اہور کے مرکزی ہسپتالوں میں بیڈز کم ہونے کی وجہ سے ایک بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو لٹا کر علاج کرنا پڑ رہا ہے(اے ایف پی فائل)

پاکستان بھر میں ڈینگی کی وبا نے شدت اختیار کر لی ہے۔ پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے لیے مختص وارڈز میں جگہ کم پڑنے لگی۔

ہسپتالوں میں بستر دستیاب نہ ہونے پر کئی شہریوں نے گھر پر ہی علاج کرانا شروع کر دیا ہے۔ جب کہ انتظامیہ کی جانب سے صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں انتظامات کو وسعت دینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

لاہور کے مرکزی ہسپتالوں میں بیڈز کم ہونے کی وجہ سے ایک بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو لٹا کر علاج کرنا پڑ رہا ہے۔

شہر کے بڑے میو ہسپتال میں کئی مریضوں کے ایک ہی بستر پر زیر علاج ہونے کی ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ سیزن میں راولپنڈی ڈینگی کا مرکز بنا تھا لیکن اس بار لاہور بنا ہوا ہے ایسا کیوں ہوا اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ادھر ڈینگی کی وبا کے زور پکڑتے ہی پیناڈول گولی کی مارکیٹ میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔ جب کہ اسی برانڈ کی پیناڈول ایکسڑا مارکیٹ میں موجود ہی نہیں۔ لاہور کے بیشتر علاقوں میں میڈیکل سٹورز کی ایک بڑی تعداد آنے والے گاہکوں کو پیناڈول کا صرف ایک پتا ہی دے رہی ہے۔

ڈینگی کا شکار مریضوں کی مشکلات:

لاہور کے علاقے فردوس مارکیٹ کے رہائشی اعجاز حسین شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی 22 سالہ بیٹی شازیہ بیمار ہوئیں تو انہیں میو ہسپتال لے گئے جہاں ان کے ٹیسٹ کرانے کے بعد پتہ چلا کہ انہیں ڈینگی ہو گیا ہے۔

یہ سن کر ہمارے تو ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے۔ بچی کا علاج شروع ہوا لیکن ڈینگی کے لیے مختص وارڈ میں اتنا رش تھا کہ ایک ہی بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو لٹا کر علاج کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک رات ہسپتال میں جاگ کر گزاری کیونکہ بیٹی کا معاملہ تھا اکیلے بھی نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔‘

اعجاز شاہ کے بقول ’ہسپتال میں ڈاکٹر اور نرسیں کم جبکہ مریض زیادہ ہیں اس رش میں کرونا لاحق ہونے کا بھی خدشہ ہے۔‘

ان کے بقول ’ان کے اہل خانہ نے شازیہ کی طبیعت کچھ سنبھلنے پر مشورہ کیا کہ انہیں گھر لے جاکر ڈرپ لگوائی جائے اور ڈاکٹروں کے نسخہ کے مطابق طبی امداد گھر پر ہی دی جائے۔ لہذا ہم گذشتہ روز شازیہ کو ہسپتال سے گھر لے آئے اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے تاہم ان کی طبیعت پہلے بہت خراب تھی مگر اب کچھ بہتر ہوئی ہے۔‘

چند دن پہلے میو ہسپتال کی ڈینگی وارڈ میں رش کی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک ہی بیڈ پر کئی کئی مریضوں کو لٹاکر علاج جاری ہے اور مریضوں کے لواحقین کا رش کرونا وبا میں اضافے کو بھی دعوت دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنا حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

ڈینگی وبا کےچیلنج سے کیسے نمٹا جا رہا ہے؟

سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر پنجاب عمران سکندر بلوچ کے مطابق محکمہ صحت کی صوبہ بھر میں ڈینگی لاروا کو تلف کرنے اور افزائش روکنے کے لیے کاروائیاں جاری ہیں۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سے ڈینگی کے 231 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ جب کہ گذشتہ روز بدھ  کو لاہور سے ڈینگی کے 146 مریض رپورٹ ہوئے۔ گذشتہ روز راولپنڈی سے 39, شیخوپورہ سے چھ جب کہ ننکانہ اور سرگودھا سے ڈینگی کے پانچ پانچ مریض رپورٹ ہوئے۔

گجرانوالہ اور گجرات سے چار جب کہ اٹک، قصور اور میانوالی سے ڈینگی کے تین مریض رپورٹ ہوئے۔ مظفرگڑھ اور پاکپتن سے ڈینگی کے دو مریض رپورٹ ہوئے۔

سیکرٹری ہیلتھ کیئر نے اپنے بیان میں کہاکہ رواں سال پنجاب بھر سے اب تک ڈینگی کے 5,133 مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ لاہور سے ڈینگی کے 3,847 مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

اس سال صوبہ بھر سے اب تک ڈینگی سے 16 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 1,383 مریض داخل ہیں

لاہور کے ہسپتالوں میں ڈینگی کے 740 مریض داخل ہیں جب کہ صوبے کے دیگر ہسپتالوں میں ڈینگی کے 643 مریض داخل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول مون سون میں ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر ازحد ضروری ہیں۔ اس لیے مون سون کے دوران ڈینگی سے بچاؤ کے لئے شہری زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ ڈینگی مون سون میں زیادہ پھیلتاہے خصوصاً بارش کا پانی رہائشی علاقوں میں نہ جمع ہونےدیں۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت پنجاب کی ٹیموں نے پنجاب بھر میں چار لاکھ 21 ہزار,151 ان ڈور مقامات کو چیک کیا۔

گذشتہ روز ایک دن میں پنجاب بھر میں محکمہ صحت کی ٹیموں نے 90 ہزار 230 آؤٹ ڈور مقامات کوچیک کیا،

پنجاب بھر میں 2,283 مقامات سے لاروا تلف کیا گیا۔ ٹیموں نے لاہور میں 70 ہزار 119 ان ڈور مقامات کو چیک کیا۔ لاہور میں 1,286 ان ڈور اور آؤٹ ڈور مقامات سے لاروا تلف کیا گیا۔

انہوں نے عوام سےاپیل کی ہے کہ کورونا کے ساتھ ساتھ ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی اپنائیں۔ پنجاب کے تمام علما کرام سے بھی اپیل ہے کے مساجد میں آنے والے نمازیوں کو ڈینگی سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہ کریں۔ عوام ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔ گھر کے اندر اور باہر پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ صفائی کا خیال رکھ کر ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکتا ہے۔

ڈینگی کا مرکز راولپنڈی کے بعد لاہور کیسے بن گیا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئیے ترجمان محکمہ صحت حماد رضا نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے گذشتہ سال ڈینگی کا مرکز راولپنڈی تھا لیکن اس بار اس کا مرکز لاہور ہے اور سب سے زیادہ مریض ڈیفنس ہاؤسنگ سکیم ( ڈی ایچ اے) سے سامنے آ رہے ہیں۔

حماد کے بقول محکمہ صحت پنجاب کرونا کے ساتھ ڈینگی وبا پر قابو پانے اور مریضوں کے علاج کویقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہا ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہدایت پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں علاج کے انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔

وارڈرز اور بستروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں اور عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ تمام اضلاع کے ڈی سی اور ہیلتھ حکام کو الرٹ جاری کیا گیا کہ وہ ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کو سہولیات دینے کے انتظامات کی خود نگرانی کریں۔ اس معاملہ میں کسی قسم کی لاپرواہی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ نومبر میں ڈینگی وبا میں مزید شدت کا خدشہ ہے۔ اس لیے شہریوں سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ خود بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اپنا خیال رکھیں۔

انہوں نے اپیل کی شہر آس پاس کے ماحول پر نظر رکھیں۔ کیونکہ ڈینگی صاف پانی میں جمع لاروا کی موجودگی میں پرورش پارہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ڈینگی کا مرکز لاہور بننے کی وجوہات کی تحقیق کی جارہی ہے۔ اگر مانیٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے ڈینگی زیادہ پھیلا تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت