'عوام ڈینگی کے حوالے سے پریشان نہ ہوں، معاملات کنٹرول میں ہیں'

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں سال گذشتہ برسوں کی نسبت ڈینگی پانچ گنا زیادہ پھیل سکتا ہے، تاہم محکمہ اپنی تیاریوں پر پراعتماد ہے۔

کراچی کے ایک رہائشی علاقے میں ڈینگی سے بچاؤ کے لیے سپرے کیا جا رہا ہے (اے ایف پی فائل فوٹو)

چار ہفتے پہلے تک پنجاب حکومت کے محکمہ صحت کو خدشہ تھا کہ صوبے میں کرونا وبا تو کنٹرول ہو رہی ہے مگر مون سون موسم کے سبب ڈینگی پھوٹنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

محکمے کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس صوبے کے 9700 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے تھے اور رواں سال گذشتہ برسوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ ڈینگی پھیل سکتا ہے۔ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے چند روز قبل صوبائی کابینہ کے اجلاس میں متعلقہ محکموں کو انسداد ڈینگی مہم تیز کرنے اور اس کی مکمل نگرانی کی ہدایت کی تھی۔

ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکنے کے لیے لاہور کی ضلعی حکومت بھی کافی متحرک ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضل نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مصروف فیلڈ ٹیموں کی مکمل نگرانی کریں اور گھر گھر جا کر ان کی کارکردگی چیک کریں۔

انڈپینڈینٹ اردو نے کچھ لوگوں سے پوچھا تو ان میں سے چند کا کہنا تھا کہ ٹیمیں آرہی ہیں، سپرے بھی کر رہی ہیں اور گھروں کو چیک بھی کر رہی ہیں جبکہ چند نے شکایت کی کہ ٹیمیں آتی ہیں، سوال کرتی ہیں کہ کہیں پانی تو نہیں کھڑا گھر میں؟ منفی جواب دینے پر رجسٹر میں کچھ تحریر کرتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر نے بتایا کہ عموماً اس وقت تک ڈینگی شروع ہو چکا ہوتا ہے مگر اس بار فی الحال ایسا نہیں ہوا اور اس کی بڑی وجہ 'ہماری ٹیموں کا پوری طرح متحرک ہونا ہے۔'

'ایسی شکایتیں بالکل موصول ہوئیں ہیں جہاں فیلڈ ٹیموں نے کوتاہی برتی مگر پورے پنجاب میں 30 سے 40 ٹیمیں ایسی ہوتی ہیں جو ایسی نااہلی کا مظاہرہ کرتی  ہیں اور یہ نمبر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے باوجود ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہر دو ہفتے بعد ہونے والی کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں اس حوالے سے بات کریں اور ان کوتاہیوں کو دور کرنے کا لائحہ عمل بنائیں۔'

ڈاکٹر ہارون کا کہنا ہے کہ اس وقت انسداد ڈینگی کے لیے محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ دیگر شعبے جیسے ایگری کلچر، لوکل گورنمنٹ، ویسٹ مینجمنٹ وغیرہ بھی ساتھ ہیں۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے ترجمان حافظ قیصر نے بتایا کہ رواں برس جنوری سے اگست تک صوبے میں ڈینگی کے صرف 39 کیس رپورٹ ہوئے۔ 'ایسا نہیں کہ کرونا کی وجہ سے ہم ڈینگی کو نظر انداز کر رہے ہیں، ڈینگی کا سیٹ اپ بالکل مختلف ہے، ڈینگی کی فیلڈ فورس کرونا کی فیلڈ فورس سے الگ ہے اور دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ ڈینگی بڑھنے کے خدشے کا اظہار وقت سے پہلے نہیں کیا جا سکتا، ڈینگی کی سپائک میں لاروا کے علاوہ اور بھی عنصر ہوتے ہیں جس میں اس وائرس کی میوٹیشن شامل ہے، اس کو میوٹیٹ ہوتے ہوتے چار سے پانچ سال لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس بھی ڈینگی کی وبا چار، پانچ سال کے بعد پھیلی تھی، جس کے بعد سے ڈینگی کے خلاف کارروائیاں بہت تیز کر دی گئیں۔ 'اب جب ہم کوششیں کر رہے ہیں تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس بار ڈینگی پھیلے گا، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس بار یہ اس طرح نہیں پھیلے گا جیسے پھیلتا ہے۔'

محکمہ صحت کی 'سب اچھے' کی رپورٹ اپنی جگہ مگر سرکاری ہسپتالوں میں آن سپاٹ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کا خیال کچھ اور ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری اور میو ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر سلمان کاظمی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے غلط لوگوں کو تعینات کیا ہوا ہے، ایکسپرٹ ایڈوائزی گروپس میں جو لوگ ہیں وہ پالیسی کیا بنائیں گے وہ تو پہلے سے بنی ہوئی پالیسیوں پر عمل درآمد تک نہیں کروا سکتے۔

انہوں نے کہا اس وقت ڈینگی کے کچھ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں جبکہ ڈینگی مچھروں کو بھی فضا میں اڑتے دیکھا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت