جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں پانچ سالہ بچے کا آپریشن کر کے اس کے سینے میں موجود بغیر سر کے دوسرے بچے کو نکال دیا گیا۔
بچے کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹر سلطان اویسی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ ریحان نامی بچے کے سینے میں پسلیوں کے قریب موجود دوسرے بچے کی نشونما ہو رہی تھی لیکن اس کا سر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بعد بچے کی طبیعت بہتر ہے اور یہ آپریشن طب کے شعبے میں میں ’ایک معجزہ‘ ہے۔
ڈاکٹر سلطان اویسی نے مزید بتایا: ’بچے کو کچھ دن پہلے ہمارے پاس لایا گیا جس والدین نے بتایا کہ اس کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور یہ مسئلہ پیدائش کے 15 بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ ہم نے سی ٹی سکین اور دوسرے ٹیسٹ کیے تو پتہ چلا کہ اس کے دل کی مرکزی شریان کے قریب سینے میں ایک اور بچے کی نشونما ہورہی ہے۔
’لہٰذا ہم نے پیر کو ڈھائی تین گھنٹے کا کامیاب آپریش کر کے تقریباً ایک کلوگرام وزنی بچے کے اجزا نکالے ہیں۔ اب متاثرہ بچے کی طبیعت ٹھیک ہے۔ جمعے کو ہم اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیں گے۔‘
’عام طور پر ایسے پانچ کیس سامنے آچکے ہیں لیکن ان میں بچوں کی عمر ایک سال تھی۔ پانچ سال کے بچے کی کامیاب سرجری کا یہ پہلا کیس ہے۔‘
کسی بچے کے اندر دوسرے بچے کی نشو نما کا عمل ایک انتہائی انوکھا طبی حالت میں شمار ہوتا ہے۔ جسے طبی زبان میں ’فیٹس ان فیٹو‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی نشوونما کی خرابی ہے جہاں ایک بچہ اپنے جڑواں بھائی یا بہن کے جسم کے اندر نامکمل طور پر بڑھتا رہتا ہے۔
بچے کی تکلیف اور مسئلے کی تشخیص
بچے کے والد صادق آباد کے رہائشی غلام حسین نے بتایا کہ ’ریحان کی پیدائش نارمل تھی لیکن چند دن بعد ہی اسے سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگی۔ جیسے جیسے اس کی عمر بڑھی ہم نے دیکھا کہ اس کا سینہ بائیں جانب سے سوجا ہوا لگ رہا ہے۔
ان کے بقول: ’ریحان کی نشوونما بھی متاثر ہو رہی تھی۔ ہم پانچ سال تک مقامی ڈاکٹروں کو دکھا کر علاج کرانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن اصل میں اس مسئلے کی تشخیص نہ ہو سکی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک ڈاکٹر نے سی ٹی سکین کرایا تو معلوم ہوا کہ اس کے جسم میں ایک اور بچے کی نشونما ہورہی ہے۔ یہ سن کر ہم حیران بھی ہوئے اور خوفزدہ بھی۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ ایسا کبھی سنا نہ دیکھا۔‘
’آخر کار ہم کچھ عرصہ پہلے شیخ زید ہسپتال آئے۔ جہاں تھوراسک سرجری ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر سلطان اویسی نے بچے کا تفصیلی معائنہ کیا۔ الٹراساؤنڈ، سی ٹی سکین اور دیگر ٹیسٹوں کے بعد آپریشن کیا گیا۔ اب بچہ ٹھیک ہے اور ہم اس کی صحت دیکھ کر خوش ہیں۔‘
ڈاکٹر اویسی کے بقول، ’یہ حالت جڑواں بچوں کے حمل میں ہوتی ہے جب ایک جنین دوسرے کوجذب کر لیتا ہے۔ یہ ایک جینیائی خرابی ہے جو ایمبریو کی ابتدائی نشوونما کے مرحلے میں ہوتی ہے۔ ریحان کے کیس میں یہ بچہ اس کے سینے میں تھا، جو دنیا بھر میں بھی کم ہی دیکھا گیا ہے۔ زیادہ تر ایسے کیسز پیٹ میں ہوتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ آپریشن تھا کیوں کہ اس میں بچے کی نشونما دل کی مرکزی شریان سے فیڈنگ کے ساتھ ہورہی تھی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کیا یہ دنیا اور پاکستان میں پہلا کیس ہے؟
اطلاعات کے مطابق یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہے۔ فیٹس ان فیٹو کی پہلی تفصیلی وضاحت 1808 میں جارج ولیم ینگ نے کی تھی اور اس کے بعد سے دنیا بھر میں تقریباً 200 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یہ ایک منفرد طبی حالت ہے لیکن یہ پہلے سے معلوم اور دستاویزی ہے۔
پاکستان میں بھی یہ پہلا کیس نہیں ہے۔ 2006 میں اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ایک دو ماہ کی بچی کے جسم سے دو جنین نکالے گئے تھے۔ جو اس وقت پاکستان کا پہلا رپورٹڈ کیس تھا۔ اس کے علاوہ لاہور اور کراچی کے بڑے ہسپتالوں میں بھی ایسے ایک دو کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ڈاکٹر سلطان اویسی کا دعوی ہے کہ ’سینے میں دوسری بچے کی موجودگی اکستان میں شاید پہلی بار دیکھی گئی ہے۔ اور دنیا بھر میں بھی سینے کے کیسز کم ہی ہوتے ہیں۔ ایسے کیسوں میں بچوں کے فوری ٹیسٹ کرانے کے بعد متعلقہ شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔‘