پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔
پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے بدھ کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ’تین علاقائی طاقتوں کے درمیان ممکنہ یہ معاہدہ گذشتہ سال اعلان کیے گئے پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے سے الگ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا ہے کہ ’معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے ضروری ہے۔‘
وزیر برائے دفاعی پیداوار کا کہنا ہے کہ ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی معاہدہ وہ معاملہ ہے جو پہلے ہی زیرِ غور ہے۔
’اس معاہدے کا مسودہ ہمارے پاس بھی موجود ہے، سعودی عرب کے پاس بھی ہے اور ترکی کے پاس بھی۔ تینوں ممالک اس پر غور و خوض کر رہے ہیں، اور یہ معاہدہ گذشتہ دس ماہ سے زیرِ بحث ہے۔‘
تاہم اس حوالے سے تاحال سعودی عرب کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
اس سے قبل ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے جمعرات کو کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ایک ممکنہ دفاعی معاہدے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔
استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سہہ فریقی دفاعی اتحاد کے امکان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں فدان نے کہا کہ خطے میں وسیع تر تعاون اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ اگر متعلقہ ممالک ’ایک دوسرے پر اعتماد کریں‘ تو علاقائی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے گذشتہ سال 30 ستمبر کو پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔‘
اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ بلوم برگ نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ ترکی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
بلوم برگ نے معاملے سے باخبر افراد کے حوالے سے بتایا تھا کہ ممکنہ معاہدے سے نئی سکیورٹی صف بندی کی راہ ہموار ہو جائے گی جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ابتدائی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ گذشتہ سال ستمبر میں کیا گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف ’کسی بھی جارحیت‘ کو دونوں رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل پانچ سے مشابہ ہے، اور نیٹو میں ترکی امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوجی طاقت رکھتا ہے۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور معاہدہ طے پانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وسیع تر اتحاد سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یہاں تک کہ افریقہ میں ترکی کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔
ترکی اس معاہدے کو سکیورٹی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھتا ہے، خاص طور پر جب امریکہ کے قابل اعتماد ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جس کے ان تینوں ممالک کے ساتھ مضبوط فوجی تعلقات ہیں۔