پاکستان اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدے پر بات ہوئی ہے: ترک وزیر خارجہ

پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں وسیع تر تعاون اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان 15 جنوری، 2026 کو استنبول میں ایک پریس کانفرنس سے گفتگو کر رہے ہیں (سکرین گریب/ترکی وزارت خارجہ یوٹیوب)

ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ایک ممکنہ دفاعی معاہدے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سہہ فریقی دفاعی اتحاد کے امکان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں فدان نے کہا کہ خطے میں وسیع تر تعاون اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ اگر متعلقہ ممالک ’ایک دوسرے پر اعتماد کریں‘ تو علاقائی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ اسلام آباد یا ریاض کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے تاہم اسحاق ڈار نے گذشتہ سال 30 ستمبر کو پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔‘

اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ بلوم برگ نے گذشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ ترکی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

بلوم برگ نے معاملے سے باخبر افراد کے حوالے سے بتایا تھا کہ ممکنہ معاہدے سے نئی سکیورٹی صف بندی کی راہ ہموار ہو جائے گی جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابتدائی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ گذشتہ سال ستمبر میں کیا گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف ’کسی بھی جارحیت‘ کو دونوں رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل پانچ سے مشابہ ہے، اور نیٹو میں ترکی امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوجی طاقت رکھتا ہے۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور معاہدہ طے پانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وسیع تر اتحاد سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یہاں تک کہ افریقہ میں ترکی کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔

ترکی اس معاہدے کو سکیورٹی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھتا ہے، خاص طور پر جب امریکہ کے قابل اعتماد ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جس کے ان تینوں ممالک کے ساتھ مضبوط فوجی تعلقات ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا