ملیے بلوچستان کی ویمن باسکٹ بال ٹیم کی کپتان اور کوئٹہ کی پہلی وی لاگر سے

23 سالہ زینب یونس کا کہنا ہے، ’بلوچستان کا اصل چہرہ اور زندگی وہ نہیں جو خبروں میں نظر آتی ہے۔ اصلی بلوچستان دیکھنا ہے تو مقامی محنت کش مردوں اور خواتین کو دیکھیں۔‘

ہر فن مولا زینب نے کئی شارٹ فلمیں بھی بنائی ہیں اور کچھ میں بطور اداکارہ کام بھی کیا(بشکریہ فیس بک)

پسماندہ اور قبائلی سوچ بلوچستان کی خواتین کے شخصی اظہار میں اہم رکاوٹ سمجھی جاتی ہے، لیکن زینب یونس نہ صرف بلوچستان ویمن باسکٹ بال ٹیم کی کپتان بلکہ کوئٹہ کی پہلی خاتون وی لاگر بھی ہیں، جن کے ویڈیو بلاگز مقامی خواتین کی زندگیوں کو سامنے لا رہے ہیں۔

زینب کہتی ہیں کہ ان کی خواہش تھی کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ بلوچستان میں سب برا نہیں۔ ’ہمارے صوبے کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے لیکن بلوچستان کا اصل چہرہ اور زندگی وہ نہیں جو خبروں میں نظر آتی ہے۔ اصلی بلوچستان دیکھنا ہے تو مقامی محنت کش مردوں اور خواتین کو دیکھیں، جن کا کل آج سے یقیناً بہتر ہوگا۔ بلوچستان کے سیاحتی اور قدرتی مناظر کو دیکھیں، جو کسی کیلنڈر سے کم نہیں۔‘

ہر فن مولا زینب نے کئی شارٹ فلمیں بھی بنائی ہیں اور کچھ میں بطور اداکارہ کام بھی کیا، لیکن ان کا ایک اور بڑا حوالہ بلوچستان ویمن باسکٹ بال ٹیم ہے۔ زینب نے بتایا کہ انہیں کھیلوں میں حصہ لینا اچھا لگتا ہے، وہ اسکول اور کالج کے زمانے سے صوبائی سطح پر مختلف کھیلوں کی ٹیم کا حصہ رہی ہیں اور اب بلوچستان کی باسکٹ بال ٹیم کی کپتان ہیں۔

زینب نے ماس کمیونیکشن میں بیچلرز کی ڈگری لی ہے، لیکن وہ صحافی نہیں بننا چاہتیں۔ ان کا بنیادی شوق فوٹوگرافی اور فلم میکنگ ہے۔ وہ خواتین کی تقاریب میں بحثیت فوٹو گرافر بلائی جاتی ہیں۔ زینب کا کہنا ہے کہ کوئٹہ شہر میں خاتون فوٹوگرافر کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مخلوط محفلوں کو پسند نہیں کیا جاتا، یہی وجہ ہے کہ خواتین کی تقریب میں ایک خاتون فوٹوگرافر کو پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مقامی خواتین کو اس طرف آنا چاہیے۔

زینب کا پہلا وی لاگ گذشتہ برس دسمبر میں آیا، جو اُن کے اپنے کانووکیشن پر مبنی تھا۔ اس وی لاگ کو اب تک 2 ہزار سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں۔ ان کے یو ٹیوب چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد ابھی چھ سو سے زائد ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنا چھوٹا لیکن مضبوط قدم وی لاگز کے ذریعے رکھا ہے۔

انہیں تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’میں پروفیشنل نہیں ہوں بلکہ ابھی سیکھ اور پڑھ رہی ہوں۔ میں نے ایڈیٹنگ خود سیکھی ہے۔ مجھے کوئی گائیڈ کرنے والا نہیں تھا، لیکن مجھے اپنے خاندان، دوستوں اور اساتذہ کا تعاون حاصل رہا۔‘

تاہم زینب نے بتایا کہ آغاز میں انہیں بھی گھر سے مخالفت کا سامنا رہا کیونکہ ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ بے شک میڈیا اور فلم میکنگ کی تعلیم حاصل کرلیں، لیکن اسے کیریئر نہ بنائیں۔ خاص کر والد کی طرف سے انہیں زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کی والدہ عذرا یونس کا کہنا ہے کہ زینب کی کامیابی ان کی محنت، لگن اور شوق کا نتیجہ ہے۔ ’ہم اپنی بیٹی کے کام کو سراہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کرے۔‘

23 سالہ زینب کا خیال ہے کہ پاکستانی خواتین اگر کسی قابل بنتی ہیں تو اس میں سب سے اہم حصہ خاندان کا ہوتا ہے۔ ہنر اور صلاحیت تو بہت سے لوگوں میں ہوتی ہے لیکن اظہار کا موقع صرف خاندان کی حمایت اور تعاون کی بدولت ہی ممکن ہے۔ اسی لیے وہ اپنے والدین کی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کو آگے بڑھنے کی اجازت دی۔

زینب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ان کے وی لاگ کی بنیاد کوئٹہ اور بلوچستان کی خواتین ہیں۔ جو اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہی ہیں اور آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ابھی کئی اَن کہی کہانیاں سامنے آئیں گی ۔لوگوں کو معلوم ہوگا کہ بلوچستان میں کیا، کیا ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم بھی باقی صوبوں کی لڑکیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ ہاں ہماری تعداد ابھی کم ہے، لیکن لوگوں کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ ہم لڑکیاں باہر نہیں نکلتیں۔ ہم تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں اور کھیل بھی رہے ہیں۔ یہاں سہولیات اور مواقع بھی ہیں لیکن ابھی بڑی تبدیلیوں کا انتظار ہے۔‘

لیکن بلوچستان کے دیگر اضلاع میں ابھی بھی سب اپنی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ زینب سمجھتی ہیں کہ روایتی ہونا اچھی چیز ہے، مگر تھوڑی سی تبدیلی بھی بری چیز نہیں۔

 

زینب نے بتایا: ’مجھے بحیثیت کھلاڑی لڑکیوں کے پیچھے ہٹ جانے کا سامنا رہا۔ خاص کر اُس وقت جب ٹیم بنانے کے لیے 12 خواتین کھلاڑیوں کی ضرورت ہو، لیکن اگر عین وقت پر ایک بھی لڑکی کھیلنے سے انکار کر دے تو ٹیم نہیں بن سکتی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اکثر لڑکیاں کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر کھیلوں میں آگے آتی ہیں، جلد سیکھ بھی جاتی ہیں لیکن جب نیشنل ٹورنامنٹ میں جانے کی بات آئے تو پیچھے ہٹ جاتی ہیں کہ انہیں اپنے خاندان سے اجازت نہیں ملی۔ میں کالج کے زمانے سے ٹیچرز کے ساتھ لڑکیوں کے گھر جا کر ان کے والدین سے مل رہی ہوں۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں اور صوبے کی نمائندگی کرنے کے لیے ٹیم چاہیے۔ اجازت مل گئی تو بہت اچھا اور نہیں تو آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت ساری لڑکیاں دیگر ٹیموں کا بھی حصہ بننے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ ٹیم پوری کرتی ہے۔ میں بھی ہینڈ بال اور تھرو بال ٹیم کا حصہ رہی ہوں۔‘

زینب نے بتایا کہ وی لاگ کے لیے شوٹنگ، لوگوں سے ملاقات اور کیمرے سے باتیں کرنا عام بات ہے، لیکن کوئٹہ جیسے شہر میں یہ ایک عجیب بات ہے۔ ’کام کے دوران اکثر لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ بھی لیتے ہیں اور کچھ کو میں بھی بتا دیتی ہوں کہ میں کیا کام کر رہی ہوں۔ کئی لوگ سن کر مسکرا دیتے ہیں، جس سے خوشی اور ہمت ملتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ ہماری بات نہیں سمجھ پاتے تو منفی باتیں بھی کرتے ہیں۔‘

زینب کے وی لاگز کھیل، پڑھائی، ورکشاپس اور خواتین کے دیگر موضوعات پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’میرے وی لاگز آنے کے بعد بہت سی لڑکیوں نے مجھے سے پوچھا کہ میں یہ کام کیسے کرتی ہوں؟ یا یہ کہ وہ بھی وی لاگ بنانا چاہتی ہیں، انہیں کیا کرنا چاہیے؟‘ بقول زینب: ’میرا کام بھی بہت اچھا نہیں لیکن مجھے امید ہے کہ بہت سی اور لڑکیاں بھی اس میدان میں آگے آئیں گی۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل