افغانستان: معاشی تباہی، شہری جہیز کے بدلے بچیوں کی شادی پر مجبور

کچھ افغان اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے اپنی جوان بیٹیوں کو 500 ڈالرز میں بیچ رہے ہیں۔

ایک بچی 21 نومبر 2021 کو صوبہ قندھار میں قائم اپنے سکول کی جانب جا رہی ہے (تصویر: اے ایف پی)

قرض اور فاقہ کشی افغانستان کے شہریوں کو جہیز کے بدلے اپنی جوان بیٹیوں کی شادیاں کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

جب سے طالبان نے 15 اگست کو ملک پر حکومت قائم کی ہے، معیشت تباہ ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں بے سہارا والدین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو اپنی بیٹیوں کو بیچنے پر مجبور ہیں اور بعض صورتوں میں اپنی بچیوں کو مستقبل کی شادیوں کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔

بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسی مصدقہ اطلاعات ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ گھرانے اپنے خاندانوں کو بھوک سے مرنے سے بچانے کے لیے جہیز کے بدلے 20 دن سے کم عمر کی بیٹیوں کی پیشکش کر رہے ہیں۔

پچھلے مہینے ایک نو سالہ بچی کو کم سن دلہن کے طور پر ایک 55 سالہ شخص کو دو لاکھ افغانیوں (تقریباً 2,100 ڈالرز یا 1,570 پاؤنڈز) میں بھیڑ، زمین اور نقدی کے عوض فروخت کیا گیا۔

ایک بچی کے والد عبدالمالک نے بتایا کہ ان سمیت خاندان کے کل آٹھ افراد ہیں اور ان کے پاس بچی کو بیچنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا تاکہ وہ باقیوں کو زندہ رکھ سکیں۔

صوبے غور میں 10 سالہ بچی کو خاندان کے قرضے ادا کرنے کے لیے ایک 70 سالہ شخص کو فروخت کر دیا گیا۔

آنکھوں میں آنسو لیے ایک بچی نے سی این این کو بتایا: ’میں واقعی میں اسے نہیں چاہتی۔ اگر وہ مجھے بھیجیں گے تو میں خود کو مار لوں گی۔ میں اپنے والدین کو نہیں چھوڑنا چاہتی۔‘

اسی طرح، کابل میں اینٹوں کے ایک بھٹے پر کام کرنے والے فضل نے اپنی 13 اور 15 سالہ بیٹیوں کو ان کی عمروں سے دگنے سے بھی زیادہ بڑے مردوں کے حوالے کرنے کے بعد جہیز میں تین ہزار ڈالرز وصول کیے۔

انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’میرے پاس اپنے خاندان کا پیٹ پالنے اور اپنا قرض ادا کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ میں اور کیا کر سکتا تھا؟ مجھے شدت سے امید ہے کہ مجھے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی نہیں کرنی پڑے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر رقم ختم ہو گئی تو انہیں اپنی سات سالہ بیٹی کی شادی بھی کرنی پڑ سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان کے حکومت کے اعلان سے پہلے افغانستان میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 16 سال تھی جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ 18 سال سے کم تھی۔

لیکن جنوبی ایشیائی ملک میں افغان حکومت کے خاتمے کے بعد بچوں کی شادیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حقوق نسواں کی کارکن وظمہ فروغ کا کہنا ہے کہ وہ ہر روز کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کے کیسز سن رہی ہیں اور انہوں نے قیاس آرائی کی کہ ان کم سن دلہنوں کو بلوغت تک پہنچنے سے پہلے ہی جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

انہوں نے رویٹرز کو بتایا کہ ’یہ کہانیاں سن کر میرا دل مفلوج ہو گیا.. یہ شادی نہیں ہے۔ یہ بچیوں کا ریپ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بھوک کی وجہ سے کیسز کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کے پاس کچھ نہیں ہے اور وہ اپنے بچوں کو کھلا نہیں سکتے۔ یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور مذہب میں اس کی اجازت نہیں ہے۔‘

کم از کم 22.8 ملین افغان جو ملک کی نصف سے زیادہ آبادی ہے، سیاسی بحران اور ملکی معیشت کے زوال کی وجہ سے فاقہ کشی کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل اکتوبر میں ورلڈ فوڈ پروگرام نے ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر ان کا علاج نہ کیا گیا تو 10 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کے سبب موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

موسم سرما کے آغاز کے ساتھ 2022 کے وسط تک 97 فیصد گھرانے غربت کی لکیر سے نیچے آ سکتے ہیں۔

اسلام پسند گروپ کی اچانک اقتدار میں واپسی کے بعد سے امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے تقریباً ساڑھے نو ارب ڈالرز کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں اور طالبان کو رقم تک رسائی سے روکنے کے لیے نقد رقوم کی ترسیل بھی روک دی ہے۔

افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ وہ بھارت سے خوراک کی امداد کی نقل و حمل کی اجازت دینے کے ساتھ افغانستان کو خوراک اور دیگر انسانی امداد کی مد میں 28 ملین ڈالرز فراہم کرے گا۔

ستمبر میں بین الاقوامی برادری نے جنیوا میں ایک کانفرنس میں افغانستان کی مدد کے لیے 1 ارب ڈالرز سے زیادہ کا وعدہ کیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا