ٹرمپ کے خلاف برطانیہ میں ’مزاحمت کا جشن‘

امریکی صدر کے دورے پر ہزاروں ناخوش شہری لندن کے ٹریفالگر سکوائر میں مزاحیہ اور بعض غیر شائستہ پوسٹرز لیے موجود۔

ٹرمپ برطانوی عوام میں سب سے زیادہ جانے جانے والے لیکن سے کم پسند کیے جانے والے غیر ملکی سربراہ  ہیں (روئٹرز) 

منگل کو لندن میں ہزاروں افراد کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔ مظاہرین کی جانب سے ٹریفالگر سکوائر میں مزاحیہ اور بعض غیر شائستہ الفاظ پر مبنی پوسٹرز لہرائے جا رہے ہیں  جہاں سے کچھ دور وزیر اعظم ٹریزا مے ٹھیک اسی وقت ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہی تھیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق احتجاج کے دوران میلے کا سماں ہے  اور اس احتجاج کو منتظمین کی جانب سے ’مزاحمت کے جشن‘ کا نام دیا  جارہا ہے، لیکن گذشتہ سال کی نسبت اس بار احتجاج کرنے والوں کی تعداد خاصی کم تھی۔

ٹرمپ برطانوی عوام میں سب سے زیادہ جانے جانے والے لیکن سے کم پسند کیے جانے والے غیر ملکی سربراہ  ہیں۔ مارکٹ ریسرچ کمپنی  یو گوو کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں ٹرمپ کے بارے میں مثبت رائے کی شرح صرف 21 فیصد ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح اور کم ہو کر 14 فیصد تک رہ جاتی ہے۔

اپوزیشن لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن نے بھی احتجاج سے خطاب کیا۔

مظاہروں کا مزاج  ’ڈمپ ٹرمپ‘ کے نام سے امریکی صدر کے  ایک 16 فٹ اونچے پتلے کو دیکھ کر اخذ کیا جا سکتا ہے جو کہ ایک سنہری ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھا ٹویٹ کر رہا ہے اور اس کے پتلون ٹخنوں تک گری ہوئی ہے۔ 

پتلے میں سے ٹرمپ کی آواز میں ان کی جانب سے بار بار کہے جانے والے مختلف الفاظ  بھی سنائی دے رہے  ہیں۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق، یہ پتلا امریکی سائنس لکھاری ڈان لیسم نے بنایا ہے جن کا کہنا ہے کہ انہوں اس پر اپنی جمع پونجی میں سے 25 ہزار ڈالرز خرچ کیے۔

لیسم  نے کہا :’میں برطانیہ آیا ہوں کیونکہ آپ لوگ احتجاج کر سکتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں امریکی بھی ایسا کریں۔ ٹرمپ کو کہیں بھی خوش آمدید نہیں کیا جاتا۔ وہ پناہ گزین بچوں کو پنجروں میں ڈالتے رہے ہیں۔ وہ جمہوریت کا احترام نہیں کرتے۔ وہ ایک آمر بن سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ڈمپ ٹرمپ‘ کے بارے میں انہوں نے کہا: ’میرا روبوٹ ان سے زیادہ متوازن اور عقلمند ہے۔‘

پچھلے سال کی طرح اس سال بھی ٹرمپ کا ’بے بی بلمپ‘ بھی مظاہرے میں دیکھا گیا جو کہ ٹرمپ کی صورت میں پیمپر پہنے، سمارٹ فون اٹھائے ایک  چھوٹے بچے کا بڑا سا غبارہ ہے۔ یہ غبارہ کچھ دیر پارلیمنٹ سکوائر پر اڑایا گیا  اور پھر اتار لیا گیا۔

مظاہرے میں شامل بریگزٹ کے مخالف گروپ ’لیڈ بائے ڈانکیز‘ کی جانب سے لندن کے تاریخی مقامات پر خاکے بھی آویزاں کیے جا رہے ہیں۔

ایک خاکے میں ٹرمپ اور سابق امریکی صدر اوبامہ کی برطانیہ میں مقبولیت کا تقابل کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو برطانیہ میں اپنی کم مقبولیت سے آگاہ کرنا ہے۔

اسی طرح پوسٹرز پر درج نعرے کچھ یوں ہیں :’ ٹرمپ، باہر رہو۔ ہم اپنی سیاست کو گندا کرنے کے لیے خود کفیل ہیں ‘، ’ آپ نسل پرستی پر قابو نہیں پا سکتے‘ اور ’ ٹرمپ کو ٹاور میں قید کر دو۔‘

مظاہرے میں شامل 23 سالہ مارکیٹنگ مینیجر اینا فینٹن نے روئٹرز کو بتایا : ’70 سالہ ٹرمپ ایک احمق انسان ہیں جو ساری عمر ایک مراعات یافتہ زندگی جیے ہیں۔ میں ٹرمپ کے خلاف ان لوگوں سے یکجہتی کے لیے احتجاج کر رہی ہوں جو ٹرمپ کی پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہیں  جن میں خواتین، ہم جنس پرست افراد اور ٹرانسجینڈر لوگ شامل ہیں۔‘

کئی ہزار افراد پر مشتمل یہ احتجاج جولائی 2018 میں ٹرمپ کے پہلے دورہ برطانیہ کے دوران کیے جانے والے احتجاج سے تعداد میں کافی کم تھا۔

کچھ جگہوں پر ٹرمپ کے حق میں بھی لوگوں کو نکلتے دیکھا گیا۔ چند حضرات کی سرخ ٹوپیوں پر ٹرمپ کا مشہور نعرہ ’امریکا کو دوبارہ عظیم بناؤ‘  تھا۔ ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے خلاف کیے جانے والے احتجاج برطانیہ کے سب سے بڑے اتحادی کی توہین ہیں۔

ٹرمپ کے خلاف احتجاج میں شریک گروپ ’سٹاپ ٹرمپ کولیشن‘ کے منتظم اسد رحمان  نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا:  ’برطانوی حکومت کی جانب سے ٹرمپ کے لیے سرخ قالین بچھانا ایک غلطی ہے۔‘

اسد رحمان کا کہنا  تھا: ’یہ لوگ کسی فرد کے خلاف احتجاج نہیں کر رہے بلکہ ان کا احتجاج ان پالیسیز کے خلاف ہے جن کی ٹرمپ نمائندگی کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس سیاست کو معمول کی بات بنانا ایک بنیادی غلطی ہے۔‘ 

وہ ایک بڑی تعداد کی احتجاج میں شرکت کے لیے پرامید ہیں اور اس بارے میں کہتے ہیں : ’ ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہیں اور ہم اس بارے میں بلند معیار قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘ پولیس کے مطابق احتجاج میں دس ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا