طالبان سے دہشت گردی سمیت دیگر معاملات پر بات ہوئی: امریکہ

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق امریکی حکام نے ملاقات میں طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے کسی قسم کی دہشت گردی نہ ہونے دیں اور افغان عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہ کریں۔

افغان وفد میں شامل  شہاب الدین دلاور (بائیں)، امیر خان متقی (درمیان)اور خیر اللہ خیرخواہ (دائیں) 12 اکتوبر 2021 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غیر ملکی سفارت کاروں سے ملاقات کے موقع پر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے سینیئر نمائندوں کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دہشت گردی سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی گئی۔

محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ٹام ویسٹ کی قیادت میں امریکی وفد نے پیر اور منگل کو دوحہ میں طالبان سے بات چیت کی۔

اعلامیے کے مطابق امریکی حکام نے ملاقات میں طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے کسی قسم کی دہشت گردی نہ ہونے دیں اور افغان عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہ کریں۔

اس کے علاوہ امریکہ اپنے شہریوں اورافغانوں کے بحفاظت انخلا، افغان خواتین، بچوں اور اقلیتیوں کے حقوق کی حفاظت اور یرغمال امریکی شہری مارک فرائریکس کی بحفاظت واپسی پر بھی گفتگو ہوئی۔

امریکی وفد نے افغانستان میں حالیہ موسم سرما میں اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی سے منسلک کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ امریکی پابندیاں افغان شہریوں کی امریکی حکومت سے انسانی امداد حاصل کرنے کی صلاحیت کو محدود نہ کریں۔

نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ نے طالبان کے محفوظ راستہ دینے کے وعدوں کی پیروی کا خیرمقدم کیا اور تمام انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو ضرورت مند افغانوں تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرنے میں بہتری کو تسلیم کیا۔

اعلامیے کے مطابق طالبان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

امریکی حکام نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کی مسلسل موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

امریکی نمائندہ خصوصی نے ٹوئٹر پر کہا: ’دوحہ میں طالبان کے سینیئر نمائندوں کے ساتھ دہشت گردی، محفوظ راستے کی فراہمی، تمام افغانوں کے حقوق اور مارک فرائریکس کی بحفاظت واپسی سمیت پائیدار مفادات پر دو روزہ بین الاجتماعی اجلاس کا اختتام ہوا۔‘

امریکی وفد نے طالبان رہنماؤں کے حالیہ بیانات کا خیر مقدم کیا، جس میں ہر سطح پر خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کی حمایت کا اظہار کیا گیا اور اس عزم کو ملک بھر میں نافذ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

طالبان نے تعلیم تک مکمل رسائی پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کا اظہار کیا اور لڑکیوں کے سکول میں داخلے کے لیے پیش رفت کی تصدیق اور نگرانی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی اعلامیے میں کہا گیا کہ طالبان نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کی درخواست کی۔

امریکی حکام نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور طالبان پر زور دیا کہ وہ تمام افغانوں کے حقوق کا تحفظ کریں، عام معافی کی اپنی پالیسی کو برقرار رکھیں اور اسے نافذ کریں۔ اس کے علاوہ ایک جامع اور نمائندہ حکومت بنانے کے لیے اضافی اقدامات کریں۔

امریکی اعلامیے کے مطابق یہ ملاقات اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر افغانستان پر عملی سفارت کاری کے تسلسل کا حصہ ہے۔

طالبان کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقادر بلخی نے بھی گذشتہ روز امریکہ کے ساتھ ہونے والے ان مذاکرات کے حوالے سے ٹویٹ کی تھی۔

انہوں نے لکھا تھا: ’افغان وفد نے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کی سربراہی میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹام ویسٹ اور دیگر محکموں کے وفود میں شامل مندوبین کے ساتھ دو روزہ تفصیلی مذاکرات منعقد کیے۔‘

15 اگست کو اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور رواں برس نو اور 10 اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا جبکہ ٹام ویسٹ نے بھی نومبر میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے دوران طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا