اگلی نسل چمپینزی ہوگی یا روبوٹ؟

ماں باپ کی تربیت والی اکیڈمی اب مستقل بنیادوں پہ بند ہے، گھر میں بزرگوں کے دم سے جو دعا، سلام، آداب کی تربیت ہو جایا کرتی تھی اس کے زمانے لدھ گئے، سکول جو تعلیم دیتے تھے وہ بزنس بن گئے۔ ایسے میں قصور اگلی نسل کا تو نہیں۔

اب بچوں میں اینگر اور اینگزائٹی عام علامات ہیں۔ بچوں کے ماہرین نفسیات کے ساتھ کبھی نشست رکھیں تو علم ہو(فائل فوٹو:اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

 


سوشل میڈیا پر بچوں کی اٹھکیلیوں کی لاکھوں ویڈیوز موجود ہیں۔ صرف یوٹیوب پہ ریکارڈ توڑ مقبول ویڈیوز جنہیں دیکھنے والے کئی کئی لاکھ ہیں وہ بھی بچوں کی شوخی شرارت کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں موجود بچوں کی عمر کے حساب سے سوچیں جب آپ اس عمر کے تھے تو کتنے بدھو ہوا کرتے تھے۔

نومولود بچے جن کی مائیں بھی شاید ابھی ہسپتال کے بستر سے نہیں اٹھیں وہ بھی موبائل کیمروں کو دیکھ کر ایسے ایسے پوز دے رہے ہیں کہ جیسے تربیت یافتہ ماڈل کا فوٹو شوٹ ہو۔ یہاں ہم اپنی یونیورسٹی کے دنوں کی تصاویر دیکھ کر دل گرفتہ ہیں کہ اس وقت ہماری عقل سلیم کہاں تھی۔

بڑی بوڑھیاں ننھے بچوں کی ایسی پکی پیسی شکلیں دیکھ کر توبہ کرتی ہیں کہ ہمارے وقت کے نومولود بچے تو کئی کئی ہفتے آنکھ نہیں کھولتے تھے، بس دودھ پیا اور سوگئے یہ کس نسل کے بچے ہیں جو کیمرے کو ٹُکر ٹُکر تک رہے ہیں۔

سال بھر کے ننھے میاں پنگوڑے میں جھول گئے تو نیند لے لی، تیل کی مالش ہو تو نیند بھر لی، گھر والوں کی گود میں کچھ کھیل لیے تو بہل گئے، پہلے یہی کچھ ہوتا تھا نا۔ اب آٹومیٹک جھولے میں لیٹے شہزادے کے ہاتھ میں فارمولا دودھ کی بوتل ہے اور یوٹیوب کی لوریاں۔

اب ذرا وہ وقت سوچیں جب بچپن میں کمبخت یہ بھی نہیں پتہ ہوتا تھا کہ کس نوٹ کی کیا قدر ہے، کتنے روپے زیادہ ہوتے ہیں، کتنے پیسوں میں کیا آئے گا۔ عیدی تک تو جمع کرکے اماں ابا کو تھما دیا کرتے تھے، اب بچوں کو روپے پیسے، چھوٹا نوٹ بڑا نوٹ، سیونگ یہاں تک کہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے فرق کا بھی علم ہے۔

کچھ ہی عشروں کا تو فرق ہے جب تہواروں پہ نئے کپڑے بنتے تھے، جو رنگ جو کپڑا جو ڈیزائن امی نے بنا دیا اسے آنکھوں سے لگا کر، تکیے کے نیچے چھپا کر بڑی حسرتوں سے پہنا جاتا تھا۔ برانڈ کس بلا کا نام ہے، ٹرینڈ کیا چل رہا ہے، رنگ کون سا اِن ہے یہ سب خیال دماغ کے کسی کونے میں نہیں تھے۔ یہاں تک کہ سستے سے سستا کپڑا جوتا یا کھلونا کچھ بھی چل جاتا تھا سب ایک سی خوشی دیتے تھے۔

پہلے کے بچوں کو غصہ کب آتا تھا؟ ذرا ذہن پہ زور ڈالیں بچپن کا کوئی ایسا واقعہ جب آپ یا آپ کے ارد گرد کسی بچے نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا ہو؟ ویسے کھیل کھیل میں مار پیٹ دھکا مکا تو چلتا رہتا ہے مگر سنجیدہ نوعیت کا غصہ کیا اتنا ہی عام تھا جتنا اب ہے؟ اب بچوں میں اینگر اور اینگزائٹی عام علامات ہیں۔ بچوں کے ماہرین نفسیات کے ساتھ کبھی نشست رکھیں تو علم ہو۔

اپنے لاڈلوں کے سامنے بےبس مائیں بھی جھینپ جھینپ کر شیخی بھگارتی ہیں کہ ’مُنا اب تک ایک ٹیبلٹ اور دو موبائل توڑ چکا ہے، کیا کریں ان کے بابا پھر دلا دیتے ہیں، یہ موبائل کے بغیر رہتا بھی تو نہیں۔‘

تعلیم میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ سکول، بستہ، جیومیٹری باکس، کلاس، ٹیچر، سکول وین بس یہی تعلیمی زندگی کے اسباب تھے۔ نہ اورنج ڈے ہوتا تھا نہ ریڈ ڈے۔ نہ کبھی امی نے پینگوئن بنا کر سکول بھیجا نہ کبھی سکول سے سورج مکھی بنانے کا آڈر ملا۔ زیادہ سے زیادہ سکول کے فنکشن ہوئے تو نعت پڑھ لی، کوئی ملی نغمہ سنا دیا یا پھر ثقافتی لباس پہن کر خوش ہولیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب سپائیڈر مین کا روپ دھارنا ہے، سالگرہ پہ ویڈیو گیم کی نئی ریلیز چاہیے، کھلونا ریموٹ کنٹرول سے چلتا ہو، کپڑے کسی چمکتے ہوئے شو روم سے لیے جائیں اور جوتے سے لائٹ نکلے، اس سے کم پہ نو کمپرومائز۔

ایسے مطالبات، ایسی خواہشات، ایسی ضدیں دیکھ دیکھ کر دل کڑھتا ہے کہ ہم تو اپنے بچپن میں اپنے والدین کو بڑے سستے پڑ گئے۔ کپڑے بڑے بہن بھائیوں کے چلا لیے، سکول کے کالے جوتے ہر تقریب میں رگڑ لیے اور چھم چھم، پِٹھو، گلی ڈنڈا جیسے سستے کھیل کھیل لیے۔

اب بچے یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ان کا سکول کتنا مہنگا ہے، ان کا کلاس فیلو کس گاڑی میں روز سکول آتا ہے، لنچ باکس میں کیا لاتا ہے، اس کے پاس ڈیجیٹل گیمز کون کون سے ہیں، گڑیا تو ہے مگر اس میں چلنے پھرنے، بات کرنے کے کتنے آپشن ہیں۔ چھٹی پہ گھومنے کہاں گئے، کس مہنگے ریستوران سے کھانا کھایا وغیرہ۔

بچوں کی آپس میں باتوں سے بچپنا کم ہو رہا ہے۔ اب بھولی بھالی باتوں کی جگہ مادیت پسندی نے لے لی ہے۔ ہے تو بڑی عمومی سی بات مگر اتنی ڈھیر ساری سیاسی، معاشرتی اور معاشی الجھنوں میں یہ عام سی چھوٹی چھوٹی باتیں نظر انداز ہوتے ہوتے بذات خود ایک الجھن بن رہی ہیں۔

ماں باپ کی تربیت والی اکیڈمی اب مستقل بنیادوں پہ بند ہے، گھر میں بزرگوں کے دم سے جو دعا، سلام، آداب کی تربیت ہو جایا کرتی تھی اس کے زمانے لدھ گئے، سکول جو تعلیم دیتے تھے وہ بزنس بن گئے۔ ایسے میں قصور اگلی نسل کا تو نہیں۔

زیادہ کچھ تو نہیں ہوگا بس یہی ہوگا کہ یا تو اگلی نسل کے بچے دنیا و مافیا سے بے خبر چمپینزی بن جائیں گے یا جذبوں، انسانی قدروں سے عاری روبوٹس۔ آپ بس اپنا موبائل چارج رکھیں بےبی کے رونے پہ کرسٹل کوئین والی ویڈیو ہی کام آئے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ