دل پشوری کیفے جہاں کرونا کے دوران بجلی کا بل گاہکوں نے بھرا

پشاور کا ایک ایسا کیفے جہاں کھانے پینے کے ساتھ نوجوانوں کے لیے گانا گانے کا بھی اہتمام ہے۔ کیفے کے مالک نے بتایا کہ کرونا میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اسے بیچنے کا سوچ لیا لیکن تب ان کے گاہک سامنے آئے اور کہا ’ارسلان بھائی، آپ بے فکر ہو جائیں۔‘

دنیا بھر کے اچھے کیفے اور ریسٹورینٹس میں مہمان کھانا کھانے کے ساتھ لائیو میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسی طرح پشاور شہر بھی کسی سے کم نہیں جہاں محمد ارسلان شاہ نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر پشاور کی دلہ زاک روڈ پر ایک چھوٹا مگر پر کشش کیفے بنایا جس کا نام بھی دل پشوری رکھا ہے۔

اس کیفے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کھانے پینے کے ساتھ ساتھ موسیقی کے شوقین نوجوان یہاں آتے ہیں اور خوب جیمنگ کرتے ہیں۔ 

محمد ارسلان خود بھی گلوکار ہیں بلکہ گانوں کی شاعری لکھنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

اسی لیے دور دراز سے لڑکے دن بھر کا کام ختم کرنے کے بعد یہاں گانے بجانے اور موسیقی کو بہتر بنانے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ارسلان شاہ کہتے ہیں کہ ’اس کا نام ہم نے دل پشوری رکھا ہوا ہے۔ ایسی جگہ میرے خیال میں پشاور میں کہیں نہیں ہے۔ جہاں لائیو میوزک کا کوئی سین ہو۔ جہاں لڑکے خود آ کر حصہ لے سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارسلان بتاتے ہیں کہ اس کیفے کے آغاز میں تو ریسپانس کافی اچھا رہا لیکن کرونا کے دنوں میں اس کیفے کو کافی برے دنوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کا خرچہ پورا کرنا محال ہوگیا تھا۔ ارسلان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں نے اپنے بچے کی طرح پلنے کے والے اس کیفے کو بیچنے کا سوچ لیا اور سب کچھ خدا پر چھوڑ دیا لیکن اللہ نے بہت مہربانی کی۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ شاید یہ کبھی کسی نے نہ سنا ہو گا کہ ہمارے گاہکوں نے ہی ہماری دکان کی بجلی کا بل ادا کیا اور کہا کہ ارسلان بھائی آپ بس اس کو چلائیں اور بے فکر ہو جائیں۔‘

موسیقی سے لگاؤ میں ارسلان اور ان کے دوستوں کی مثال نہیں ملتی۔ اس سوشل میڈیا کے دور نے ان کے شوق اور محنت کو پوری دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

پشتو گانے تو بہت ہیں لیکن 17 ملین ویوز حاصل کرنے والے ارسلان اور ان کا بینڈ یوٹیوب پر ہٹ ہے۔ 

ارسلان کہتے ہیں کہ ’میرے دوستوں کا شکریہ جنہوں نے میرے ساتھ مل کر نہ صرف یہ کیفے بنایا، چلایا اور ساتھ کھڑے رہے بلکہ میرے شوق میں بھی میرا ساتھ دیا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ خود کامیاب ہو کر اب اس کیفے کو بھی کامیاب بنائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا