متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی مشیر کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات

شیخ طحنون بن زاید آل نہیان یہ دورہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی کی سرکاری دعوت پر کر رہے ہیں، جو ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے نمائندے بھی ہیں۔

چھ دسمبر 2021 کی اس تصویر میں  متحدہ عرب امارات   کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید آل نہیان تہران میں اپنے ہم منصب علی شمخانی سے ملاقات کے موقعے پر (فوٹو: اےا یف  پی)

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید آل نہیان نے پیر کو تہران میں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی سے ملاقات کی، جس کا مقصد دیرینہ اختلافات کا حل اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔

شیخ طحنون بن زاید آل نہیان یہ دورہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی کی سرکاری دعوت پر کر رہے ہیں، جو ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے نمائندے بھی ہیں۔ایران کی نور نیوز نے رپورٹ کیا کہ شیخ طحنون، جو متحدہ عرب امارات کے شہزادہ ولی عہد محمد بن زید کے بھائی بھی ہیں، نے باہمی تعلقات بڑھانے اور خطے کے مسائل پر ایران کے اعلیٰ ترین سکیورٹی عہدیدارعلی شمخانی سے بات کی۔
سٹیٹ ٹی وی کے مطابق، شمخانی کے کا کہنا تھا: ’استحکام اور سکیورٹی صرف مسلسل ڈائیلاگ اور مفاہمت سے خطے کے ممالک میں فروغ پاسکتا ہے۔‘
 انہوں نے مزید کہا، ’ایران کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں سے معاشی تعلقات میں بہتری، تجارت اور سرمایہ کارانہ تعلقات ہیں۔‘
شمخانی کا کہنا تھا، ’خطے کے چند سکیورٹی اور فوجی بحران کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ مسائل کے حل کے لیے ڈائیلاگ کوفوجی حکمت عملی کی جگہ لینی ہوگی۔‘

2019 میں، خلیج کے پانیوں اور سعودی توانائی کےانفراسٹرکچر پر حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا تھا۔

سعودی عرب نے ایران کے ساتھ براہراست بات چیت اپریل میں شروع کی، جن کو ریاض ’خوش آئند‘ مگرشروع کے مراحل میں جانچتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، شمخانی سے ملاقات میں، شیخ طحنون نے کہا، ’ ابوظہبی اور تہران کے درمیان گرمجوشی اور برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا متحدہ عرب امارات کی ترجیحات میں شامل ہے۔‘

سٹیٹ ٹی وی کے مطابق، شیخ طحنون نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ملاقات کی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق، امریکی پابندیوں کی وجہ سے تیل کی درآمد میں انتہائی کمی اور اس کے نتیجے میں بین القوامی کاروبار میں تنزلی کے باعث دبئی کو تجارتی پارٹنر کے طور پر کھو نہیں سکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید آل نہیان نے ہی گذشتہ ماہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید بن سلطان آل نہیان کے دورہ انقرہ کی راہ ہموار کی تھی۔

انہوں نے گذشتہ دو سالوں سے ترکی اور ایران کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو بحال کرنے کے لیے پس پردہ کام کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شیخ طحنون بن زاید آل نہیان نے یہ دورہ ویانا میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے چند دن بعد کیا ہے، جس کا مقصد ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے کو بچانا ہے۔ امریکہ تین سال قبل اس معاہدے سے نکل گیا تھا اور تہران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ایران کے ساتھ  ایک صدی سے زائد پرانے تعلقات کے علاوہ، خلیج کے پار 150 کلومیٹر کے فاصلے پرواقع دبئی طویل عرصے سے دنیا کے ساتھ رابطے کے لیے ایران کا اہم ذریعہ رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا