او آئی سی افغان مسائل کے حل کے لیے کتنا موثر کردار ادا کر سکتی ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے عالمی اور علاقائی امور کے ماہرین سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ آج ہونے والا او آئی سی اجلاس افغان مسائل کے حل میں کتنا کارآمد ہو سکتا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم  وزرائے خارجہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں  شروع ہو رہا ہے(شاہ محمود قریشی/ ٹوئٹر)

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کا اجلاس آج شروع ہونے جا رہا ہے۔

 اجلاس میں اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ سمیت یورپی یونین کے نمائندے، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی  سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان شریک ہوں گے۔

اس ضمن میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ او آئی سی افغانستان میں درپیش مسائل کے حل کے لیے کتنا موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے بین الااقوامی اور علاقائی معاملات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا ہے کہ ’مسلمان ممالک افغانستان میں جاری انسانی و معاشی بحران کے حل کے لیے ایک مشترکہ فنڈ قائم کر سکتے ہیں، جس سے جنگ زدہ ملک کے عوام کے مسائل کسی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔‘

اس اجلاس کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان عوام کی تکالیف دور کرنے کے لیے دنیا میں وسائل کی کمی نہیں۔ ’اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بین الاقوامی ماحول میں یہ وسائل کس طرح افغانستان کے لوگوں تک پہنچائے جائیں۔‘

ان کے خیال میں ’او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا غیر معمولی اجلاس طلب کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہت ہی مثبت قدم ہے، جو افغان عوام کے آواز اور ان کی تکالیف کی شدت کو دنیا تک پہنچانے کا بہترین موقع ثابت ہو گا۔‘

انہوں نے کہا: ’افغان عوام کی فوری مدد کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ او آئی سی کل کے اجلاس میں ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرے، جس سے جنگ زدہ ملک کے معاشی و انسانی بحران کے حل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

’ضروری نہیں کہ وہ فنڈ طالبان حکومت کے حوالے کیا جائے، بلکہ اسے براہ راست افغان عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مسلمان ممالک اس فنڈ میں اپنا اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس سے مغربی دنیا پر بھی افغانستان سے متعلق ایک مثبت اثر پڑے گا۔‘

سکیورٹی اور افغان امورکے ماہر بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے بھی اجلاس میں شرکت کرنے والے مسلمان ممالک پر افغانستان کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت افغانستان میں عوام کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ خوراک کا ہے جس کے لیے انتظامیہ کو پیسوں کی ضرورت ہے۔‘

ان کے مطابق ’مسلمان ممالک افغانستان کے لیے فنڈ قائم کر کے وہاں کے مجبور عوام کی مدد کر سکتے اور انہیں بہت بڑے المیے سے بچا سکتے ہیں۔‘

بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ ’او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس افغان طالبان کو ایک موقع فراہم کرے گا کہ وہ دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کریں، اور اپنی عوام کے مسائل سے اقوام عالم کو باخبر کریں۔‘

پروفیسر رفعت حسین کا کہنا تھا کہ ’او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے نتیجے کا انحصار اس میں کیے جانے والے پیپرز پر ہو گا۔ دیکھنا ہو گا کہ کتنے بہتر انداز میں افغان عوام کا کیس پیش کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے پاکستان نے مثبت کوشش کی تاہم اس کے نتائج اسلام آباد کے ہاتھ میں نہیں۔‘

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق امریکی عوام افغانستان کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن انتظامیہ کو اس پر قائل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ اسی صورت ممکن ہے کہ واشنگٹن کو احساس دلایا جائے کہ افغانستان میں بحران کی شدت ساری دنیا کے لیے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اتوار کے اجلاس کا نتیجہ طالبان حکومت کا قبول کیا جانا نہیں ہو سکتا، تاہم اس کانفرنس کا فائدہ ضرور ہو گا جو طالبان حاصل کر سکتے ہیں۔‘

بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کا کہنا تھا کہ ’اجلاس کو امریکہ اور مغرب پر طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر زور دینا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’امریکہ اپنے مفاد کے لیے طالبان کے ساتھ معاہدہ کر سکتا ہے تو افغان عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کی خاطر موجودہ کابل انتظامیہ سے تعاون نہ کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔‘

عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اگست کے وسط میں طالبان کی طرف سے اقتدار سنبھال لینے کے بعد عالمی برادری نے کابل میں طالبان کی نئی انتظامیہ پرپابندیاں عائد کر دی تھیں۔

امریکہ اور امداد دینے والے دوسرے اداروں نے طالبان حکومت کی وہ مالی امداد فوری طور پر بند کر دی جس پر افغانستان 20 سالہ جنگ کے دوران انحصار کرتا آ رہا تھا۔

فغان کرنسی کی قدر میں کمی اور قیمتوں کے آسمان کو چھونے کے ساتھ ساتھ افغانستان کی مالی بحران نے شہریوں کو خوراک اور دیگر ضروری اشیا کے لیے رقم جمع کرنے کی خاطر گھریلو سامان بیچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ شہری یعنی 55 فیصد کے لگ بھگ آبادی شدید بھوک کا شکار ہو سکتی ہے۔

غربت کے شکار اور سمندر سے محروم ملک میں سردی بڑھتے ہی 90 لاکھ لوگ قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا