بنوں کا کپڑا دنیا بھر میں مشہور کیوں؟

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں گذشتہ چھ دہائیوں سے قائم بنوں وولن مل کا کپڑا پاکستان سمیت پوری دنیا میں درآمد کیا جاتا ہے۔

بنوں وولن مل ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری  فلک ناز نے بتایا کہ زیادہ تر اچھی کوالٹی کا  کپڑا بیرون ممالک سپلائی کیا جاتا ہے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

یوں تو جب پاکستان میں کپڑے کی بات کی جاتی ہے تو کراچی کا نام ذہن میں آتا ہے تاہم خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں گذشتہ چھ دہائیوں سے قائم بنوں وولن مل کا کپڑا پاکستان سمیت پوری دنیا میں درآمد کیا جاتا ہے، جس کی کوالٹی مل انتظامیہ کے مطابق پاکستان میں اعلیٰ کوالٹی کے اونی کپڑوں میں سے ایک ہے۔

بنوں وولن مل کی بنیاد 1953 میں رکھی گئی تھی اور یہ پاکستان کی سب سے پرانی وولن انڈسٹری ہے۔ مل کی ویب سائٹ کے مطابق 1964میں اس مل کو معروف صنعت کار لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) حبیب اللہ خان خٹک نے خریدا تھا جہاں اب 600 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں۔

مل میں ٹویڈ، بلیزر، ویلور سپیرئیر اور بیما سمیت کپڑے کی مخلتف قسمیں سردیوں کے لیے تیار کی جاتی ہیں جب کہ شال وغیرہ بھی اسی مل میں تیار کی جاتی ہے۔

بنوں وولن مل ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری  فلک ناز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مل میں روئی آسٹریلیا سے منگوائی جاتی ہے اور کچھ مال مقامی سپلائی سے منگوایا جاتا ہے جس سے دھاگہ بنتا ہے اور اس کے بعد ایک لمبے طریقہ کار سے گزر کر کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔

دھاگے سے کپڑا بنانے تک کا مرحلہ

انہوں نے بتایا کہ مل کے اندر کپڑا بنانے کے لیے تقریباً 15 مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن میں روئی کو دھونے سے لے کر کپڑے کی پیکنگ تک کا عمل شامل ہے۔

بقول فلک ناز: ’سب سے پہلے روئی کو ایک مشین کے ذریعے دھویا جاتا ہے اور اسے سکھانے کے لیے ایک اور مشین میں ڈالا جاتا ہے۔  پھر گرم ہوا کے ذریعے اسے سکھایا جاتا ہے اور اس کے بعد بلینڈ تیار کیا جاتا ہے اور اس کو کچا دھاگہ بنانے کی مشین میں ڈالا جاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اوون کو جب سکھایا جاتا ہے اور اس کو بلینڈ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد  اس سے ہر قسم کا کچا دھاگہ تیار کیا جاتا ہے۔‘

’کچے دھاگے کو مشین میں ڈالنے کے بعد اسے پکا کرنے کے لیے ایک اور میشن میں ڈال دیا جاتا ہے، جس کے لیے ایک بڑی میشن لگائی گئی ہے۔ پکنے کے عمل کے بعد دھاگے کو رنگ میں ڈال دیا جاتا ہے۔‘

’دھاگے کے گولے بنانے کے بعد اسے بڑے گولے بنانے کے لیے ایک اور مشین میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے بعد فریم میں دھاگے کو چڑھایا جاتا ہے، جہاں کاریگر دھاگوں کو اکٹھا کرتے ہیں تاکہ اس سے ایک فریم بن سکے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اسی مرحلے میں  کوالٹی کے لحاظ سے دھاگے کو الگ کیا جاتا ہے جس میں فائن کوالٹی اور نارمل کوالٹی کا کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کے بعد کپڑے کو رفو کرنے کے لیے ایک اور یونٹ میں لے جایا جاتا ہے جہاں پر کپڑے سے کوئی دھاگہ وغیرہ اگر نکلا ہوا ہوتا ہے تو وہ علیحدہ کرلیا جاتا ہے۔ رفو کرنے کے بعد ایک اور مشین میں اس کپڑے کو دوبارہ دھویا جاتا ہے تاکہ کپڑا نرم ہو جائے۔‘

دھلائی کے بعد کپڑے کو ایک بڑی مشین کے ذریعے استری کیا جاتا ہے اور سٹیم بھی کیا جاتا ہے۔ سٹیم کے بعد کپڑا استری سے نکال کر پیکنگ یونٹ میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر اس کی باقاعدہ پیکنگ کی جاتی ہے اور اس کے بعد اسے مارکیٹ اور بیرون ممالک سپلائی کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بنوں وولن مل میں دو ہزار سے لے کر اچھی کوالٹی کا کپڑا سات ہزار روپے تک دستیاب ہے، تاہم زیادہ تر اچھی کوالٹی کا  کپڑا بیرون ممالک سپلائی کیا جاتا ہے اور وہاں پر اسے پسند بھی کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا