متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید آل نہیان جمعے کو پاکستان کا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد روانہ ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر شیخ محمد بن زاید آل نہیان جمعے کی دوپہر راولپنڈی پہنچے تھے۔ یہ ان کا بطور متحدہ عرب امارات کے صدرِ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کا پہلا دورہ پاکستان: وزیراعظم، فیلڈ مارشل کا استقبال pic.twitter.com/MVkB9DVfTT
— Independent Urdu (@indyurdu) December 26, 2025
وزیر اعظم آفس کے مطابق شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے تعاون کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعدد شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا۔
اس سے قبل ابوظبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے نور خان ایئر بیس پہنچنے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔
اس کے علاوہ نور خان ایئر بیس پہنچنے پر مہمان کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔
اپنے دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کریں کے جس میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی و علاقائی امور پر بھی بات چیت ہو گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سفارتی ماہرین کے خیال میں اس دورے کی خطے میں حالیہ واقعات کے تناظر میں کافی اہمیت ہے۔ تجارت کے علاوہ وہ توقع ہے کہ غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی اور افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحدی کشیدگی کم کرنے پر بھی بات کریں گے۔
رواں برس 12 جون کو وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کا ایک روزہ دورہ کیا تھا۔ معرکہ حق کے بعد یہ دورہ اہمیت کا حامل تھا جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے اماراتی صدر سے ملاقات میں انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی۔
شیخ محمد بن زاید آل نہیان مئی 2022 میں امارات کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ جنوری 2023 میں انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا لیکن وہ رحیم یار خان کا نجی نوعیت کا تھا تاہم وہاں ان کی پی ڈی ایم حکومت کے عہدے داروں کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔
یہ ان کا باضابطہ سرکاری دورہ ہے جس میں دو طرفہ مذاکرات ہوں گے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں جن کی تفصیل آنا ابھی باقی ہے۔
ان کی آمد اور استقبال کے لیے اسلام آباد کو دونوں ممالک کے قومی پرچموں اور رہنماؤں کی بڑی تصاویر سے سجایا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے اس موقع پر مقامی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ سکیورٹی معاملات میں خلل نہ آئے۔۔
میسر معلومات کے مطابق اس موقع پر اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ’امارات کے صدر کے ساتھ وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہو گا۔ دورے کے دوران شیخ محمد بن زاید آل نہیان وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے، جس میں دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔‘
پاکستان کی حدود میں داخل ہونے پر اماراتی صدر کے طیارے کو پاکستان فضائیہ کے طیارے حصار میں لے لیں گے اور انہیں خصوصی گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ’یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ترقیاتی تعاون اور علاقائی استحکام سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے دونوں جانب کے مشترکہ عزم کو اجاگر کرتا ہے۔‘