ہم قائد اعظم کو بس ایک بات پر یاد کرتے ہیں

ہم ہر سرکاری دفتر میں ان کی تصویر لگانا نہیں بھولتے اور اسی سرکاری دفتر میں کام کرنے کے لیے قائد اعظم مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

ہم نے کیا کرنا تھا محمد علی جناح کی باتوں کو۔ ہم نے تو اپنے اوپر سے ذمہ داری اتاری محمد علی جناح کے ساتھ قائد اعظم لگا کر: رضا ہمدانی (اے ایف پی)

قائد اعظم محمد علی جناح تو بس 25 دسمبر کی حد تک رہ گئے ہیں۔ اسی دن ہم ان کی کہی ہوئی باتوں کو دہراتے ہیں اور اگلے روز اپنے کام پر۔

اسلام آباد کی شاہراہ سے گزرتے ہوئے میری نظر ایک بڑے بل بورڈ پر پڑی جو نئے جی ایچ کیو کے اندر لگا ہوا ہے۔

اس پر چند روز قبل تک فاسٹ فوڈ کا اشتہار لگا ہوا تھا لیکن بانی پاکستان کے یوم پیدائش کی مناسبت سے کھانے کے اشتہار کو تبدیل کر کے جناح کے ایک قول کو لگا دیا گیا۔

اس بل بورڈ پر 11 اگست، 1947 میں پاکستان کی آئینی اسمبلی سے صدارتی خطاب ہے، جس میں قائد اعظم نے کہا تھا کہ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ ریاست پاکستان میں آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے یا کسی اور عبادت گاہ جانے کے لیے۔ آپ کسی بھی مذہب یا ذات یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں اس کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔‘

لیکن جناح کو کیا معلوم تھا کہ اسی ریاست کی عدلیہ 2017 میں فیصلہ سناتے ہوئے کہے گی کہ تمام سرکاری ملازمین – بیوروکریسی، عدلیہ، بحریہ، بری فوج، فضائیہ اور دیگر حساس اور اہم اداروں – کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا ایمان ظاہر کریں۔

یعنی جو لوگ مختلف عقائد رکھتے ہیں ان کی نشاندہی کی جا سکے۔ جناح کو کیا معلوم تھا کہ ان کی بنائی ہوئی اس ریاست میں ایک پڑھے لکھے احمدی کو حکومت مذہبی جماعتوں کے دباؤ میں آ کر اس پوزیشن پر نہیں رکھتی جس کے لیے وہ موزوں ترین امیدوار تھے۔

انھیں کیا معلوم تھا کہ اسی ریاست میں ہندو لڑکیوں کا جبری مذہب تبدیل کرایا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق 2013 سے 2019 تک 156 لڑکیوں کا جبری مذہب تبدیل کرایا گیا۔

مندروں اور چرچوں میں جانے کےلیے تو اقلیتیں آزاد ہوں گی لیکن ان سے زیادہ آزاد اکثریت ہو گی جو الزام لگا کر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نذر آتش کر دیتے ہیں یا ایک مذہبی جماعت کا رہنما نفرت انگیز تقریر کرتا ہے اور ہجوم کو مندر پر حملہ کرنے کو کہتا ہے۔

بانی پاکستان کی سوچ میں بھی نہ آیا ہو گا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب یہی ریاست اقلیتوں کو مارجنلائز کرے گی۔ ریاست اقلیتوں کی قابلیت اور میرٹ کو نظر انداز کر کے پہلے ان کے عقیدے اور مذہب کو دیکھے گی۔

ہم نے محمد علی جناح کے کہے ہوئے پر کہاں چلنا ہے۔ ہم تو ان کے کہے ہوئے کو اپنے مفاد کے لیے آگے پیچھے کر دیتے ہیں۔ جناح نے لاہور میں 30 اکتوبر، 1947 کو کہا تھا ’اتحاد، تنظیم، یقین‘۔  

ان کے اس قول کی ترتیب دسمبر 1976 تک یہی رہی جب جناح کے یوم پیدائش کے سو سال ہونے پر خصوصی کوائن کا اجرا ہوا، لیکن اگلے ہی سال اس کی ترتیب تبدیل کر دی گئی۔

فوجی آمر کو جب جناح کے اقوال میں سے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کو کچھ نہ ملا تو جنرل ضیا الحق نے اس کو ’یقین، اتحاد، تنظیم‘ میں بدل دیا۔

ہم بھول گئے کہ بانی پاکستان نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ کسی مبالغے میں نہ رہنا: پاکستان تھیوکریسی یعنی مذہبی حکومت یا اس سے ملتی جلتی ریاست نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم نے اس کو کیا بنا دیا۔ مذہب کے نام پر قتل و غارت ہوتی ہے، مذہب کے نام پر کسی دوسرے عقیدے والے کو کافر قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔

ہم نے کیا کرنا تھا محمد علی جناح کی باتوں کو۔ ہم نے تو اپنے اوپر سے ذمہ داری اتاری محمد علی جناح کے ساتھ قائد اعظم لگا کر۔

ہم نے تو محمد علی جناح سے پہلے قائد اعظم لگاتے ہوئے بھی ان کی اس بات کو نظر انداز کردیا کہ انھوں نے خود کہا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی جناح کے طور پر گزاری اور امید کی کہ میں مروں بھی صرف جناح کے طور پر۔

’مجھے سخت ناپسند ہے کسی قسم کا ٹائٹل یا لقب اور مجھے بہت خوشی ہو گی کہ میرے نام سے قبل کچھ نہ لگایا جائے۔‘

لیکن ہم نے قائد اعظم کو ایک بات میں ضرور یاد رکھا ہے۔ ہم ہر سرکاری دفتر میں ان کی تصویر لگانا نہیں بھولتے اور اسی سرکاری دفتر میں کام کرنے کے لیے قائد اعظم مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ