1492: جب غرناطہ سے آخری مسلمان حکمران نکلا

سقوطِ غرناطہ دیوار پر لکھی تحریر تھی، جسے جلد یا بدیر پیش آنا تھا۔ اگر ’غدار‘ ابوعبداللہ نہ بھی پیدا ہوا ہوتا تب بھی غرناطہ 1492 میں نہ سہی، پانچ دس برس بعد زیر ہو جاتا۔

غرناطہ کے آخری حکمران ابو عبداللہ آخری بار الحمرا پر نظر ڈالتے ہوئے (مصور:  ایلفریڈ ڈیہوڈنک، پبلک ڈومین)

دو جنوری، 1492: ’الحمرا کی لال دیواروں پر یسوع مسیح کے مقدس پھریرے لہرا رہے  ہیں۔۔۔ مسلم سلطان عمدہ لباس زیبِ تن کیے ستر اسّی شہسواروں کے ہمراہ شاہی جوڑے (فرڈیننڈ اور ازابیلا) کے ہاتھ چومنے نکلا ہے۔

’پسپائی کے معاہدے کے تحت ازابیلا اور فرڈیننڈ ہاتھ چومنے کی پیشکش کو قبول نہیں کریں گے اور غرناطہ کی کنجیاں محمد دوازدہم کے ہاتھوں سے عیسائی ہاتھوں میں منتقل ہو جائیں گی۔

محمد دوازدہم کی بارعب ماں نے اپنے بیٹے کو اس ذلت سے بچانے پر اصرار کرتے ہوئے یہ شق خاص طور پر معاہدے میں شامل کروائی ہے۔

مسلم سلطان کا محبت احترام سے خیرمقدم کیا گیا اور اس کا فرزند اس کے حوالے کیا گیا جسے فرڈیننڈ نے یرغمال بنا کر رکھا ہوا تھا۔

’پھر چار سو کے قریب قیدیوں کا ایک سنجیدہ اور متین جلوس صلیب اٹھائے، مناجاتیں گاتے ہوئے آیا۔ جب شاہی جوڑے نے اپنے گھوڑوں سے اتر کر صلیب کو تعظیم پیش کی تو تمام حاضرین کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔۔۔ وہاں کوئی ایسا شخص موجود نہیں تھا جس کے گالوں پر آنسو رواں نہ ہوں۔

’عیسائی آنکھیں اپنے یسوع مسیح کی ممونیت کے احساس سے نم تھیں، جب کہ سلطان اور اس کے ساتھیوں کی آنکھیں اپنا درد چھپانے سے قاصر تھیں۔ کیوں نہ ہوتیں کہ غرناطہ دنیا میں سب سے ممتاز، سب سے بلند مرتبہ تحفہ ہے۔‘

یہ روداد ایک عینی شاہد نے لکھی ہے اور اس میں واقعے کا ذکر ہے جب غرناطہ نے حکمران محمد ابو عبداللہ نے الحمرا کی کنجیاں حملہ آور فرڈیننڈ اور ازابلا کے حوالے کر کے 781 برس بعد سپین سے مسلم اقتدار کا آخری چراغ بھی بجھا دیا۔

روایت ہے کہ الحمرا کا آخری تاج دار محمد ابو عبداللہ جس دروازے سے گزر کر اجداد کے تعمیر کردہ حرم کی کنجیاں فرڈیننڈ کو پیش کرنے گیا تھا، اس نے درخواست کی تھی کہ اس دروازے کو پاٹ دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی اس سے نہ گزر سکے۔

فرڈیننڈ نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے دروازہ چنوا دیا تھا۔ اس وقت ابو عبداللہ کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی؟ وہی جو آدم کے دل پر جنت سے نکلتے وقت گزری ہو گی۔

نسیم حجازی کے شاہینوں کی پرواز

اگرچہ نسیم حجازی نے پنجابی فلموں سے بڑھ کے بلیک اینڈ وائٹ جذباتیت کے مرقع ناول ’شاہین‘ میں ابو عبداللہ کو نفرت انگیز ولین قرار دے کر سقوطِ غرناطہ کا سارا ملبہ اس پر ڈال دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابو عبداللہ تاریخ کے دھارے کی مخالف سمت میں تیر رہا تھا۔

سقوطِ غرناطہ دیوار پر لکھی تحریر تھی، جسے جلد یا بدیر پیش آنا تھا۔ اگر ’غدار‘ ابوعبداللہ نہ بھی پیدا ہوا ہوتا تب بھی غرناطہ 1492 میں نہ سہی، پانچ دس برس بعد زیر ہو جاتا۔

اگلے چند عشروں کے اندر اندر ہسپانوی ایمپائر دنیا کی پہلی گلوبل سپر پاور کے روپ میں ابھر کر سامنے آ گئی تھی جس کا غلبہ دنیا کے پانچ براعظموں کے وسیع خطوں پر تھا۔ 

16ویں صدی میں اسی ایمپائر کو سپین والے آج تک اپنی تاریخ کا سنہرا دور کہتے ہیں۔ اسی دوران نہ صرف اس ایمپائر نے ایک بڑے خطے پر حکومت کی بلکہ ادب، شاعری، مصوری، تعمیرات اور مجسمہ سازی میں کمال حاصل کیا۔ 

کرسٹوفر کولمبس نے اسی سپین کی سرپرستی میں نیا براعظم دریافت کیا، یہیں سے پہلی بار دنیا کے گرد سفر ہوا۔ 

ایل گریکو اور ویلاسکویس جیسے مصور، ڈان کیخوتے کا مصنف سروانتس اسی دور میں پیدا ہوئے جب کہ اس دوران تعمیر کیے جانے والے کیتھیڈرل آج تک فنِ تعمیر کے شاہکار تسلیم کیے جاتے ہیں۔ 

یورپین استعماریت کی پہلی اینٹ سپین ہی نے رکھی تھی۔ ایسے میں غرناطہ کی چھوٹی سی پسماندہ ریاست بھلا کب تک اس منھ زور سیلاب کے آگے بند باندھ سکتی؟

 ہمارے ’ولولہ انگیز‘ تاریخی ناول نگار یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ غرناطہ کے نصری خاندان کی حکومت کا وجود صرف اور صرف اس لیے تھا کہ وہ قشتالیہ کی باج گزار تھی۔

نہ صرف غرناطہ کے مسلمان نصری حکمران ہر سال باقاعدگی سے خراج دیا کرتے تھے بلکہ برخورداری اور اطاعت گزاری کا ثبوت دینے کے لیے قشتالیہ کی جنگوں میں اپنے سپاہی اور سامانِ رسد بھی بھیجا کرتے تھے۔

حتیٰ کہ 1248 میں جب فرڈیننڈ ثالث نے مسلم اشبیلیہ کا محاصرہ کیا تو الحمرا کے بانی الاحمر نے خود اس جنگ میں پانچ سو منتخب شہسواروں کے ساتھ عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف شرکت کی تھی۔

ٹیکنالوجی کی جنگ

آخر کار جب غرناطہ اور عیسائی مدِ مقابل آئے تو اب یہ وہ پرانی جنگ نہیں رہی تھی۔ زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا اور اب یہ جنگ ٹیکنالوجی کی جنگ تھی۔

فرڈیننڈ کی فوج کے پاس اس زمانے کے لحاظ سے جدید ترین توپیں اور بندوقیں تھیں، جب کہ مسلمانوں کا اب بھی بڑی حد تک انحصار تیر و تبر پر تھا۔

مسلمانوں نے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے جنھیں روایتی محاصرے میں فتح کرنا ناممکن کے قریب تھا، لیکن فرڈیننڈ کے پاس غیرروایتی بارودی توپیں اور پتھر کے گولے برسانے والی توپیں تھیں، جن کے سامنے مسلمانوں کے ’سیسہ پلائے‘ قلعے ریت کے ڈھیر ثابت ہوئے۔

دراصل مسلمانوں کا نہ صرف علمی و سائنسی بلکہ جنگی زوال بھی دو صدیاں پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔

تاریخ دان لکھتے ہیں کہ 1495 میں فرڈیننڈ کے پاس 179 توپیں تھیں، جب کہ غرناطہ کی سلطنت کے پاس عیسائیوں سے چھینی ہوئی ایک آدھ توپ کے سوا کچھ نہیں تھا۔

ملکہ ازابیلا نے بارودی ہتھیاروں کی تیاری پر خاص توجہ دی اور اس مقصد کے لیے اٹلی، جرمنی اور فرانس سے ماہر جنگی انجینیئر منگوائے۔

ہر عیسائی لشکر کے ساتھ توپ ساز اور باردو ساز بھی ہوا کرتے تھے جو نہ صرف خراب توپوں کی مرمت کرتے تھے بلکہ ضرورت پڑنے پر میدانِ جنگ ہی میں نئی توپیں بنا بھی سکتے تھے۔

اس بھاری توپ خانے کو سلطنتِ غرناطہ کے جنگلوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑی علاقوں تک پہنچانا آسان نہیں تھا۔ اس مقصد کے لیے عیسائی لشکر کے جلو میں مزدوروں اور رضاکاروں کا ایک اور لشکر چلتا تھا جو وسیع علاقے میں جنگلوں کو ختم کرتا جاتا اور چھوٹی بڑی پہاڑیوں کو ہموار کر کے ہر طرف سڑکوں اور پلوں کا جال بچھاتا جاتا تھا۔ چنانچہ اب لشکروں، توپ خانے اور رسد کی ترسیل بے حد آسان ہو گئی۔

او مالقہ، کہاں گئی تیرے قلعے کی طاقت؟

سقوطِ غرناطہ سے کچھ عرصہ قبل جب فرڈیننڈ کی فوجوں نے ریاستِ غرناطہ کے شہر مالقہ کا محاصرہ کیا تو شہر روایتی نقطۂ نظر سے ناقابلِ تسخیر تھا۔

فصیلوں کے برج اونچے تھے، مرکزی قلعہ ایک پہاڑی جبل الفارو کے اوپر بنا ہوا تھا، جہاں سے جارح افواج پر تیروں کی بارش کی جا سکتی تھی اور ان پر ابلا ہوا پانی پھینکا جا سکتا تھا۔

لیکن فرڈیننڈ اپنے ساتھ ’سات بہنیں‘ لے کر آیا تھا۔ یہ سات بڑے دہانے کی توپیں تھیں جنہوں نے دن رات گولہ باری کر کے جبل الفارو کو راکھ اور دھویں کا ڈھیر بنا دیا۔ شہر کی ’فلک بوس‘ فصیلوں کے نیچے بارود رکھ کر انھیں اڑا دیا گیا۔

جب فاتح عیسائی افواج نے شہر میں داخل ہو کر تمام مردوں کو غلام اور عورتوں کو کنیزیں بنا کر شہر بدر کر دیا تو مالقہ کی عورتیں گلیوں میں چھاتی کوٹتی ہوئی اور یہ بین کرتی ہوئی جاتی تھیں:

’او مالقہ! او شہرِ جمیل، او قریۂ معتبر! کہاں گئی تیرے قلعے کی طاقت؟ کہاں ہے تیرے برجوں کی ہیبت؟ کس کام کی یہ چوڑی فصیلیں جو تیرے بچوں کو نہ بچا سکیں؟ اب وہ اجنبی زمینوں پر ایک دوسرے کا ماتم کرتے ہوئے جائیں گے، اور غیر ان کی ہنسی اڑائیں گے۔‘

’کیتھولک ملکہ‘ کہلائی جانے والی ازابیلا نے دنیا کی تاریخ میں پہلی بار گشتی جنگی ہسپتالوں کا تجربہ کیا۔ اس کے لشکر کے ساتھ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم چلتی تھی جو زخمیوں کا فی الفور علاج کرتی تھی جس کا خرچ ملکہ اپنی جیب سے ادا کرتی تھی۔ اسی لیے ازابیلا کو ’ہسپتالوں کی ملکہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

’مُور کی آخری آہ‘

خیر، ہم واپس چلتے ہیں ہیں دو جنوری 1492 کے دن کی طرف اور اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس دن ابو عبداللہ کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی۔

عینی شاہدوں کے مطابق ابو عبداللہ کی آنکھیں اس کے بعد بھی خشک نہیں ہوئیں۔ روایت ہے کہ وہ اسی تقریب سے سیدھا اپنے ساتھیوں اور خاندان کے افراد کے ہمراہ غرناطہ سے رخصت ہو گیا۔

جب وہ اس چوٹی تک پہنچا جہاں سے الحمرا کا آخری بار نظارہ کیا جا سکتا تھا تو اس کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو چھلک پڑے۔ اس کی ’بارعب‘ ماں عائشہ اس کے ساتھ تھی۔ اس کے منہ سے نکلا:

ابك اليوم بكا النسا على ملك لم تحفظه حفظ الرجال؟

’جس کا دفاع تم مردوں کی طرح نہ کر سکے اس کے لیے عورتوں کی طرح کیوں ٹسوے بہا رہے ہو؟‘

اگر یہ روایت درست ہے تو پھر اس موقعے پر سلطانِ گریہ کناں کی ماں کی آنکھوں میں خون کے آنسو ہونے چاہیے تھے کیوں کہ یہ عائشہ ہی تھی جس نے بیٹے کو اپنے خاوند ابوالحسن علی کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا۔

پہاڑی کے اس مقام کو ہسپانوی آج بھی ’مور کی آخری آہ‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ سلمان رشدی نے اسی سے تصرف کرتے ہوئے Moor’s Last Sigh نامی ناول لکھا ہے۔

فرڈیننڈ نے ’کمال فیاضی‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابو عبداللہ کو غرناطہ کے جنوبی پہاڑوں میں ایک چھوٹی سی جاگیر عطا کی تھی، لیکن وہ وہاں رکا نہیں اور سیدھا مراکش چلا گیا۔

وہاں پہنچنے سے پہلے اس نے وہاں کے سلطان کو ایک خط لکھا تھا جسے تاریخ دان المقری نے نقل کیا ہے۔ خط کیا ہے، کسمپرسی کا مرقع ہے جس میں ایک طرف گم گشتہ خوئے سلطانی بھی ملحوظ رکھی گئی ہے تو دوسری طرف حریری آستین کے اندر سے دست گدا بھی دراز ہے:

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’صاحبِ قشتالیہ (فرڈیننڈ) نے ہمارے لیے ایک پروقار اقامت کا اہتمام کیا ہے اور خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر تحفظ کی ضمانت دی ہے۔ لیکن بنوالاحمر کے جانشین کی حیثیت سے ہم نے اسے قبول نہیں کیا۔

’خدا پر ہمارا ایقان ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم کفر کی امان میں رہیں۔ ہمیں اطراف و اکناف سے نیک تمناؤں پر مبنی مراسلے موصول ہوئے ہیں جن میں خوش آئند پیش کشیں کی گئی ہیں۔ لیکن ہم اپنے آبا کے وطن کے علاوہ کسی اور خطے کا انتخاب نہیں کر سکتے۔

’ہم صرف اپنے اقربا کی پناہ قبول کر سکتے ہیں۔ مطلب پرستی کے باعث نہیں، بلکہ ہمارے درمیان پائے جانے والے برادرانہ تعلقات کے استحکام کی خاطر، اور اپنے اخلاف کے عہدناموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر، جن میں ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ ہم بنومرین کے علاوہ کسی سے اعانت طلب نہ کریں۔

’اس لیے ہم طویل زمینی مسافت طے کر کے اور تلاطم خیز سمندروں کو عبور کر آئے ہیں، اس امید پر کہ ہمیں واپس نہیں لوٹایا جائے گا، ہماری آنکھوں کو تشفی دی جائے گی اور ہماری روح پر لگے اس عظیم زخم کو مندمل ہونے کے لیے وقت فراہم کیا جائے گا۔‘

یہ عرضی رائیگاں نہیں گئی، کیوں کہ المقری نے رقم کیا ہے کہ ابو عبداللہ مراکشی شہر فاس میں مقیم ہو گیا۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اس کا پاتال جیسا گھاؤ مندمل ہوا یا نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کا خاصی پکی عمر میں، یعنی سقوطِ غرناطہ کے 35 برس بعد انتقال ہوا۔

ایسا لگتا ہے کہ الاحمر خانوادے کے آخری سلطان کو اپنے ساتھ کچھ زیادہ مال و زر لانے کا موقع نہیں مل سکا، کیوں کہ تاریخ دان المقری 1618 میں اس کے پڑپوتوں سے ملا تھا جن کی گزر اوقات ذکوٰۃ و صدقات پر تھی۔

رہے نام اللہ کا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ