کیا مسئلہ کشمیر کی وجہ ایک صحافی بنا؟

1891 میں اگر ایک ہندوستانی اخبار میں ایک خبر نہ چھپتی تو غالب امکان ہے کہ آج کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا اور مسئلہ کشمیر کبھی پیدا ہی نہ ہوتا۔

 (پبلک ڈومین)مہاراجہ پرتاپ سنگھ برطانوی بادشاہ ایڈورڈ ہشتم کے ساتھ

بعض اوقات ایک چھوٹا سا واقعہ آنے والی صدیوں کی تاریخ بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ہندوستان میں بھی رونما ہوا، جس کی ابتدا ایک ہندوستانی اخبار سے وابستہ ایک ایسے صحافی سے ہوتی ہے جو کسی خاص خبر کی تلاش میں تھا۔

اس واقعے کو نامور بھارتی سیاست دان اور مصنف ششی تھرور کی کتاب ’عہدِ ظلمات‘ (The Age of Darkness) میں بیان کیا گیا ہے جسے عکس پبلیکیشنز نے حال ہی میں لاہور سے شائع کیا ہے۔

کتاب کے مطابق 1891 میں ایک ہندوستانی اخبار نویس کسی طرح وائسرائے ہند لارڈ لینزڈاؤن کے دفتر کی ردی کی ٹوکری کی تلاشی لینے کا بندوبست کر لیتا ہے۔ وہاں اسے ایک پھاڑے گئے خط کے ٹکڑے ملتے ہیں، جنہیں کافی کوشش کے بعد وہ جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد ایک ایسی خبر نکلتی ہے جو دھماکہ خیز تو ہوتی ہی ہے مگر کسی کو نہیں معلوم تھا کہ یہ خبر اتنی دور رس نتائج کی حامل ہوگی۔ خبر کے مطابق وائسرائے ہند نے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس زمانے میں اینگلو انڈین پریس نیا نیا قائم ہوا تھا، اس لیے اسے کافی آزادیاں میسر تھیں۔ خط اخبار کے پہلے صفحے پر شائع کیا جاتا ہے۔ ایک ہل چل مچ جاتی ہے اور پھر ’امریتا بازار پتریکا‘ نامی یہ اخبار کسی طرح مہاراجہ کشمیر کے پاس بھی پہنچ جاتا ہے۔

اس وقت کشمیر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ تھے۔ انہیں یہ خبر پڑھ کر شدید تشویش لاحق ہوگئی۔ انہیں احساس تھا کہ ہندوستان میں ان کی شنوائی نہیں ہوگی، اس لیے وہ فوری طور پر خط لے کر لندن روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے اراکین پارلیمنٹ سے رابطے کیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تاج برطانیہ ریاست کی آزادانہ حیثیت کی ضمانت کا وعدہ پورا کرے۔

راجہ پرتاپ سنگھ کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے ایک ایسا منصوبہ جو ریاست کی جیو سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اس کی ہندوستان میں ادغام کی ناگزیر ضرورت لیے ہوئے تھا، اس پر عمل درآمد رک گیا۔ مہاراجہ کا لندن مشن کامیاب ٹھہرا۔

ہندوستانی قوم پرستوں نے پتریکا اخبار کو نو آبادکاروں کے سامراجی عزائم کے راستے میں مزاحم ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

اگر اس وقت امریتا بازار پتریکا نامی اخبار کا یہ صحافی وائسرائے کی ردی کی ٹوکری تک رسائی حاصل نہ کر پاتا تو یہ خط اس کے ہاتھ بھی نہ لگتا۔ خبر باہر نہ آتی اور مہاراجہ کی ریاست بھی اسی طرح تاج برطانیہ کی جھولی میں گر جاتی جس طرح ہندوستان کی درجنوں طاقتور ریاستیں گری تھیں۔ کشمیر کی حیثیت 1947 میں ایک الگ راجواڑے کی نہ ہوتی، وہ برطانوی ہند کا ایک صوبہ ہوتا اورمسلم اکثریتی ہونے کی وجہ سے آج پاکستان میں شامل ہوتا۔

سوچیں کہ یہ صورت حال کتنی مختلف ہوتی۔ شاید پاکستان اور ہندوستان آج اچھے ہمسائے بن کر رہ رہے ہوتے جس طرح قائداعظم اکثر کہا کرتے تھے اور اس کے لیے امریکہ اور کینیڈا کی مثالیں دیا کرتے تھے مگر 1891 میں ایک ہندوستانی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر نے آنے والی صدی اور کئی نسلوں کو بدل کر رکھ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج مسئلہ کشمیر کی وجہ سے یہ خطہ نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی آبادی اگر ملائی جائے تو یہ پوری دنیا کی آبادی کا 22 فیصد بنتی ہے۔ اس آبادی کا غالب حصہ آج کے دور میں بھی اگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ بھارت اپنے دفاعی بجٹ پر سالانہ 71 ارب ڈالر اور پاکستان تقریباً آٹھ ارب ڈالر صرف کرتا ہے۔ اگر یہی رقم وہ انسانی ترقی پر صرف کرتے تو دونوں ممالک کی حالت آج قطعی مختلف ہوتی۔

اس تنازعے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں جن کے درمیان کوئی معمولی سی غلط فہمی بھی دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچاسکتی ہے۔ رٹگرز یونیورسٹی نیو برانزویک اور کولوراڈو یونیورسٹی کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان پانچ کروڑ سے لے کر ساڑھے 12 کروڑ لوگوں کی ہلاکتیں ہوسکتی ہیں جبکہ اس سے پوری دنیا کا ماحول تباہ ہو جائے گا اور دنیا میں عمومی طور پر جو ہلاکتیں ہو رہی ہیں ان کی تعداد بڑھ کر دوگنی ہوجائے گی۔ پوری دنیا کا درجہ حرارت دو سے پانچ درجے گر جائے گا، جس سے دنیا میں ہونے والی بارشوں میں 15 سے 30 فیصد کمی ہو جائے گی۔

خدا نہ کرے ایسا ہو لیکن اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس ہولناکی کی وجہ مسئلہ کشمیر ہی بنے گا۔ کئی عالمی ماہرین افغان تنازعے کی جڑیں مسئلہ کشمیر میں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان میدان جنگ افغانستان نہ ہوتا تو افغانستان میں خانہ جنگی بھی نہ ہوتی اور نہ ہی نائن الیون کا واقعہ ہوتا۔ بہرحال تاریخ نے یہ موڑ وائسرائے ہند کی ردی کی ٹوکری سے لینا تھا اور اس کا باعث ایک ہندوستانی اخبار نویس نے بننا تھا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ