قزاقستان: ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، وزیر اعظم مستعفی

صدر قاسم جومارت توقایف نے ملک کے اقتصادی حب الماتی اور تیل پیدا کرنے والے مغربی صوبے مین قشلاق میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد ہنگامی حالت نافذ کی۔

وسطی ایشیا کے ملک قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے بدھ کو وزیراعظم عسکر مامن کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے نائب وزیراعظم علی خان اسماعیلوف کو قائم مقام وزیر اعظم مقرر کر دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر نے یہ اقدام منگل کو شہریوں کے پرتشدد مظاہروں کی شدت میں اضافے کے بعد کیا، جہاں اس سے قبل وہ ملک کے سب سے بڑے شہر الماتی اور تیل پیدا کرنے والے مغربی صوبے مین قشلاق میں ہنگامی حالت نافذ کر چکے تھے۔

یہ غیر معمولی مظاہرے اتوار کو مین قشلاق کے قصبے جانااوزن سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جنہوں نے ملک کے دیگر حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قزاقستان کے اقتصادی حب الماتی میں اس وقت صورت حال خراب ہوئی جب مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہونے والی بدامنی پر قابو پانے کے لیے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ فائر کیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدارتی ویب سائٹ کے مطابق قاسم جومارت توقایف نے الماتی اور مغربی علاقے مین قشلاق میں ہنگامی حالت کے احکامات پر دستخط کیے، جو پانچ جنوری سے 19 جنوری تک نافذ العمل ہیں اور یہاں مخصوص وقت میں کرفیو نافذ رہے گا۔

صدر توقایف نے اس سے قبل اپنے پریس سیکرٹری کے ذریعے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مظاہرین پر زور دیا تھا کہ پر امن رہیں۔

انہوں نے کہا تھا: ’اپنی صفوں کے اندر اور باہر اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنے کی باتوں پر کان نہ دھریں۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی آپ کو سزا دی جائے گی۔ حکومت کو گرایا نہیں جائے گا، لیکن ہمیں تنازعات کی ضرورت نہیں ہے۔‘

الماتی میں اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے پولیس کو پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں کے ہجوم پر سٹن گرنیڈ اور آنسو گیس فائر کرتے ہوئے دیکھا۔ یہ مظاہرین مرکزی سڑکوں پر حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے اور بعض اوقات گاڑیوں پر حملہ بھی کرتے تھے۔

بدھ کو1.9 کروڑ آبادی والے ملک قزاقستان میں میسجنگ ایپس ٹیلی گرام، سگنل اور وٹس ایپ بھی دستیاب نہیں تھے، جب کہ دو آزاد میڈیا ویب سائٹس، جنہوں نے مظاہروں کی اطلاع دی تھی، بلاک کر دی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا