قزاقستان کی صورت حال پر امریکہ کو فکر

قزاقستان کا محل وقوع نہایت اہم ہے، اس کی سرحدیں روس اور چین کے علاوہ افغانستان سے بھی ملتی ہیں اس لیے یہاں سیاسی بےچینی کے اثرات بہت دور رس ہوں گے۔

نو جنوری، 2022 کو روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کی جانے والی اس تصویر میں روسی دستے قزاقستان کے شہر الماتی پہنچ رہے ہیں (اے ایف پی/روسی وزارتِ دفاع)

قزاقستان میں گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے جس کے بعد وسط ایشیائی ملک کے سربراہ کو شدید کریک ڈاؤن کرنا پڑا اور انہوں نے احتجاج کو روکنے کے لیے روس سے فوجی دستے منگوا لیے۔

یہ ایسے اقدامات تھے جن سے امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک کی تشویش میں اضافہ ہوا۔ سی این این سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا، ’ہم اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر کون سی ایسی مجبوری تھی کہ انہوں نے اس تنظیم کو بلا ڈالا جس پر روس کا غلبہ ہے۔ ہم اس پر وضاحت طلب کر رہے ہیں۔‘

اس سے پہلے بلنکن کہہ چکے تھے کہ قزاقستان کے حکام ’یقیناً مظاہروں سے مناسب انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

احتجاج سے نمٹنے کے لیے قزاقستان کے صدر قاسم ژومارت توکایف نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کو  ’گولی چلا کر مار ڈالنے‘ کی کھلی چھٹی دے ڈالی جس سے متعدد شہری ہلاک ہوئے۔

ان ہلاکتوں پر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے قاسم ژومارت توکایف سے اپنا یہ حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

 مزید برآں انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی فوجی جس خطے میں گھس جائیں انہیں وہاں سے باہر نکالنا ’کافی مشکل‘ ہو سکتا ہے۔

بلنکن کے اپنے بارے بیانات کو ’انتہائی جارحانہ‘ قرار دیتے ہوئے روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو عراق اور ویت نام میں اپنی مداخلت کو پہلے یاد کرنا چاہیے۔ 

اپنے ٹیلی گرام سوشل میڈیا پر روس نے کہا، ’اگر اینٹنی بلنکن کو تاریخ کے کے اوارق کھنگال کر سبق سیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو انہیں درج ذیل باتوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے: جب امریکی آپ کے ملک میں ہوں تو زندہ رہنا، لوٹ مار اور ریپ سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم نے فقط ماضی قریب سے نہیں بلکہ امریکہ کی مکمل تین سو سالہ تاریخ سے یہی سیکھا ہے۔‘ 

لیکن سوویت یونین کی سابقہ ریاست میں ہونے والے حالیہ واقعات پر امریکہ کیوں فکرمند ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے دی کنورسیشن نے لیری نیپر کا انٹرویو کیا۔

2001 سے 2004 تک قزاقستان میں بطور سفیر خدمات سر انجام دینے والے لیری سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے دفتر برائے امور سوویت اتحاد کے ڈائریکٹر  رہے ہیں اور اب امریکی ریاست ٹیکسس میں اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ 

1۔ قزاقستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کیسے ہیں؟ 

30 برس قبل قزاقستان کو آزاد وطن کے طور پر جس ملک نے سب سے پہلے تسلیم کیا وہ امریکہ تھا اور اس کے بعد سے قریبی تعلقات چلے آتے ہیں۔ 

دونوں ممالک کے درمیان متعدد امور پر باہمی تعاون کی فضا رہی جیسا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا عدم فروغ۔ یہی وجہ تھی کہ قزاقستان نے سوویت دور میں پنپنے والے جوہری ہتھیاروں کے منصوبوں کو ترک کر دیا اور جوہری ہتھیاروں کے عدم فروغ کے معاہدے کا دستخط کنندہ بن گیا۔

دہشت گردی کے خلاف بھی دونوں ممالک ایک ساتھ کھڑے نظر آئے اور امریکہ، قزاقستان کے شعبہ توانائی کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری فراہم کر رہا ہے۔ 

ملک کا سیاسی بندوست کیا ہو، اس پر دونوں ممالک کا تال میل نہیں ہو پایا۔ امریکہ قزاقستان کو جلد سے جلد جمہوری اصولوں پر قائم ملک کے طور پر دیکھنا چاہے گا جہاں سب کے لیے معاشی نشوونما کے برابر مواقع ہوں۔

 لیکن عموماً امریکہ اور قزاقستان کے درمیان تعلقات اچھے سمجھے جاتے ہیں اور یہ دونوں ممالک مزید ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ امریکہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیائی ممالک دسمبر 2021 میں سٹریٹیجک پارٹنرشپ ڈائیلاگ کے لیے قزاقستان میں موجود تھے۔

اس دوران دونوں ممالک کے درمیان معمول کے مستقل تجارتی تعلقات قائم کرنے پر بات چیت ہوئی اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ سرد جنگ کے زمانے میں نافذ کردہ ایسی شرائط کا خاتمہ کیا جائے گا جو تجارت محدود کر سکتی ہوں۔ 

2۔ کیا حالیہ واقعات اس امر کی شہادت پیش کرتے ہیں کہ قزاقستان روس کے زیر اثر آ رہا ہے؟

حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات صرف اس لیے افسوس ناک نہیں کہ ان میں کئی انسان زندگی کی بازی ہار گئے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی بلکہ اس لیے بھی کہ صدر توکایف نے قیامِ امن کے نام نہاد دعوے دار کولیکٹیو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن کو امداد کے لیے طلب کر لیا جو پوری طرح روس کے زیر اثر ہے۔ 

قزاقستان کی پونے پانچ ہزار میل (ساڑھے سات ہزار کلومیٹر) لمبی سرحد روس کے ساتھ لگتی ہے اور یہاں روسی بولنے والی آبادی پر مشتمل ایک بڑا طبقہ رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس نے ہمیشہ روسی فیڈریشن کے ساتھ قریبی تعلقات کی کوشش کی ہے۔ سٹریٹیجک اور سیاسی وجوہات کی بنا پر روس کے ساتھ اچھے تعلقات قزاقستان کی ضرورت ہے۔

 لیکن آزادی کے بعد سے قزاقستان نے ایسی خارجہ پالیسی استوار کرنے کی کوشش کی جو نہ صرف روس بلکہ چین اور امریکہ کے ساتھ بھی سود مند تعلقات کا باعث بنے۔ یاد رہے قزاقستان کی روس کے علاؤہ چین سے بھی طویل سرحد ملتی ہے۔ 

میرا خیال ہے کہ یہ تازہ ترین اقدامات سفارتی تعلقات میں کسی بنیادی نوعیت کی تبدیلی کا پتہ نہیں دیتے۔ یہ میرا اندازہ اور توقع ہے کہ قزاقستان امریکہ کے ساتھ اپنی سٹریٹیجک شراکت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور دوبارہ پہلے والی سطح پر مل کر چلنے کی کوشش کرے گا۔

 لیکن اسے اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ امریکہ کے لیے حقوق انسانی، پرامن احتجاج کا حق اور جوابدہ طرز حکمرانی جیسے معاملات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ 

3۔ کیا یہ روس کی مسلسل دھمکیوں کے پیش نظر ’اگلا یوکرین‘ نہیں بنے گا؟ 

کوئی بھی یہ نہیں دیکھنا چاہتا، کم از کم قزاقستان تو ہرگز نہیں اور میرا نہیں خیال کہ حالات اس نہج تک پہنچیں گے۔ 

حالیہ ہفتے میں یوکرین کے معاملے پر یورپ میں ہونے والی بات چیت کا سابق سوویت یونین ریاستوں کے اپنے آپ کو اور دوسروں کو دیکھنے کے انداز پر بہت فرق پڑے گا۔ 

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے امریکہ نے تمام سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ ان کی آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام کی بنیاد پر اچھے سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

یوکرین سمیت ماضی میں سوویت یونین کا حصہ رہنے والے دیگر ممالک میں بالکل اسی چیز پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں یعنی انہیں اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی صدر ولادی میر پوتن سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ابھرنے والے ممالک پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔

لیکن یوکرین اور قزاقستان کی صورت حال بالکل مختلف ہے اور یہ فرق محض اس بات تک محدود نہیں کہ قزاقستان نے روسی افواج کو خود اپنے ملک میں مدعو کیا۔ مجھے امید ہے قزاقستان بہت جلد ایسے معمول پر آجائے گا جہاں روسی دستوں کو واپسی کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔ 

4۔ امریکہ کے سٹریٹیجک مفادات کے لیے قزاقستان کیوں اہم ہے؟ 

جغرافیے اور جغرافیائی سیاست کے پیش نظر قزاقستان ایک اہم مقام پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں نہ صرف روس اور چین سے ملتی ہیں بلکہ علاقائی نقطہ نظر سے یہ افغانستان کے لیے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

امریکہ افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا دو ٹوک موقف رکھتا ہے جہاں گذشتہ برس طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔

 حالیہ برسوں میں قزاقستان نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ جہادیوں اور ان کے خاندانوں کو شام کے حراستی مراکز سے ان ممالک میں منتقل کر رہا ہے جہاں انہیں بحالی پروگرام میں رکھا جا سکے۔ قزاقستان نے امریکہ کے کہنے پر ایسے خاندانوں کو اپنے ملک میں قبول کیا ہے۔

 اس کے علاؤہ چین کا معاملہ بھی ہے۔ امریکہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ حالیہ برسوں میں چین اور قزاقستان کے درمیان اقتصادی امور اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھا ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں قازق چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں رہائش پذیر ہیں اور اسی طرح اویغور کی ایک بڑی تعداد قزاقستان میں رہتی ہے۔

سرحد کے دونوں جانب ان نسلی گروہوں کی موجودگی محتاط انتظام کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ ایک اور اہم عنصر ہے جس کی بنا پر قزاقستان کی خارجہ پالیسی کا انتہائی محتاط خطوط پر استوار ہونا ضروری ہے۔ 

5۔ امریکہ کے لیے اقتصادی شراکت کار کے طور پر قزاقستان کی کیا اہمیت ہے؟ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ نے قازقستان میں توانائی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جہاں شیوران اور ایکسون موبل جیسی دیوقامت امریکی ملکیتی کمپنیاں قزاقستان کے تیل اور گیس کے شعبوں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ یہ ملک خام یورینیم سمیت اہم معدنیات کا برآمد کنندہ بھی ہے۔ 

سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے اقتصادی اصلاحات کو مدنظر رکھا جائے تو قزاقستان علاقے میں ایک رہنما کے طور پر ابھرا ہے جو اپنی معیشت کو آزاد منڈی کے قریب لے کر جا رہا ہے اور اسے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنا رہا ہے۔

اگرچہ وسائل اور فوائد کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے کے سبب  اس کے ثمرات قزاقستان کی عوام تک نہیں پہنچے اور امن و امان کی موجودہ خراب صورتحال کا ایک بڑا سبب یہی چیز ہے۔ 

نوٹ: یہ تحریر پہلے دا کنورسیشن میں شائع ہوئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا