بھارتی لداخ میں اردو کو ختم کرنے کی کارروائی شروع

جمیانگ سیرنگ نمگیال کے خط کے بعد سات جنوری 2022 کو لداخ انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ لداخ یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر رادھا کرشنا ماتھر نے محکمہ ریونیو کے ریکروٹمنٹ رولز میں ترمیم لا کر اردو کی شرط ختم کر دی۔

لداخ میں محکمہ ریونیو میں نوکری کے لیے اردو کی شرط کو ختم کرنے کے فیصلے کو اس خطے میں 130 سال سے رائج اردو زبان کو سرکاری سطح پر ختم کرنے کی شروعات سمجھا جا رہا ہے (تصاویر: سجاد کارگلی)

’لداخ کے لوگوں کے لیے اردو ایک اجنبی زبان ہے۔ اسے سابق ریاست جموں و کشمیر کے حکمرانوں نے بڑی بے دردی سے یہاں کی عوام پر مسلط کیا تھا۔ ہم نے پانچ اگست 2019 کو یہ زنجیر بھی توڑی۔ اب اس غیر ملکی زبان کو اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘

یہ ایک خط کے چیدہ چیدہ نکات ہیں جو بھارت کے زیر انتظام لداخ کے رکن پارلیمان جمیانگ سیرنگ نمگیال نے خفیہ طور پر بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کو گذشتہ برس 23 اکتوبر کو بھیجا تھا۔

جمیانگ سیرنگ نمگیال لداخ میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک بدھسٹ رہنما ہیں۔

انہوں نے امت شاہ کو یہ خط لداخ کی مقامی انتظامیہ کی طرف سے محکمہ ریونیو کے نئے ریکروٹمنٹ رولز جاری کیے جانے کے تناظر میں لکھا تھا۔

دراصل محکمہ ریونیو کے ستمبر 2021 میں جاری کیے جانے والے نئے ریکروٹمنٹ رولز میں بھی پہلے کی طرح نائب تحصیلدار اور پٹواری کی آسامیوں کے لیے گریجویشن کے علاوہ اردو کو جاننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

چوںکہ پانچ اگست 2019 (جس دن بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے علاوہ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا تھا) سے بھارتی وزارت داخلہ از خود جموں و کشمیر اور لداخ کا انتظام و انصرام چلاتی ہے لہذا نمگیال نے امت شاہ سے خط میں تاکید کی تھی کہ محکمہ ریونیو میں نوکری پانے کے لیے اردو کی شرط کو ختم کیا جائے۔

جمیانگ سیرنگ نمگیال کے خط کے ڈھائی ماہ بعد یعنی سات جنوری 2022 کو لداخ انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ لداخ یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر رادھا کرشنا ماتھر نے محکمہ ریونیو کے ریکروٹمنٹ رولز میں ترمیم لا کر اردو کی شرط ختم کر دی ہے۔

اس ترمیم پر جہاں جمیانگ سیرنگ نمگیال نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امت شاہ کے نام لکھے اپنے خط کو منظرعام پر لائے، وہیں اس خطے کے مسلم رہنماؤں نے حیرت اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نمگیال نے ’مکروہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔‘

لداخ میں محکمہ ریونیو میں نوکری کے لیے اردو کی شرط کو ختم کرنے کے فیصلے کو اس خطے میں 130 سال سے رائج اردو زبان کو سرکاری سطح پر ختم کرنے کی شروعات سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کا زیر انتظام لداخ دو اضلاع لیہہ اور کارگل پر مشتمل ہے۔ جہاں لیہہ میں اکثریت بدھ مت کے پیروکاروں پر مشتمل ہے وہیں کارگل میں مسلمان اکثریت میں رہتے ہیں۔

تاہم مقامی مورخ عبدالغنی شیخ کے مطابق لداخ کے دونوں اضلاع کی آبادی کے تناسب پر نظر ڈالیں تو یہ ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے۔

لداخ کے دونوں اضلاع کے لوگ اس خطے کو یونین ٹریٹری کا درجہ دینے کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں اور ریاستی درجے کی فراہمی کے لیے متحدہ طور پر لڑ رہے ہیں۔

لیکن بی جے پی رکن پارلیمان کی جانب سے اردو کے حوالے سے ’جھوٹ کا سہارا لینے‘ کی وجہ سے ان دونوں اضلاع کے درمیان دوریاں بڑھنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

اردو 75 فیصد لداخیوں کی زبان

14 جنوری کو لداخ کی آٹھ مسلم تنظیموں جمعیت ال علما اثنا عشریہ کارگل، امام خمینی میموریل ٹرسٹ کارگل، انجمن صاحب زمان کارگل، انجمن امامیہ لیہہ، انجمن اہل سنت و جماعت کارگل، انجمن معین الاسلام لیہہ، انجمن صوفیہ نوربخشیہ کارگل اور انجمن صوفیہ نوربخشیہ لیہہ نے وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک مشترکہ خط بھیجا، جس میں محکمہ ریونیو کے ریکروٹمنٹ رولز میں ترمیم کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان تنظیموں نے خط میں لکھا ہے: ’لداخ ایک مسلم اکثریتی یونین ٹیریٹری ہے جہاں لگ بھگ 75 فیصد لوگ اردو بولتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے زیر قبضہ لداخ (گلگت بلتستان) میں 100 فیصد لوگ اردو بولنے والے ہیں۔ لہذا یونین ٹیریٹری میں اردو کو نظر انداز کرنا ایک تباہ کن اقدام ثابت ہو گا۔‘

خط میں لکھا گیا ہے کہ محکمہ ریونیو میں چوںکہ زمین کا پورا ریکارڈ اردو زبان میں ہے لہذا اس (اردو) سے نابلد لوگوں کو تعینات کرنے سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

معروف سماجی کارکن اور سابق صحافی سجاد حسین عرف سجاد کارگلی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ لداخ میں اردو کی اہمیت کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

’اس ہمالیائی خطے میں اردو رابطے کی بھی زبان ہے۔ ہمارے یہاں جب بھارت کی کسی بھی ریاست سے کوئی آتا ہے تو ہم اس سے اپنی مقامی بولی میں نہیں بلکہ اردو زبان میں بات کرتے ہیں۔

یوں تو لداخ میں پرگی، بلتی، شینا اور دردی جیسی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ لیکن جب دو مختلف بولیاں بولنے والوں کو ایک دوسرے سے بات کرنی ہوتی ہے تو وہ اردو میں کرتے ہیں۔ کیوںکہ ایک بولی بولنے والے کو دوسرے کی بولی سمجھ میں نہیں آتی۔‘

سجاد حسین کہتے ہیں کہ اردو ایک خوبصورت زبان ہے اور اگر کوئی شخص اسے کسی خاص طبقہ سے جوڑتا ہے تو یہ ان کی کم علمی ہے۔

’یہ جو ہمارے رکن پارلیمان جمیانگ سیرنگ نمگیال اردو کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں وہ خود بھارتی پارلیمان میں اپنی تقریر اردو زبان میں کرتے ہیں۔ خود وزیر اعظم اور ان کے وزرا اپنی تقاریر کو اثردار بنانے کے لیے اردو شاعری کا سہارا لیتے ہیں۔ اردو چوںکہ عشق و محبت کی زبان ہے لہذا تعصب اور نفرت کرنے والوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سجاد حسین کا کہنا ہے کہ اردو کی اہمیت کو ختم کرنے کے اقدامات سے نہ صرف لداخ کے وسیع تر مفادات بلکہ آپسی اتحاد کو بھی نقصان پہنچے گا۔

’ہمیں ایک دوسرے کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ ہمارے رکن پارلیمان بچگانہ حرکتیں کر رہے ہیں۔ لداخ میں اترپردیش جیسی سیاست کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اردو ہمارے سماج اور ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ پولیس تھانوں میں آج بھی مقدمے اردو زبان میں ہی لکھے جاتے ہیں۔ دیہات کے سرپنچ اور نمبردار اپنے خطوط اردو زبان میں ہی تحریر کرتے ہیں۔ یہاں اس زبان کو ختم کرنا مشکل ہے البتہ ایسے اقدامات سے کمزور ضرور ہو گی۔‘

آرٹیکل 370 کی منسوخی کا شاخسانہ

انجمن معین الاسلام لیہہ کے صدر ڈاکٹر عبدالقیوم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور لداخ کو ایک الگ یونین ٹیریٹری بنانے کے بعد ہی اکثریت مخالف اقدامات اٹھانے کا سلسلہ چل پڑا ہے۔

’پورے بھارت میں اس وقت جو سیاست چل رہی ہے وہی ہمیں یہاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اردو کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جانے لگا ہے جو ایک افسوسناک بات ہے۔ ہر ایک زبان لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے لیکن اردو اپنی مٹھاس کی وجہ سے زیادہ ہی خوبصورت ہے۔

’اگر اردو مسلمانوں کی زبان ہوتی تو ڈوگرہ مہاراجہ پرتاب سنگھ اس کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیتے۔‘

کارگل کے ایک کالج میں طلبہ کو اردو پڑھانے والے ڈاکٹر عیسیٰ محمد کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدام سے اشارہ ملتا ہے کہ لداخ میں سرکاری طور پر اردو کو ختم کرنے کی باضابطہ کارروائی شروع ہوئی ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’جب تک لداخ جموں و کشمیر کا حصہ تھا یہاں سرکاری سکولوں میں اردو کو ایک بنیادی مضمون کے طور پر پڑھنا لازمی تھا۔

اب رکن پارلیمان کا الزام ہے کہ کشمیری حکمرانوں نے اردو کو زبردستی لداخیوں پر مسلط کیا ہے۔ اگر انہیں (کشمیری حکمرانوں کو) کوئی زبان مسلط کرنی ہی ہوتی تو وہ کشمیری زبان کرتے اردو نہیں۔

’میرا ماننا ہے کہ چوںکہ ایک دو سال بعد ملک میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں لہذا رکن پارلیمان صاحب اردو نہ پڑھنے والے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ہر ایک جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔‘

لداخ سے تعلق رکھنے والے نامور مورخ عبدالغنی شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی رکن پارلیمان ’جمیانگ سیرنگ نمگیال ایک ایسی متنازع شخصیت ہیں جنہیں لداخ کے بدھسٹ بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔‘

’اس شخص نے امت شاہ کو اپنے خط میں جو کچھ لکھا ہے وہ تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔ اس وقت پورے جموں و کشمیر اور لداخ میں محکمہ ریونیو کا سارا ریکارڈ اردو زبان میں ہے۔ جب اردو نہ جاننے والوں کو اس محکمے میں اہم عہدوں پر فائز کیا جائے گا تو ایسی غلطیاں ہوں گی جن کو درست کرنا مشکل ہو گا۔

بھارت میں اس وقت اردو کے خلاف ایک باضابطہ مہم چل رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لداخ کے بدھسٹ بھی اس مہم کے زیر اثر آ گئے ہیں۔ لیہہ میں کئی نجی سکولوں میں اردو پڑھائی جاتی تھی لیکن ان سکولوں نے حالیہ برسوں اردو پڑھانا ترک کر دیا ہے۔‘

لداخ میں اردو زبان

مورخ عبدالغنی شیخ کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں سنہ 1888 میں ڈوگرہ مہاراجہ پرتاب سنگھ نے اردو کو عدلیہ اور محکمہ ریونیو کی زبان بنایا اور پھر محض ایک سال بعد یعنی سنہ 1889 میں اسے سرکاری زبان قرار دیا۔

’اس وقت جموں و کشمیر اور لداخ بشمول گلگت بلتستان کی عوام نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک 130 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے اور اردو زبان یہاں کے لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتی آ رہی ہے۔

’مہاراجہ پرتاب سنگھ کی طرح ڈوگرہ خاندان کے آخری حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے بھی اردو کو دل سے اپنایا تھا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سنہ 1940 میں جب خواجہ غلام السیدین جموں و کشمیر میں محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات تھے تو ان کی سفارشات پر مہاراجہ ہری سنگھ نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا۔‘

عبدالغنی شیخ اپنی کتاب ’لداخ تہذیب و ثقافت‘ میں لکھتے ہیں کہ اردو کو سرکاری زبان بنانے سے پہلے لداخ میں اردو باہمی لین دین اور آپسی تبادلہ خیال کے لیے رابطے کی حیثیت سے مقبول تھی۔

’تب لداخ ایک خود مختار خطہ تھا۔ لیہہ وسط ایشیا کا ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔ بہت سارے پنجابی، کشمیری، تبتی اور ترکی تاجر تجارت کے سلسلے میں لداخ آتے تھے۔ اس لیے رابطے کی ایک زبان کی ضرورت تھی۔ ترکی تاجروں سے لداخی ترکی زبان میں بات چیت کرتے تھے۔ پنجابیوں اور کشمیروں کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی سہی اردو میں ہی بات چیت کرتے تھے۔‘

عبدالغنی شیخ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی طرح لداخ بھی ایک ایسا خطہ ہے جہاں محکمہ ریونیو کے سبھی ریکارڈ اردو زبان میں ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں: ’لداخ ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی 53 فیصد کے آس پاس ہے۔ یہاں صرف مسلمان نہیں بلکہ بدھسٹ بھی اردو پڑھتے لکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات سے تو اس خطے میں اردو ختم نہیں ہو گی لیکن کمزور ضرور ہو سکتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا