انڈونیشیا میں طالب علم ’مذاق‘ میں سیلفیاں بیچ کر کروڑ پتی بن گیا

22 سالہ سلطان غزالی نے چار سال کے عرصے میں لی گئی اپنی ہزار سے زائد سیلفیوں کو این ایف ٹی میں تبدیل کردیا تھا، جنہیں خریدنے والے بے شمار ہیں۔

غزالی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والدین کو ابھی تک ان کی نئی ملنے والی دولت کا علم نہیں ہے (تصویر: سلطان غزالی ٹوئٹر اکاؤنٹ)

انڈونیشیا میں ایک طالب علم ’مذاق‘ میں اپنی سیلفیوں کے مجموعے کو نان فنج ایبل ٹوکنز (NFTs) میں تبدیل کرنے کے بعد کروڑ پتی بن گیا ہے۔

کمپیوٹر سائنس پڑھنے والے سلطان گستاف الغزالی نے چار سال کے عرصے میں اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے اپنی تقریباً ایک ہزار تصاویر لیں اور انہیں این ایف ٹی میں تبدیل کر دیا۔

این ایف ٹی ایسے منفرد ڈیجیٹل آئٹمز ہیں، جنہیں بلاک چین پر خریدا، بیچا اور محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

22 سالہ نوجوان نے اصل میں ہر تصویر کی قیمت صرف 0.00001 ETH (تین ڈالر) رکھی تھی لیکن جلد ہی انہوں نے کرپٹو تاجروں کی توجہ حاصل کرلی اور ان کی قیمت آسمان کو چھونے لگی۔ اس طرح اب ان کی انفرادی تصاویر اب 10 ہزار ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہو رہی ہیں۔

سلطان الغزالی نے 10 جنوری کو ٹویٹ کی تھی: ’میں این ایف ٹی میں اپنی تصویر اپ لوڈ کر رہا ہوں۔‘

اگلے دن انہوں نے ٹویٹ کی: ’یقین نہیں آتا کہ لوگوں نے واقعی میری تصویر این ایف ٹی خریدی ہے۔ 35 تصویریں پہلے ہی دن فروخت ہو چکی ہیں۔‘

اس دن کے بعد ان کی 200 سے زیادہ سیلفی این ایف ٹیز فروخت ہوئیں اور اگلے دنوں میں ٹریڈرز نے اوپن سی پلیٹ فارم پر مزید سینکڑوں سیلفیوں کو خریدا۔

سلطان الغزالی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’میں سوچ رہا تھا کہ یہ مضحکہ خیز ہو سکتا ہے اگر کوئی میرا چہرہ (سیلفی) جمع کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی سیلفی خریدنا چاہے گا، اسی لیے میں نے ان کی قیمت صرف تین ڈالر رکھی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی سیلفیز اب چار ETH ( 12 ہزار پانچ سو ڈالر) تک میں فروخت ہو رہی ہیں۔سیلفیوں کے اس پورے مجموعے، جس کا نام ’غزالی ایوری ڈے‘ ہے، کی قیمت تقریباً 374 ETH (ایک اعشاریہ دو ملین ڈالر) ہے۔

مقامی ٹیکس حکام پہلے ہی ٹوئٹر کے ذریعے ان سے رابطہ کر چکے ہیں تاکہ انہیں ٹیکس ادائیگی کی ہدایت کی جائے، تاہم غزالی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والدین کو ابھی تک ان کی نئی ملنے والی دولت کا علم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’سچ کہوں تو میں ابھی تک اپنے والدین کو بتانے کی ہمت نہیں کر پایا۔ وہ سوچ رہے ہوں گے کہ میرے پاس پیسے کہاں سے آئے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل