کرپٹو کرنسی کا میدان فتح کرتی خواتین

برطانیہ میں مقیم 25 سالہ پاکستانی خاتون ملیحہ عابدی’ویمن رائز‘ کے نام سے ایک مہم شروع کرنے والی ہیں تاکہ 2022 کے آخر تک ایک لاکھ لڑکیوں کو کرپٹو کرنسی کے شعبے میں لایا جا سکے۔

18 دسمبر 2017 کو ہانگ کانگ میں ایک خاتون کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی ایک اے ٹی ایم مشین استعمال کر رہی ہیں(فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی خاتون ملیحہ عابدی ایک فن کارہ اور خواتین کے حقوق کی کارکن کے طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت رکھتی ہیں۔ اس لیے جب ان کا واسطہ نان فنجبل ٹوکنز (این ایف ٹیز) کے ساتھ پڑا تو انہیں فوری طور پر پتہ چل گیا کہ یہ ڈیٹا ٹوکنز زیادہ لوگوں اور خاتون آرٹسٹس تک پہنچنے کا راستہ ہوسکتے ہیں تاکہ زیادہ تعداد میں فالورز بنائے جا سکیں۔

پاکستان میں پیدا ہونے والی 25 سالہ عابدی کم عمری میں امریکہ منتقل ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اپنا پہلا این ایف ٹی چند ماہ پہلے تیار کیا۔ یہ ایک ایسا اثاثہ ہے جو ڈیجیٹل تصاویر، ویڈیوز اور جمع کی جانے والی دوسری اشیا کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی ڈیجیٹل تبادلوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والا نظام ہے، جس کی سب سے مشہور مثال کرپٹو کرنسی ہے۔

برطانیہ میں مقیم عابدی ’ویمن رائز‘ کے نام سے ایک مہم شروع کرنے والی ہیں تاکہ 2022 کے آخر تک ایک لاکھ لڑکیوں کو کرپٹو کرنسی کے شعبے میں لایا جا سکے۔

وہ ان خاتون فن کاروں، کوڈنگ کی ماہر، تاجروں اور سرمایہ کاروں میں سے ایک ہیں جن کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان خواتین نے کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹیز کو اپنایا ہے۔ وہ خواتین کو بلاک چین تحریک میں شامل کرنے اور تیزی سے پھیلتے اس شعبے میں صنفی خلا کو پر کرنے کی وکالت میں مصروف ہیں۔

عابدی کے بقول: ’جب میں نے پہلی بار بلاک چین کے بارے میں سنا تو میں سوچا کہ یہ میرے لیے نہیں ہے۔ لیکن میرا رجحان فن کی طرف تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ فن کار اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس شعبے میں خواتین اور غیر سفید فام لوگوں کے لیے جگہ موجود ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’این ایف ٹیز ان لوگوں کو سرمایہ کاری اور اپنا فن فروخت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو روایتی انداز میں ایسا نہیں کرسکتے۔ کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹیز معاشی خود مختاری کا راستہ ہیں اس لیے یہ بات اہم ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کو ان کا علم ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بڑے اداروں کی سطح پر سرمایہ کاری کرنے والے بِٹ کوائن کو اس سال ریکارڈ بلندی پر لے گئے ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں میں نوجوان سرمایہ کاروں میں کرپٹو کرنسی کو اپنانے میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان ملکوں میں کوئی بھی شخص جس کے پاس موبائل ہو وہ بینکاری کے رسمی نظام کے متبادل نظام سے کام لے سکتا ہے۔ بروکر چوزر کے مطابق بھارت میں کرپٹو کرنسی کے مالک افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ یعنی 10 کروڑ کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں دو کروڑ 70 لاکھ اور روس میں ایک کروڑ 70 لاکھ لوگ ہیں۔

مارکیٹ ٹریکر ڈیپ ریڈار کے مطابق 2021 کی تیسری سہ ماہی میں این ایف ٹیز کی فروخت بڑھ کر 11 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یہ اضافہ گذشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔ سی این بی سی اور ایکرون کے حالیہ سروے کے مطابق کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں دو تہائی سے زیادہ مرد حضرات اور تقریباً 60 فیصد سفید فام ہیں۔ سرمایہ کاری کے دوسرے شعبوں جیسا کہ سٹاک ایکسچینج، بونڈز اور میوچوئل فنڈ کے مقابلے میں کرپٹو کرنسی میں صنفی تفریق زیادہ ہے۔ بھارت میں صرف 15 فیصد خواتین کرپٹو کرنسی میں لین دین کرتی ہیں۔

لندن میں مرکز برائے بلاک چین ٹیکنالوجیز یو سی ایل کی محقق اینجلا والچ کے مطابق: ’صنفی اعتبار سے کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبے کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ یہاں خواتین موجود ہیں لیکن اس شعبے پر مرد حضرات کا بڑا غلبہ ہے۔‘

زیادہ شمولیت

دنیا میں خواتین کی آبادی کی آدھی تعداد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ اس مقابلے میں 55 فیصد مرد یہ سہولت استعمال کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ٹیکنالوجی سے متعلق ادارے کے مطابق زیادہ غریب ملکوں میں یہ صنفی تفریق اور بھی زیادہ ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اثاثوں اور مالیاتی خدمات تک رسائی کے معاملے میں خواتین مردوں سے پیچھے ہیں۔

کرپٹو کرنسیاں اب مرکزی دھارے میں آ رہی ہیں اور سرمایہ کار، کمپنیاں اور ملک انہیں بطور اثاثہ، ادائیگی کے طریقے اور غیر یقینی صورت حال اور حد سے بڑھی ہوئی افراط زر کے مقابلے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

کرپٹو چیکس

crypto_chicks،  @[email protected] اور  [email protected] کے ٹوئٹر ہینڈلز کے ساتھ این ایف ٹی کی خاتون آرٹسٹس اور کرپٹو کرنسی جمع کرنے والی خواتین سوشل میڈیا پر کرپٹو کرنسی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتی اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ بہت سی خواتین، دیگر خواتین اور لڑکیوں کی فلاحی سرگرمیوں کی حمایت بھی کرتی ہیں اور ان کے کام کا اعتراف بڑھ رہا ہے۔ 

امریکی ڈیٹا سائنس دان ٹنوویا ایونز [email protected] کے ٹوئٹر ہینڈل سے پہنچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے ’گواکوئن‘ کے نام سے کرپٹو کرنسی بنائی ہے جس کا مقصد مالیاتی شعبے میں سیاہ فام برادری کی آواز بلند کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کرپٹو دنیا ٹیکنالوجی کے شعبے میں توسیع ہے جہاں تنوع کا بہت بڑا خلا موجود ہے۔ اس دنیا کے مرکز تک رسائی غیر سفید فام خواتین کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے گواکوئن تخلیق کی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی