جاپانی مہم جو، جو تقریباً قطب جنوبی تک پہنچ گئے تھے

نسل پرستی اور بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے باوجود شیراسے نے اعلان کیا کہ وہ موسم بہار میں انٹارکٹیکا واپس جائیں گے اور ستمبر کے وسط میں قطب کے لیے روانہ ہوں گے اور 870 میل سے زیادہ کا سفر مکمل کر کے فروری کے آخر میں واپس آئیں گے۔

1893 میں الاسکا کے آرکٹک میں فوج کے ساتھ خدمات انجام دینے کے بعد قطبی تسخیر اور تحقیق کا جذبہ شیراسے میں سرائیت کر گیا (پبلک ڈومین)

جنوبی نصف کرہ پر موسم گرما کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی ہماری زمین پر سب سے زیادہ مشکل چیلنجز میں سے ایک کی 110 ویں سالگرہ بھی قریب ہے۔

یہ وہ موقع ہے جب دو شخصیات لیجنڈز بن کر ابھرے: ناروے سے تعلق رکھنے والے روالڈ امنڈسن جن کی میراث اس وقت محفوظ ہوگئی جب وہ 14 دسمبر 1911 کو قطب جنوبی تک پہنچنے والے پہلے شخص بنے۔

مگر ایسا ہی کارنامہ انجام دینے والے ان کے حریف نے اس کوشش میں جان دے کر ممکنہ طور پر ان سے بھی زیادہ شہرت حاصل کی۔

برطانوی مہم جو رابرٹ فالکن سکاٹ، امنڈسن سے 34 دن بعد یعنی 17 جنوری 1912 کو قطب جنوبی پہنچے اور واپسی کے سفر کے دوران ہلاک ہوگئے۔

قطب کی طرف ان کے سفر پر کئی کتابیں لکھی گئیں اور کئی فلمیں بنیں۔ یہاں قائم سائنسٹفک بیس ان کے نام سے منسوب ہوئے اور اس طرح ان کے نام امر ہو گئے۔ 

لیکن ان دونوں کے ایک اور مدمقابل بھی تھے۔ ایک ایسے مہم جو جن کے نام کی گونج ان کی نامور ہم عصر شخصیات کے مقابلے میں کم سنائی دیتی ہے۔

لیکن اب ان کی شہرت ان کے وطن کی سرحدیں عبور کر رہی ہے کیوں کہ ان کی کہانی کو دوبارہ سامنے آ رہی ہے۔

یہ گم نام مہم جو تاریخ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اپنے یورپی مدمقابلوں کی طرح پرجوش تھے لیکن ان کے ملک میں اس چیلنج کے لیے بہت کم دلچسپی تھی۔ انہیں عجیب سمجھا گیا اور ایسا کرنے پر غیر محب وطن۔ 

نوبو شیراسے 1861 میں جاپان کے کونورا (اب نکاہو شہر) میں پیدا ہوئے تھے۔ اس وقت جاپان کے حکمران خاندان ٹوکوگاوا شوگنیٹ نے کسی بھی شخص کے لیے وطن کو چھوڑنا ممنوع قرار دیا ہوا تھا۔ ایسی کوشش کرنے والے کو پکڑ کر پھانسی کی سزا کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

 جب بوشین خانہ جنگی کے بعد 1868 میں شوگنیٹ کا تختہ الٹ گیا اور جاپان میں نئے حکمران میجی خاندان نے آہستہ آہستہ ملک کو جدت کی راہ پر ڈالنا شروع کیا تو اس قانون کو ختم کر دیا گیا لیکن پھر بھی بہت کم جاپانیوں نے اپنے وطن کو چھوڑنے کا انتخاب کیا۔

شیراسے اس سے الگ تھے۔

1893 میں الاسکا کے آرکٹک میں فوج کے ساتھ خدمات انجام دینے کے بعد قطبی تسخیر اور تحقیق کا جذبہ ان میں سرائیت کر گیا۔

بعد ازاں وہ روس کے ساتھ صدیوں سے متنازع سمندری خطے کورل جزائر پر خفیہ فوجی کارروائیوں کی ایک ٹیم کا حصہ بنے۔

1895 میں وہاں سے نکلنے سے پہلے ان کے کم ہتھیاروں سے لیس گروپ کو انتہائی مصائب اور بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے نامساعد حالات میں جزیروں پر بیماری میں گھری دو سردیاں جھیلیں اور اس دوران ان کے 19 ساتھی موت کے منہ میں چلے گئے۔ وہ وہاں سے زندہ نکلنے والے محض دو جاپانیوں میں سے ایک تھے لیکن ان کا جوش بڑھتا گیا۔ وہ حالات کو فتح کرکے اپنی قوم کی شان بڑھانا چاہتے تھے۔

مسئلہ صرف یہ تھا کہ ان کی قوم کو اس (تسخیر) میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جاپان سے باہر کرہ ارض کے قطبوں کو تسخیر کرنے کی دوڑ نے عوامی مقبولیت حاصل کر لی تھی اور ان ملکوں کا زیادہ تر محب وطن میڈیا اس دوڑ کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔

جیسے جیسے استعمار کا زمانہ ایک ذلت آمیز انجام کو پہنچ رہا تھا، ممالک کے درمیان بالادستی کا مقابلہ کسی اور ذریعے سے کیا جا رہا تھا۔ قومی کامرانیوں نے بالادستی کی فتح کی جگہ لے لی۔ یہ ایک الگ طرح کا سامراج تھا۔ لیکن جاپان میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

ابتدائی طور پر شیراسے قطب شمالی تسخیر کرنے والے پہلے شخص بننا چاہتے تھے لیکن جب امریکی مہم جو رابرٹ پیری اور فریڈرک کک نے 1909 میں اسے تسخیر کرنے کا دعویٰ کیا (جو متنازع ہے) تو ان کی توجہ انٹارکٹیکا پر منتقل ہوگئی۔

جنوری 1910 میں شیراسے نے جاپانی سلطنت کے اعلیٰ ترین نمائندوں کے سامنے اپنے منصوبے رکھے۔ انہوں نے تین سال کے اندر قطب جنوبی پر جاپانی پرچم بلند کرنے کا وعدہ کیا لیکن شاہی نمائندے اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ جغرافیائی کھوج ان کے لیے بالکل اجنبی تصور تھا۔ وہ ان کے نقطہ نظر کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔

اس انکار کے باوجود بے خوف شیراسے نے اپنی تیاری شروع کر دی۔

الاسکا میں گزارے گئے اپنے وقت سے انہوں نے پہلے ہی جان بوجھ کر کم وسائل کے ساتھ طرز زندگی اپنایا ہوا تھا تاکہ وہ خود کو منجمد بیابان میں زندگی گزارنے کے قابل بنا سکیں۔ وہ اپنے گھر کو گرم نہیں رکھتے تھے، نہ گرم کھانے اور مشروبات کا استعمال کرتے اور شراب اور تمباکو سے بھی پرہیز کرتے۔

تاہم ان کا سب سے بڑا چیلنج وقت اور پیسہ تھا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ حکومت انہیں اس تسخیر کے لیے فنڈز فراہم نہیں کرے گی، شیراسے نے برطانیہ میں سکاٹ کی فنڈ ریزنگ مہم کی طرح عوام سے اپنے سائنسی مشن کے لیے رجوع کیا۔

انہوں نے اصرار کیا کہ ان کا سفر قطبی پر فتح کے لیے نہیں ہوگا بلکہ اس کے بجائے براعظم، وہاں کی ارضیات، وہاں کے فوسلز، وہاں کے حیوانات اور وہاں کے موسمی حالات پر تحقیق ان کا مقصد ہو گا۔ وہ جاپانی عوام کو جو بھی تاثر دے رہے تھے قطب تک پہنچنا ان کا ہدف رہا۔

اگرچہ جاپانی پریس نے ان کا مذاق اڑانا جاری رکھا۔ ان کی حوصلہ شکنی کرنے میں پریس نے کہا کہ البرٹ آئن سٹائن جیسی شخصیات کا مقصد پتھر اکٹھا کرنا یا ہوا کی پیمائش کرنا نہیں تھا۔ 

لیکن اس صورت حال نے سابق وزیر اعظم شیگینوبو اوکوما کی توجہ حاصل کر لی۔ ان کے اور طلبہ کے چھوٹے عطیات کی مدد سے شیراسے کے مشن کے لیے تھوڑی بہت مالی امادد ایک ایسے وقت میں جمع ہوئی جب ایسا لگتا تھا کہ وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ فنڈز پھر بھی ناکافی تھے لیکن انہیں اسی کے ساتھ گزارا کرنا تھا۔

لیکن اب تک شیراسے کو تاخیر کا سامنا تھا۔ امنڈسن اور سکاٹ دونوں نے 1910 کے وسط میں جنوبی قطب کے لیے رخت سفر باندھ لیا تھا۔ شیراسے کا موڈیفائیڈ ماہی گیری کا جہاز ’کینان مارو‘ اور اس پر 27 افراد کا عملہ 29 نومبر تک ٹوکیو سے روانہ نہیں ہو پایا تھا۔

پھر ان کو عطیہ دینے والے چند طلبہ نے الوداع کہا اور اس طرح وہ امنڈسن سے تین ماہ سے زیادہ پیچھے تھے۔ اس سے تمام فرق پڑنے والا تھا۔

جنوری 1911 میں امنڈسن نے انٹارکٹیکا پر بے آف وہیلز پر بیس قائم کیا۔ اسی مہینے سکاٹ کیپ ایونز تک جا پہنچا۔ ان دونوں کا ارادہ انٹارکٹک میں پوری سردی گزارنا، اس براعظم کا مطالعہ کرنا اور اگلے موسم گرما میں قطب کے لیے روانہ ہونے کا تھا۔ جیسے ہی حالات اکتوبر کے وسط میں اجازت دیں گے وہ روانہ ہو جائیں گے (آخر میں سکاٹ کی ٹیم نومبر تک روانہ نہیں ہو سکی اور امنڈسن پہلے نکل گئے)۔

شیراسے نے بھی ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا لیکن ان کی ابتدائی تاخیر اور راستے میں خراب موسمی حالات کا مطلب یہ تھا کہ وہ بہت دیر سے یعنی مارچ 1911 میں یہاں پہنچے۔

سکاٹ کا جہاز ’ٹیرا نووا‘ اور امنڈسن کا ’فریم‘ پہلے ہی نیوزی لینڈ کے لیے روانہ ہو چکے تھے اور پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سامان لانے کے لیے ان کی واپسی اگلے موسم بہار تک نہیں تھی۔

مارچ تک سمندر پہلے ہی منجمد ہو چکا تھا اور شیراسے کا سمندر میں اترنا ناممکن تھا کیونکہ طوفانوں نے جہاز اور ساحلی پٹی کو گھیر لیا تھا۔ ان کے جہاز کو برف میں پھنس جانے اور کچلے جانے کا خطرہ لاحق تھا۔ درحقیقت ایک سے زیادہ بار برف بنتے سمندر سے آزاد ہونے کے لیے کپتان کی ماہرنہ صلاحیت کام آئی۔ 

لیکن چیف آفیسر نے بعد میں بتایا: ’ہم وہاں صرف آئس برگ، برف اور پینگوئن ہی دیکھ سکے۔‘

صورت حال سے مایوس شیراسے کو موسم سرما گزارنے کے لیے سڈنی واپس جانا پڑا۔ نیوزی لینڈ، جہاں ان کا جہاز انٹارکٹیکا جانے سے پہلے لنگر انداز ہوا تھا، سے آسٹریلیا پہلے ہی یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ ان کا جہاز بلکہ درحقیقت اس کی پوری مہم ناقص اور کم سامان سے لیس تھی اور یہ کہ ان کی تیاری بھی نامکمل تھی۔

اپنے حریفوں کے بحری جہازوں کے مقابلے میں کینان مارو تین ستونوں والا ایک بادبان جہاز تھا اور اس کا انجن بھی خاص طور پر کم طاقت والا تھا۔

نیوزی لینڈ کے اخبارات نے رپورٹ کیا کہ شیراسے کے سلیڈ ناقص بانس سے بنا تھا، ان کے پاس موجود نقشے اور چارٹ سرسری تھے جب کہ رسد شدہ اشیائے خردونوش میں سکوئڈ (سمندری جانور)، پھلیاں، چاول اور اچار، خشک مچھلی اور دہی شامل تھی۔ ان سب غذاؤں میں ان کیلوریز کی کمی تھی جو قطبی علاقوں کے سخت موسمی حالات میں انسانوں کو طاقت دینے کے لیے ضروری سمجھی جاتی تھی۔

دوسری جانب امنڈسن اور سکاٹ نے خشک گوشت، جس میں چربی اور بیریز بھی شامل تھیں، کی وافر سپلائی پر انحصار کیا۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے سکاٹ پولر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں تاریخی قطبی جغرافیہ میں مہارت رکھنے والے سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسر رابرٹ ہیڈلینڈ کہتے ہیں: ’اپنے عصروں کے مقابلے میں معیار کے حوالے اس مہم میں ناکافی ضروری سامان موجود تھا۔ ان کا کھانا خاص طور پر غیر تسلی بخش تھا لیکن ظاہری طور پر کیونکہ وہ انٹارکٹیکا میں سردیوں سے نہیں گزرے تھے اس لیے انہیں سکاٹ اور امنڈسن کی ضرورت کے مطابق سامان کی ضرورت بھی نہیں تھی۔‘

اپنے نوٹس میں شیراسے نے لکھا کہ نیوزی لینڈ ٹائمز نے حقارت کے ساتھ تبصرہ کیا تھا کہ ’ہم بندروں پر مشتمل عملہ تھے جو ایک بے کار کشتی میں گھوم رہے تھے اور یہ کہ قطبی علاقے ہم جیسے جنگل کے جانورں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھے۔ جانوروں سے ہماری تشبیہ شاید علامتی تھی لیکن نیوزی لینڈ میں بہت سے لوگوں نے اسے درست جان لیا اور قطب جنوبی کو فتح کرنے کے پاگل پن جذبے سے سرشار نمائشی گوریلوں کو دیکھنے لوگوں کا ہجوم روزانہ ہمارے خیموں کی جانب امڈ آتا۔‘

آسٹریلوی بھی ان کے بارے شکوک و شبہات کا شکار تھے۔ کیا شیراسے ایک حقیقی مہم جو تھے یا وہ چین اور روس کے خلاف جنگوں میں جاپان کی حالیہ فتوحات کے بعد ایک نئی فتح کی تلاش میں نکل پڑے تھے؟ یا کم از کم ماہی گیری کے نئے پانیوں کی تلاش میں؟ یقیناً بہت سے آسٹریلوی ان کے عملے کی موجودگی پر محتاط تھے۔

ہیڈ لینڈ کا کہنا ہے: ’یورپ اور آسٹریلیا میں جاپان مخالف جذبات عروج پر تھے۔ قوم فوج سازی کر رہی تھی اور باہر کے لوگ جاپان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہ کہنا مناسب ہے کہ زیادہ تر مغربی باشندوں کو جاپان میں زندگی کو جاننے کا واحد ذریعہ 1885 میں گلبرٹ اور سلیوان کی جانب سے پیش کیے جانے والا مزاحیہ اوپیرا ’دا میکاڈو‘ ہی تھا۔‘

جاپانی ثقافت کے بارے میں اتنی محدود معلومات کے ساتھ یہ شاید کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ سڈنی میں شیراسے اور ان کے عملے کے ساتھ ’در اندازوں‘ کی طرح سلوک برتا گیا۔

جہاز سے اترنے سے خوفزدہ اور بہت کم رقم اور خوراک کے ساتھ ان کا عملہ جہاز میں ہی رہا جب تک کہ آسٹریلوی ماہر ارضیات اور سڈنی یونیورسٹی کے قطبی محقق ٹیناٹ ایجورتھ ڈیوڈ نے آسٹریلوی پریس میں شیراسے کی حمایت میں آواز بلند کی۔

بالآخر عملہ ڈیوڈ کی طرف سے پیش کردہ ساحلی زمین پر خیمے لگانے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے جہاز کی جیل جیسی قید سے نکل آیا۔ شیراسے نے ڈیوڈ کو اپنی سامورائی تلوار دے کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تلوار اب آسٹریلیا کے میوزیم میں محفوظ ہے۔

نسل پرستی اور بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے باوجود شیراسے نے اعلان کیا کہ وہ موسم بہار میں انٹارکٹیکا واپس جائیں گے اور ستمبر کے وسط میں قطب کے لیے روانہ ہوں گے اور 870 میل سے زیادہ کا سفر مکمل کر کے فروری کے آخر میں واپس آئیں گے۔

لیکن مصیبتیں ان کی منتظر تھی۔ ان کے کھانے پینے کا سامان ختم ہو رہا تھا، وہ کتے جن کو وہ اپنے سلیجز کو کھنیچنے کے لیے لائے تھے، مر گئے اور روانگی کے لیے موسم ناسازگار ہی رہا تو شیراسے کا خواب ماند پڑنے لگا۔

 

انہوں نے سڈنی مارننگ ہیرالڈ کو بتایا کہ وہ اپنا منصوبہ بدل رہے ہیں۔ ان کا مشن صرف سائنسی ہوگا جس میں قطب کو فتح کرنے کی کوئی کوشش شامل نہیں ہوگی۔

وہ 19 نومبر کو دوبارہ جنوب کی طرف روانہ ہوئے اور جنوری 1912 کے اوائل میں ایڈمرلٹی پہاڑوں کے قریب انٹارکٹیکا جا پہنچے جو موسم گرما کے دن تھے ۔ موسم اچھا تھا اور ان کے جہاز کیانان مارو نے بحیرہ راس کے اس پار سفر کیا اور امنڈسن کے سرمائی بیس کے قریب سے گزرا۔ انہیں حریف کا جہاز ’فریم‘ بھی دکھا جو ان کی قطب سے واپسی کا انتظار کر رہا تھا (اور شیراسے کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ ان کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا)۔

آخر کار وہ راس آئس شیلف پر اترے اور جنوبی براعظم پر قدم رکھنے والے پہلے جاپانی بن گئے۔ 

قطب کی کشش ان کے لیے بہت زیادہ تھی۔ یہ ان کے لیے سنگ میل اور مقناطیس تھا جو انہیں اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ بہت قریب لیکن پھر بھی بہت دور۔

انہوں نے اصرار کیا تھا کہ ان کی ٹیم خود کو سائنسی تحقیق تک محدود رکھے گی لیکن موسم اچھا تھا اور انہوں نے اتنے عرصے سے اس موقعے کا خواب دیکھا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ جدید دور کی حساسیت اس ذلت کو معاف کر دے لیکن انہیں شک تھا کہ حکومت اور عوام ایسا نہیں کریں گے۔ بہر حال انہوں نے جنوب کی طرف سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے سوچا کہ ان کے پاس 20 دن کا سامان ہے اور وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ کتنی دور پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے ’کمزور‘ بانس کے سلیجز کو کھینچنے کے لیے چار کلیدی آدمیوں کو چنا اور باقی کتوں کو  لیے ایک ایسے مشن پر نکل پڑے جسے انہوں نے خود ’ڈیش پیٹرولنگ‘ کا نام دیا۔

 ان کی ٹیم میں ان کے سرکردہ سائنسدان ٹیروتارو تاکیدا اور عملے کے بہترین سلیج ڈاگ ہینڈلرز شامل تھے۔

ہیڈ لینڈ کے مطابق: ’انٹارکٹک میں موسم گرما کے لیے ان کا سامان کافی تھا۔ ان کی ٹیم کے کچھ لوگ عینو برادری سے تھے جو جاپان کے شدید سرد موسم سے واقف تھے اور ان کے کتے اور سلیپنگ بیگ سبھی گرمیوں کے حالات کا مقابلہ کر سکتے تھے۔‘

لیکن بدقسمتی تھی کہ موسم بدل گیا (جیسا کہ سکاٹ کو بھی اس خطرے کا سامنا کرنا تھا) انہوں نے طوفان در طوفان کا سامنا کیا اور اس سے باہر نکلنے اور اپنے خیموں تک پہنچنے کے لیے انہیں شدید جدوجہد کرنا پڑی۔

انہیں فراسٹ بائٹ کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے زیادہ تر کتے مر گئے۔ 28 جنوری کو شیراسے نے فیصلہ کیا کہ ان کے پاس گھر کا رخ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

تاکیڈا نے اندازہ لگایا کہ وہ 80 ڈگری 5 منٹ جنوب میں ہیں، ساحل پر اپنے بیس سے 150 میل سے زیادہ  دور تھے۔ انہوں نے جاپانی جھنڈا اٹھایا اسے سلامی دی اور اپنے سفر کی تفصیلات ایک تانبے کے ڈبے میں ڈال کر اسے برف میں دفن کیا اور واپس روانہ ہو گئے۔

تین فروری کو ان کی آمد کے صرف 18 دن بعد وہ ٹوکیو کے لیے رخت سفر باندھ رہے تھے۔

بہت کم انعام کی خاطر جنوب میں اپنے طویل سفر میں تکلیفوں کے باوجود، یہ بات قابل یقین ہے کہ شیراسے کی کہانی کا سب سے مشکل حصہ ابھی آنا باقی تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جون میں جب وہ ٹوکیو پہنچے تو ان کے ساتھ ہیرو جیسا سلوک کیا گیا۔ ان کے طالب علم حامیوں نے ان کی کوششوں کی تعریف کی تھی اور رائے عامہ کچھ تبدیل ہوگئی۔

لیکن پھر خبر آئی کہ قطب تک پہنچنے میں انہیں امنڈسن نے پیچھے چھوڑ دیا، کہ ان کا مشن دیر سے شروع ہوا، سازوسامان ناقص تھا، منصوبہ بندی ٹھیک نہیں تھی اور وہ صرف مختصر وقت کے لیے انٹارکٹیکا میں رہے۔ دلچسپی کم ہوگئی۔

واپس پہنچنے سے پہلے ہی شیراسے اپنی قسمت کو جانتے تھے، انہوں نے اپنی ڈائری میں اس کے متعلق کافی پیش گوئی کی تھی۔ 20ویں صدی کے اوائل میں جاپان ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں ناکامی کو شرم کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک ایسے مشن پر گئے تھے جسے سرکاری حمایت نہیں تھی، اور انہیں یہی سننے کو ملا کہ ’ہم نے آپ کو کہا تھا‘۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ شیراسے اپنی زندگی اس شہرت سے محروم رہیں گے جس کی شاید ان کی کامیابیاں مستحق تھیں۔

وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس حکومت، جو ان سے انکاری ہے، نے اگر ان کے مشن کو فنڈ دینے کی پیشکش کی ہوتی تو وہ اسی وقت انٹارکٹیکا پہنچ سکتے تھے جب امنڈسن اور سکاٹ وہاں تھے، اور اس طرح انہیں کامیابی کا بہتر موقع مل سکتا تھا۔ لیکن عوام کسی بھی بہانے کی بہت کم پرواہ کرتے تھے، چاہے وہ کتنا ہی جائز کیوں نہ ہو۔

 ایسا لگتا تھا کہ ان کا مقدر ہمیشہ دونوں یورپیوں کے سائے میں رہنا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے سائنسی تجزیے بھی کچھ خاص نہیں تھے اور بعد میں ٹاکیڈا کی سائنسی اسناد بھی غلط ثابت ہوئیں جس نے بدقسمت شیراسے کی تکلیفوں میں مزید اضافہ کردیا۔ اس شخص کے لیے قطبی دوڑ کے بیانیے میں کوئی گنجائش نہیں تھی جو تیسرے نمبر پر بھی نہیں آ سکتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاید اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ ان کے ایک وقت کے سپانسر اوکوما نے بھی ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور اب وہ ان کے بلوں کا تصفیہ نہیں کر رہے تھے۔ اس مہم نے انہیں قرضوں میں ڈبو دیا۔ 1913 میں لکھی گئی ان کی یادداشت اور اس مشن کی فلمی فوٹیج اس قیمت میں فروخت نہیں ہوئی جس کی امید تھی۔

اب وہ اپنے گھر کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تھے اور اپنی زندگی کے باقی 34 سال اپنی بیوی یاسو کے ساتھ نسبتاً گمنامی میں گزارے۔ 1946 میں ٹویوٹا میں ایک مچھلی کی دکان کے اوپر اپنے فلیٹ میں وہ 85 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

شروع میں ان کی مہم نے جاپان سے باہر بھی کم توجہ حاصل کی تھی۔ لیکن 1933 میں ان کے سفر کا پہلا مختصر انگریزی زبان کا احوال جغرافیائی جریدے میں شائع ہوا اور بعد ازاں اسی برس جب جاپانی پولر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی تو انہیں اعزازی صدر بنا دیا گیا۔  اپنی موت تک انہوں نے اپنے تمام قرضے چکا دیے تھے۔

ان کی موت کے بعد سے بہت آہستہ آہستہ ان کی قوم اور وسیع تر قطبی تحقیقی برادری نے شیراسے کے کام کا اعتراف شروع کر دیا تھا۔ چاہے وہ قطب تک نہ پہنچ سکے ہوں اور جس سائنس کی انہیں امید تھی وہ شاید اپنے چیف سائنسدان کے انتخاب کی وجہ سے اچھی نہ رہی ہو، لیکن اگر ہم انصاف پسند ہوں تو سکاٹ کے برعکس امنڈسن نے بھی سائنسی فائدے کی راہ میں کچھ خاص حاصل نہیں کیا۔

 سکاٹ پولر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی آرکائیوز منیجر ناومی بونہم بتاتی ہیں کہ یہ صرف 10 سال پہلے کی بات ہے جب ان کی یادداشت، جس میں ان کی مہم کے مکمل احوال کی تفصیل تھی، کا انگریزی میں ترجمہ لارا ڈاگنل اور ہیلری شیباتا نے کیا۔ وہ کہتی ہیں: ’اس وقت مغربی قارئین کی تعداد تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔‘

شیراسے انٹارکٹیکا کے کسی بھی حصے کی کھوج کرنے والے پہلے غیر یورپی تھے۔ وہ کرہ عرض کے اتنے جنوب تک سفر کرنے والے چند انسانوں میں سے تھے، جن میں ان کے دو حریف اور اینگلو آئرش کھوج کار ارنسٹ شیکلٹن شامل تھے۔ 

ان سے پہلے انٹارکٹیکا کے مشرقی ساحل کے ساتھ اتنا سفر کسی نے نہیں کیا تھا۔ ان کے پاس اپنے حریفوں کے بجٹ کا چھوٹا سا حصہ تھا، ایک جہاز تھا جو حریفوں کے جہازوں سے آدھے سائز کا تھا، اور ان کے برعکس یہ قطبی موسم میں ان کا پہلا سفر تھا۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ ان کی ٹیم میں سے کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا۔

اور اگرچہ ان کے ’کھلونے کی ماند‘ بانس کی سلیجز کی وجہ سے ان کا مذاق اڑایا گیا، لیکن ان سلیجز کا کم وزن ایک نعمت ثابت ہوا۔ جب وہ جنوب کی طرف سفر کے بعد گھر کی طرف لوٹے تو انہوں نے ایک ناقابل یقین تین دن میں 150 میل کا فاصلہ طے کیا جو امنڈسن سے کہیں زیادہ تیز تھا جن کے پاس تربیت یافتہ کتے تھے۔

 ہیڈ لینڈ کا کہنا ہے: ’وہ لکڑی اور دھاتی سلیجز سے زیادہ تیز رفتار نکلے، اگرچہ ممکنہ طور پر مشکل علاقوں پر اتنے مضبوط نہیں تھے۔‘

اس میں بہت وقت لگا، بہت زیادہ وقت، لیکن شیراسے کو وہ پہچان ملنا شروع ہو گئی ہے جس کے وہ مستحق ہیں، انٹارکٹک کے ریکارڈوں میں سے وہ ایک مضحکہ خیز فٹ نوٹ سے ہٹ کر اب تسلیم شدہ موجد بن رہے ہیں۔

ہیڈ لینڈ نے کہا: ’شیراسے کسی حد تک مختلف تھے لیکن ان میں جوش و خروش کی کمی نہیں تھی اور جہاں تک جاپان میں ممکن تھا، انہوں نے اپنی مہم سے پہلے انٹارکٹیکا پر تحقیق کی۔‘

’آخر میں وہ حالات کا شکار ہوئے جیسا کہ اس وقت بالکل نامعلوم براعظم انٹارکٹیکا تک جانے والی  بہت سی مہمات ہوئیں۔‘ 

ہیڈ لینڈ کے بقول: ’انہیں اپنے منتخب راستے پر گلیشیروں اور پہاڑی سلسلوں کا سامنا کرنا پڑتا اور شاید انہیں اپنی کوشش کو ترک کرنا پڑتا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی ساکھ بحال ہو رہی ہے۔ انہیں انٹارکٹیکا کے بہادردور کا سنجیدہ علمبردار سمجھا جاتا ہے۔‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیراسے کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جاپان کے انٹارکٹک تحقیقی جہاز کو ان کا نام دیا گیا ہے اور براعظم کی جغرافیائی خصوصیات کا نام ان کے نام پر رکھا گیا ہے، بشمول مشرقی ساحل جسے انہوں نے سب سے پہلے کھوج کیا۔ شاید، زیادہ مناسب طور پر، ان کے آبائی شہر نکاہو میں ایک مجسمہ اور ایک عجائب گھر ہے جو ان کی زندگی اور ان کی مہم کا جشن منا رہا ہے۔

ہر سال 28 جنوری، جس دن شیراسے جنوب میں اپنے دور ترین مقام تک پہنچتے، کو میوزیم میں شیراسے کی واک ان دا سنو منعقد کروائی جاتی ہے، جو اس فوجی لیفٹیننٹ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جو جاپان کا پہلا قطبی کھوج کار بنا۔ ایک شخص جو اب قطبی تاریخ میں محض فٹ نوٹ نہیں رہے۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین