دنیا میں برف کی پرتیں 'تشویش ناک حد' تک تیزی سے پگھل رہی ہیں

گرین لینڈ اور انٹارکٹکا میں برف کی پرتیں جس خوف ناک شرح سے پگھل رہی ہیں، ماحولیاتی سائنس دانوں کے نزدیک اس سے بدترین صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

ناروے کے شمالی علاقے  سوالبارد میں ایک برفانی ریچھ پگھلتی برف پر کھڑا ہے(اے ایف پی /پولر بیئرز انٹرنیشنل)

گرین لینڈ اور انٹارکٹکا میں برف کی پرتیں اس شرح سے پگھل رہی ہیں جو ماحولیاتی سائنس دانوں کے نزدیک بدترین صورت حال ہو سکتی ہے جس سے دو دہائیوں میں سمندر کی سطح 1.8 سینٹی میٹر تک بڑھ چکی ہے۔

برطانیہ اور ڈنمارک کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی حدت میں اسی طرح تیزی سے اضافہ جاری رہا تو سمندر کی سطح مزید 17 سینٹی میٹر تک بلند ہو جائے گی جو ہر سال ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کے لیے ساحلی سیلاب کے خطرہ کا باعث بن جائے گا۔

یونیورسٹی آف لیڈز اور ڈینش موسمیاتی ادارے کے سائنسدانوں کے مطالعے کے مطابق 1990 کے عشرے میں سیٹلائٹ کے ذریعے برف کی پرتوں کی پہلی کی گئی پیمائش کے بعد سے گرین لینڈ میں برف پگھلنے سے دنیا کے سمندر کی سطح 10.6 ملی میٹر تک بڑھ گئی ہے جب کہ انٹارکٹکا سے پگھلنے والی برف نے اس سطح میں مزید 7.2 ملی میٹر کا اضافہ کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین پیمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے سمندروں کی سطح ہر سال چار ملی میٹر بڑھ رہی ہے۔

یونیورسٹی آف لیڈز میں سینٹر فار پولر آبزرویشن اینڈ ماڈلنگ میں ماحولیاتی محقق اور اس مطالعے کی سربراہی کرنے والے ٹوم سلیٹر نے کہا: ’اگرچہ ہم نے توقع کی تھی کہ برف کی پرتین سمندروں اور ماحول کی حدت کے ردعمل میں کم ہوجائیں گی لیکن وہ ہمارے تخمینوں سے بھی زیادہ تیز رفتار سے پگھل رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پگھلنے کی یہ شرح ہمارے اس ماڈل کو پیچھے چھوڑ رہی ہے جو ہم اپنی رہنمائی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ہم سطح سمندر میں اضافے سے پیدا ہونے والے خطرات کے لیے تیار نہیں ہیں جو خود ایک خطرہ ہے۔‘

سائنسی جریدے ’نیچر کلائمیٹ چینج‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماحولیات کے ماڈلز کے حساب سے برف کی پرتوں کے سیٹلائٹ سروے کے تازہ ترین نتائج کا موازنہ کیا گیا ہے۔ مصنفین نے خبردار کیا کہ انٹر گورنمنٹل پینل فار کلائمیٹ چینچ (آئی پی سی سی) کی بدترین پیش گوئی کے مطابق پرتین برف سے محروم ہو رہی ہیں۔

لیڈز یونیورسٹی کے سکول آف آرتھ اینڈ انوائرمنٹ سے وابستہ ماحولیات کی محقق اور اس مطالعاتی تحقیق کی شریک مصنف اینا ہاگ نے کہا: ’اگر برف کی پرتوں کا ہمارے ماحولیاتی حدت کے بدترین تخمینے کے مطابق ختم ہونے کا سلسلہ جاری رہا تو ہمیں سمندر کی سطح میں 17 سینٹی میٹر اضافے کی توقع کرنی چاہیے جس سے دنیا کے بیشتر ساحلی شہروں میں طوفانی سیلاب کا خطرہ دوگنا ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔‘ 

تاریخی طور پر عالمی سمندروں کی سطح میں زیادہ تر اضافہ ایک میکینزم، جسے ’تھرمل ایکسپنشن‘ کہا جاتا ہے، کی وجہ سے ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سمندر کے پانی کا حجم حدت کے باعث پھیل جاتا ہے۔ لیکن پچھلے پانچ سالوں میں پگھلنے والی آئس شیٹس اور پہاڑی گلیشیرز سے آنے والا پانی سمندر کی سطح میں اضافے کی اصل وجہ بن گیا ہے۔

گذشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گرین لینڈ میں 2019 کے دوران ہر منٹ دس لاکھ ٹن برف پگھلی جس سے اتنا پانی پیدا ہوا جس سے امریکی ریاست کیلیفورنیا کو چار فٹ تک بھرا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن ڈینش موسمیاتی ادارے کے آب و ہوا کے محقق روتھ موٹرم نے کہا: ’یہ صرف انٹارکٹکا اور گرین لینڈ ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے (سمندر کا پانی) بڑھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہزاروں چھوٹے گلیشیرز پگھل رہے ہیں یا مکمل طور پر غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں جیسا کہ ہم نے آئس لینڈ میں گلیشیر ’اوک‘ کے ساتھ ہوتے دیکھا تھا جسے 2014 میں 'مردہ' قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برف پگھلنے کا عمل اب سطح سمندر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔‘

امریکی محققین کی طرف سے گذشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک علیحدہ تحقیق میں خبردار کیا گیا تھا کہ عالمی حدت سے انٹارکٹکا کے برف کے ذخیرے کو تیزی سے تباہ ہونے کا خطرہ لاحق ہے جس سے سطح سمندر پر بڑے اثرات پڑیں گے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے لیمانٹ ڈاہرٹی ارتھ آبزرویٹری کے سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت برف کے ذخیرے کی سطح پر پگھلے ہوئے پانی کو اس کی دراڑوں میں دھکیل سکتا ہے جس سے ان کے گرنے کا خطرہ ہے۔ گلیشولوجسٹ اور اس مطالعے کے مصنف جوناتھن کنگسلیک کا کہنا ہے کہ ایسے میں بدترین صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ ’صدی کے آخر تک بہت ساری جگہیں بہت سارے پانی سے بھر جائیں گی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات