جب لتا منگیشکر نے دلیپ کمار کے طنز کا بدلہ دس سال بعد لیا

یہ سنگِ میل واقعہ لتا منگیشکر کے دھن کے پکا ہونے اور ٹھوس عزم کی نشان دہی کرتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کی ٹھان لیتی تھیں تو پھر اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتی تھیں۔

لتا اور دلیپ کمار 1957 میں فلم مسافر کا گیت ریکارڈ کرواتے ہوئے۔ یہ دلیپ کا آخری گیت ثابت ہوا (کری ایٹو کامنز)

’میرا دلیپ کمار سے تعارف مشہور موسیقار انل بشواس نے 1947 کے لگ بھگ ایک ٹرین میں کروایا۔ انل بشواس مجھے ’بمبئی ٹاکیز‘ (فلم سٹوڈیو) لے کر جا رہے تھے اور جب میں ٹرین میں سوار ہوئی تو یوسف بھائی (دلیپ کمار) بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔‘

یہ واقعہ لتا منگیشکر نے دلیپ کمار کی کتابThe Substance and the Shadows  میں بیان کیا ہے اور بعض انٹرویوز میں بھی معمولی رد و بدل کے بعد سنایا ہے۔

یہ واقعہ لتا کی زندگی میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے خود کو بدل ڈالنے کی ٹھان لی اور وہ کر دکھایا جو اس وقت شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔

دوسری طرف یہ واقعہ لتا منگیشکر کے دھن کے پکا ہونے اور ٹھوس عزم کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کی ٹھان لیتی تھیں تو پھر اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتی تھیں۔ دوسری طرف اسی واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بات دل میں رکھ لیتی تھیں اور اسے سالوں بعد بھی بھولتی نہیں تھیں۔ اس کی تفصیل نیچے چل کر آئے گی۔ 

دلیپ کمار اس تک چند فلموں میں ہیرو آ چکے تھے مگر شاید ان کی سپر ہٹ فلم ’جگنو‘ ابھی ریلیز نہیں ہوئی تھی اور وہ سپر سٹار نہیں بنے تھے، ورنہ ان کے لیے ٹرین میں یوں سفر کرنا ممکن نہ ہوتا۔ لتا ابھی گمنامی کے پردے میں چھپی ہوئی تھیں اور جہاں تک انل بشواس کی بات ہے تو کامیاب اور سریلے موسیقار ہونے کے باوجود انہیں کوئی نہیں جانتا تھا اور انہوں نے خود ایک بار بتایا تھا کہ انہیں کسی نے نہیں پہچانا تو انل بشواس نے خود کو موسیقار نوشاد کا اسسٹنٹ بتا کر تعارف کروایا۔ حالانکہ الٹا نوشاد خود کو انل بشواس کا شاگرد کہتے تھے۔

دال بھات کی بو

لتا کے بقول انل بشواس نے دلیپ کمار سے لتا کا تعارف کروایا، ’یوسف، یہ ایک مراٹھی لڑکی ہے۔ اس کا نام لتا ہے، یہ بہت اچھا گاتی ہے۔‘

یاد رہے کہ مراٹھی (مرہٹہ) بمبئی کے علاقے کی سب سے بڑی زبان ہے اور وہ لوگ ایک خاص لہجے کے ساتھ اردو/ہندی بولتے ہیں۔ مراٹھی زبان میں غ، خ، ز، ف جیسی خالص اردو آوازیں نہیں ہیں اس لیے مراٹھی بولنے والوں کو یہ آوازیں بولتے وقت دقت ہوتی ہے۔

دلیپ کو ابھی بمبئی آئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، شاید اسی لیے ان کے ذہن میں یہی سٹیریوٹائپ رہا ہو گا۔ انہوں نے ایک عمومی بیان دے دیا، ’اچھا مراٹھی لڑکی ہے؟ ان لوگوں کا اردو تلفظ بہت خراب ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے ان کے لہجے سے دال بھات کی بو آتی ہے۔‘

لتا کہتی ہیں کہ یہ بات میرے دل میں کھب گئی۔ وہ اس وقت تو کچھ نہیں بولیں لیکن گھر آ کر انہوں نے اپنے منہ بولے بھائی محمد شفیع سے یہ بات کہی۔ محمد شفیع مشہور موسیقار غلام محمد (المشہور ’پاکیزہ‘ والے) کے بھائی اور نوشاد کے اسسٹنٹ تھے، اور انہوں نے بھی بعد چند فلموں میں موسیقی دی مگر کبھی بڑے پیمانے پر کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے۔

محمد شفیع نے لتا کی مشکل بھانپ لی۔ انہوں نے تسلی دی کہ لتا فکر نہ کریں، محبوب نامی ایک مولوی ان کا واقف ہے جو گھر آ کر لتا کو اردو پڑھا سکتا ہے۔

لازمی نہیں کہ ’مولوی‘ محبوب کسی مسجد میں نماز پڑھاتے ہوں، اس زمانے کے رواج کے مطابق پڑھے لکھے آدمی کو بھی مولوی کہتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد مولوی محبوب نے لتا کو اردو پڑھانا شروع کر دی۔ لگتا ہے کہ ان مولوی صاحب کا ذوق خاصا عمدہ تھا، انہوں نے ابتدائی قاعدہ پڑھانے کے علاوہ لتا کو مشورہ دیا کہ وہ کلاسیکی اردو شاعری کا مطالعہ بھی کریں، تب جا کر ان کی اردو پر گرفت مضبوط ہو گی۔

لتا کے بقول جن شاعروں کو پڑھنے کا مشورہ مولوی صاحب نے دیا وہ تھے میر تقی میر، مرزا غالب، شیخ ابراہیم ذوق۔ انہی مولوی صاحب نے لتا کو ہندی رسم الخط میں لکھی ہوئی ان شاعروں کی کتابیں لا دیں اور لتا کو سبقاً سبقاً شاعری پڑھانا شروع کر دی۔

لتا نے جلد ہی اردو تلفظ پر عبور حاصل کر لیا اور اردو آوازوں کو نہایت مشاقی سے گانے لگیں۔ 1948 میں انل بشواس کے ترتیب دیے گانے ’مرے لیے وہ غمِ انتظار چھوڑ گئے،‘ میں ان کی ان کی ادائیگی قابلِ رشک ہے۔

لتا نے ایک اور انٹرویو میں بتایا کہ جب اس واقعے کے دو سال بعد وہ ’محل‘ فلم کا لازوال گیت ’آئے گا آنے والا‘ ریکارڈ کروا کر سٹوڈیو سے باہر نکلیں تو اداکارہ نرگس کی والدہ اور اس دور کی عمدہ گلوکارہ اور موسیقار جدن بائی نے لتا کو بلایا اور ان سے نام پوچھا۔ نام سن کر جب انہیں پتہ چلا کہ لتا کا تعلق مہاراشٹر سے ہے، تو انہوں لتا کے اردو تلفظ کی بہت تعریف کی۔ خاص طور پر اسی گیت کے اس مصرعے ’دیپک بغیر کیسے پروانے جل رہے ہیں،‘ میں لتا کی لفظ ’بغیر‘ کی ادائیگی کو سراہا۔

نمبر ون اداکارہ

’آئے گا آنے والا‘ وہی گیت ہے جس کے بعد لتا کا کیریئر پر لگا کر اڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے اس دور کی تمام نامی گرامی گلوکاراؤں (شمشاد بیگم، گیتا رائے، ثریا، زہرہ بائی، امیر بائی، راجکماری، اوما دیوی، وغیرہ) کو میلوں پیچھے چھوڑ کر بالی وڈ کی نمبر ایک گلوکار ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ گویا گیت کے بولوں ہی میں اشارہ پوشیدہ تھا کہ لتا کا دور آ رہا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

پیدائشی ٹیلنٹ اپنی جگہ، لتا کا یہ عزم اور سخت محنت کی عادت تھی کہ انہوں نے نصف صدی تک ہندوستانی فلمی موسیقی پر ملکہ کی طرح راج کیا۔ دلیپ کمار کی ایک بات سے متاثر ہو کر انہوں نے وہ کمال حاصل کیا کہ ان کا شمار ان گلوکاراؤں میں ہوتا ہے جن کا اردو تلفظ بےعیب ہے۔

یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ لتا نے غالب اور میر کو کس حد تک پڑھا، لیکن انہوں نے ان دونوں شاعروں کی جو غزلیں گائی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کم از کم اردو تلفظ پر مکمل عبور کر لیا تھا۔ کسی کو شک ہو تو لتا کی گائی گئی غالب کی غزل ’نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا،‘ یا پھر فلم ’بازار‘ میں میر کی ’دکھائی دیے یوں کہ بےخود کیا،‘ سن لے۔

دلیپ سے ’انتقام‘

جیسا کہ اوپر ذکر آیا، لتا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بات دل میں رکھ لیتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دلیپ کمار کی ’دال بھات‘ والی بات کا بدلہ دس سال بعد لیا۔

1957 میں دلیپ کمار ’مسافر‘ نامی ایک فلم میں کام کر رہے تھے، جس کے موسیقار سلل چودھری تھے۔ موسیقار کے ذہن میں بات آئی کہ کیوں نہ ’لاگی ناہیں چھوٹے راما‘ دو گانا لتا کے ساتھ دلیپ کمار کی آواز میں ریکارڈ کروایا جائے۔

یہی موقع تھا لتا کے لیے دلیپ سے دس سالہ پرانا بدلہ چکانے کا۔ دلیپ کمار پرفیکشنسٹ تھے، انہوں نے مسلسل مشق کر کے گیت کی دھن کی خوب تیاری کی۔ گیت ریکارڈ کرنے کا دن آیا۔ دلیپ خوش تھے کہ چلو انہیں لتا کے ساتھ گانے کا موقع مل رہا ہے، مگر لتا کچھ اور ہی ٹھان کر آئی تھیں۔

انہوں نے اپنے حصے کے بول کچھ ایسی حرکتیں اور مرکیاں دے کر گائے کہ دلیپ کمار کا چراغ بالکل بجھا کر رکھ دیا۔ ظاہر ہے کتنی بھی مشق کر لیتے، لتا کے مقابلے پر دلیپ کمار ایسے ہی تھے جیسے جاوید میانداد کے مقابلے پر توصیف احمد کی بیٹنگ۔

بالی وڈ کے مشہور صحافی اور مصنف راجو بھارتن نے لکھا ہے کہ دلیپ کو یہ بات کانٹے کی طرح جا کر چبھی اور انہیں لگا کہ لتا نے جان بوجھ کر انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس واقعے کے بعد 13 برس تک ان دونوں کی آپس میں بول چال بند ہو گئی۔ آخر کہیں جا کر 1970 میں دونوں کی صلح ہوئی۔

البتہ دلیپ کمار نے اس کے بعد کبھی گلوکاری کی کوشش نہیں کی۔  

زیادہ پڑھی جانے والی فلم