کشمیر سے متعلق پوسٹ: سوشل میڈیا پر مہم کے بعد ہنڈائی کی معذرت

ہنڈائی کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب بھارت میں ہزاروں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ہنڈائی کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے

22 جنوری 2009 کو سیول میں ہنڈائی موٹر کی برانچ کے سامنے سے ایک کارکن گزر رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

جنوبی کوریا کی معروف ہنڈائی موٹر کمپنی نے کہا ہے کہ پاکستان سے اس کے ڈسٹری بیوٹر کی جانب سے کی جانے والی ’بغیر اجازت‘ ٹویٹ سے بھارتیوں کی دل آزاری پر افسوس ہے۔

ہنڈائی کے پاکستان میں ڈسٹری بیوٹر نے متنازع علاقے کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ٹویٹ کی تھی۔

یہ معاملہ پاکستان میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منائے جانے کے ایک دن بعد یعنی اتوار کو شروع ہوا، جب ہنڈائی کے پارٹنر نشاط گروپ کی طرف سے فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام سے پوسٹس کی گئیں جن میں کشمیروں کی جدوجہد اور خود ارادیت کے حوالے سے پیغامات درج تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہنڈائی کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب بھارت میں ہزاروں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ہنڈائی کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

بھارتی صارفین کا مطالبہ ہے کہ ہنڈائی سوشل میڈیا پر کشمیر کے حوالے سے کی جانے والی ٹویٹس پر معافی مانگے۔

سوشل میڈیا مہم کے بعد ہنڈائی انڈیا نے اپنے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا جس میں اس کا کہنا تھا کہ ’بزنس پالیسی کے مطابق ہنڈائی موٹر کمپنی کسی بھی خطے میں سیاسی یا مذہبی مسائل پر تبصرہ نہیں کرتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں کہا گیا: ’یہ واضح طور پر ہنڈائی موٹر کی پالیسی کے خلاف ہے کہ پاکستان میں ایک نجی ڈسٹری بویٹر نے سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس سے بغیر اجازت کشمیر سے متعلق پوسٹس کی ہیں۔‘

’جیسے ہی ہمیں اس صورت حال کے بارے میں علم ہوا تو ہم نے ڈسٹری بیوٹر کو غیرمناسب عمل سے آگاہ کیا۔‘

ہنڈائی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہماری سبسڈری ہنڈائی انڈیا کا پاکستان میں ڈسٹری بیوٹر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم ڈسٹری بیوٹر کے بغیر اجازت غیرکاروباری سوشل میڈیا سرگرمی کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا