عوام کی ٹوٹی کمر اور مسلسل مسخرہ پن

وزیر اعظم کو اپنی سمت بھی درست کرنی ہو گی اور انداز حکمرانی بھی ورنہ عوام کو معاشی طور پر کچلنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔

ملک کے معاشی معاملات کو سدھارنے کے لیے عوام کا کچومر نکالا جا رہا ہے (اے ایف پی)

ایک طرف گرمی بدن جلا رہی ہے تو دوسری طرف مہنگائی اور مسلسل معاشی غیر یقینی سے دماغ پگھل رہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب کوئی بری خبر سنائی نہ دے۔ کھانا پینا، دوائیاں، کپڑے، سکول کی فیسیں، مکان کا کرایہ، شادی بیاہ، بچوں کی پیدائش، سفر، کفن دفن سب کچھ عام شہری کی دسترس سے یا تو پھسل رہا ہے اور یا نکل گیا ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ جب عام شہری کی مصیبتیں اور ملک کی معیشت اکٹھے ہو کر گرداب کی صورت میں قوم کو گھیر لیں۔ ہم نے یہ تو دیکھا ہے کہ ملک کے معاشی معاملات کو سدھارنے کے لیے عوام کا کچومر نکالا جاتا ہے۔

ریاست کی ضرورت عوام کی زندگیوں سے زیادہ قدر رکھتی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے بلبلاتے شہریوں کو نچوڑ کر یہ ہدف حاصل کیا جاتا ہے لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ جب معیشت بھی قلا بازیاں کھا رہی ہو اور عوام بھی ہر طرف دہائیاں دے رہے ہوں۔

بجٹ نے ٹیکسوں کا سیلاب عوام کی جانب چھوڑ دیا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اس دن کو کوس رہا ہو گا جب اس نے ماہانہ آمدن کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ نچلا کاروباری طبقہ عوام کی گرتی ہوئی قوت خرید اور منڈی کے تیز دام کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ چھوٹے کسان جس تک سہولت ویسے ہی پہنچتی ہے جیسے نہر کے آخری حصے میں سے ملنے والا پانی۔ موسمی تبدیلیوں سے اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا اپنی فصل کی بے قدری سے۔

جبھی تو چاول، گنا، گندم، کپاس ہر قسم کی جنس کی پیدوار سکڑ گئی ہے۔ ہاں چاندی ہے تو سٹاک مارکیٹ اور سونے کے کاروبار کی ہے۔ ایک پر ٹیکس نہیں ہے تو دوسرا بڑھتی ہوئی قیمتوں سے دھڑا دھڑ جیبیں بھر رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ فائدہ چینی کا کاروبار کرنے والوں کا ہے۔

پہلے چینی وافر مقدار میں تھی۔ اس کو حکومتی مدد سے ایکسپورٹ کرنے کا بندوبست کیا گیا، ایک مصنوعی قلت پیدا کر کے دوستوں کو نوازا گیا۔ پھر چند ماہ بعد بجٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھا کر عوام کا خون چوسنے اور کاروباری دوستوں کو چاشنی فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ پرانی قیمتوں سے حاصل کیے گئے لاکھوں ٹن کے چینی کے سٹاک بجٹ کے ایک جملے نے سونے کی ڈلیوں میں تبدیل کر دیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موجودہ حالات سے مستفید ہونے والوں کی فہرست میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی جیب سے ایک دھیلا نہیں جاتا۔ ان کی گاڑیاں، گھر، کھانا، چائے، گیس، بجلی اور فون کے بل غرض یہ کہ آسائش اور ضرورت کے تمام انتظام عوام کے پیسوں کی مرہون منت ہیں۔

یہ اعلی عہدے دار اس گھمبیر معاشی صورتحال سے رسماً پریشان نظر آئیں تو آئیں لیکن ان کی زندگیوں پر تباہی کی اس سونامی کا کوئی اثر نہیں ہوا جو عوام کو روزانہ پٹخے دے رہی ہے۔

یہ لوگ پہلے سے ہی طاقت اور مراعات کے اونچے ٹیلوں پر بیٹھے ہیں، جہاں پر چین ہی چین ہے۔ ویسا ہی چین جیسا پاکستان کی معیشت کو چلانے والوں کی زندگیوں میں ہے۔ نہ سٹیٹ بینک کے گورنر نے پاکستان میں رہنا ہے نہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے۔ رضا باقر بین الاقوامی اداروں سے مستعار لیے گئے ہیں اور ان کے حقیقی باس ہر میٹنگ میں ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ موصوف کو سٹیٹ بنک کا گورنر بنوا کر انہوں نے ہم پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔

باقی رہی وزیر اعظم سمیت حکومتی اراکین کی بات تو پچھلی حکومتوں کے وزرائے اعظم اور ان کے قریبی رفقا کی طرح ان کی آل اولاد بھی پاکستان سے باہر ہے۔ یہاں پر کاروبار وسیع اور جائیدادیں بے شمار ہیں۔ طاقت بھی ہے اور تڑی لگانے کی صلاحیت بھی۔

زلفی بخاری ہو یا فیصل واوڈا کس کی مجال ہے کہ ان کا ہاتھ روکے۔ پچھلی حکومتوں کی طرح ان کی شادیوں اور ان کے ہاتھ ہونے والی بربادیوں، سب کو ایک غیر محسوس این آر او حاصل ہے۔ دبیز پردوں کے پیچھے بند کمروں میں ہونے والے فیصلے ویسے ہی ہو رہے ہیں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔

کوئی پوچھنے والا نہیں اور نہ سوچنے والا، ہر کوئی کرسی کرسی کھیل رہا ہے۔ کسی کو بازاروں میں ہُو کے عالم سے کوئی غرض نہیں۔ مہنگائی کی ڈائن لوگوں کی زندگیاں اجاڑ کر اب ان کے بچوں کا مستقبل نگل رہی ہے۔ مگر کچھ احساس نہیں۔ ارکان قومی اسمبلی کو لندن میں جا کر پارلیمینٹریئنز کا ورلڈ کپ کھیلنا زیادہ بھاتا ہے۔

لٹکی توندوں اور ہانپتے کانپتے جسموں کے ساتھ ٹھنڈی فضاؤں میں مزے لوٹنا اس بیزار کرنے والی بپتا کو سننے سے کہیں بہتر ہے جو اب ہر گھر کے دروازے سے باہر آ رہی ہے۔

یہ مشکل کاٹنا آسان لگتا اگر حکومت کی طرف سے مستقبل کی تصویر بھونڈے نعروں اور اول فول وعدوں سے نہ بنائی گئی ہوتی۔ بیسویں صدی کے شروع میں بدترین معاشی بحران کے بیچ جب امریکی صدر فرینکلین روز ویلٹ نے اقتدار سنبھالا تو امریکی عوام حکومت سے بدظن اور معیشت کے ہاتھوں بری طرح ڈسی ہوئی تھی۔

امریکی صدر نے پہلے سال ہی معیشت کا رخ موڑ دیا، نیا بینکوں کا نظام کھڑا کر دیا، نوکریاں فراہم کرنے کے بندوبست سے لے کر امریکی شہریوں کو نفسیاتی اعتماد دینے کے لیے بیسیوں ایسے اقدامات کیے کہ امریکا جیسے وسیع ملک میں حقیقی تبدیلی کے اثرات ہر جگہ نمایاں ہو گئے۔

عوام سے ہر وقت رابطے کا اس وقت واحد ذریعہ ریڈیو ہوا کرتا تھا۔ امریکی صدر نے ’فائر سائیڈ چیٹس‘ کے نام سے قوم سے خطاب کا سلسلہ شروع کیا اور مسلسل حقیقت پسندانہ اقدامات پر بنیاد تقریری مواد کے ذریعے عوامی اعتماد کی بحالی کا آغاز کیا۔

امریکی صدر کے بولنے کا انداز، الفاظ کا چناؤ، جملوں کی ساخت سب مل کر ایک ایسے مجرب نسخے میں تبدیل ہو گئے جس نے ہیجانی کیفیت کا نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ صدر روز ویلٹ کی سیاسی قدر میں روزانہ اضافہ بھی کیا، مگر امریکی صدر کے خطاب کی اصل تاثیر جملہ بازی میں نہیں تھی۔

اس کو معلوم تھا کہ معاشی چکی میں پسنے والے تسلی کی تلاش میں نہیں ان کو واضح اور بانتیجہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ عمل کے بغیر وعظ مسخرہ پن لگتا ہے، جس کی حرکتیں تاصف، طنز اور تنقید کا باعث تو بن سکتی ہیں تبدیلی کی بنیاد نہیں۔

ویسے بھی صدر روز ویلٹ کے پاس ان بدترین دنوں میں پالیسیوں کے اعتبار سے بہت کچھ اچھا بتانے کو بھی تھا۔ جبھی تو اس کی تقریر جاندار ہوتی تھی اور باتوں میں وزن محسوس کیا جا سکتا تھا۔

تقریریں تو آج کل کے برق رفتار معلوماتی ذرائع کے دور میں بھی ہو رہی ہیں، لیکن ان کا تذکرہ تفصیل سے نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ انٹ شنٹ، مستعار لیے ہوئے جملے، حقائق سے ناواقفیت اور پھس پھسے غرور سے ٹھسی ہوئی یہ تقاریر نظام میں زہر تو گھول رہی ہیں لیکن تدبر اور تدبیر سے مکمل طور پر عاری ہیں، جو تاریخ سے ناواقف ہے وہ حال کی بے حالی کیا جانے گا؟

کون سا مستقبل تراشے گا؟ ویسے بھی حقیقی دنیا ٹی وی کی سکرین سے بہت مختلف ہے، جب وزیر خزانہ یہ کہتا ہے کہ ان حالات میں روپے کی قدر کو نہیں سنبھالا جا سکتا تو اپنی کرنسی سے عوام کی بڑھتی ہوئی نفرت کو کون کیسے روکے؟ جب تین مہینے میں سب کچھ ٹھیک کرنے والا وزیر اعظم ریاست مدینہ کی عظیم تاریخ کو موجودہ بحران کی غیر متعلقہ وضاحت کے طور پر پیش کرے تو کس دل کو آسرا ہو گا؟

جس کی تقریر صحیح ریکارڈ نہیں ہو پاتی اس کی تجویز کیا رنگ لائے گی؟ پاکستان اس وقت اپنے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ حقائق بہت تلخ ہیں اور امید نحیف۔

وزیر اعظم عمران خان کو اپنی تجاویز بھی بدلنی پڑیں گی اور تقاریر بھی۔ سمت بھی درست کرنی ہو گی اور انداز حکمرانی بھی اور یہ سب کچھ جلدی کرنا ہو گا ورنہ 22 کروڑ عوام کو معاشی طور پر کچلنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ