فیس بک کا امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی کرپٹوکرنسی کا اعلان

بِٹ کوائن کے برعکس لبرا کی قدر کرنسیز کے مجموعے سے مشروط ہو گی جس سے اس کو غیر مستحکم ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

’فیوچر آف منی‘ سروے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر معیشتیں لبرا کرنسی کو جلد اپنا لیں گی (لبرا/آئی سٹاک/دی انڈپینڈنٹ)

امریکی ڈالر کا مقابلہ کرنے کی امید لیے دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں باہمی اشتراک سے اپنی ذاتی کرپٹوکرنسی متعارف کرانے جا رہی ہیں۔

مشہور کرپٹوکرنسی بٹ کوائن کے ایک دہائی بعد متعارف کی جانے والی نئی کرنسی کو ’لبرا‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کو 28 بڑی عالمی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے جن میں پے پیل، ماسٹر کارڈ اور ویزا بھی شامل ہیں۔ فیس بک اسے واٹس ایپ اور میسنجر پر بھی متعارف کروائے گا اور صارفین اپنے موبائل فونز کے ذریعے رقوم کی منتقلی کر سکیں گے۔

لبرا کرپٹوکرنسی کے بارے میں ایک علانیہ ویڈیو پیغام میں اس کی افادیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا: ’ٹیکنالوجی سے [صارفین] کو ہر چیز تک رسائی ممکن ہو گئی ہے سوائے رقم کے۔ [دنیا میں تقریباً] ایک ارب 70 کروڑ افراد بینکنگ کی سہولت استعمال نہیں کرتے جو دنیا کی آبادی کا 31 فیصد ہے۔ باقی افراد جن کو [رقوم کی] منتقلی کی سہولت دستیاب ہے ان کو بھی اس عمل میں سست روی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرحدوں کے باہر رقوم کی منتقلی کے عمل کو مکمل ہونے میں تین سے پانچ دن درکار ہوتے ہیں جبکہ اس پر بھاری چارجز بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔‘

روایتی کرنسی کے برعکس، لبرا کرنسی ان مسائل کا آسان اور سستا حل فراہم کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ بِٹ کوائن اور دیگر کریپٹوکرنسیز کو عوام کی جانب سے وسیع پیمانے پر اپنانے میں جو روکاوٹیں حائل تھیں وہ لبرا کو درپیش نہیں ہوں گی۔

فیس بک کے اعلیٰ عہدیدار ڈیوڈ مارکس، جو لبرا کرنسی کے اجرا میں پیش پیش ہیں، کا کہنا ہے کہ کرپیٹوکرنسی کو متعارف کرانے کا مقصد ’ایک سادہ عالمی کرنسی اور معاشی ڈھانچے کا قیام ہے جس سے دنیا بھر میں اربوں افراد فائدہ اٹھائیں گے۔‘

لندن میں قائم بِٹ کوائن کے تبادلے پر کام کرنے والی کمپنی ’لونو‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک نئی عالمی کرپٹوکرنسی اس مالیاتی خلیج کو پُر کر سکتی ہے جس کو روایتی کرنسی جیسے امریکی ڈالر یا دیگر کرپٹوکرنسز مثلاً بِٹ کوائن نہیں کر پائیں۔

’فیوچر آف منی‘ سروے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر معیشتیں لبرا کرنسی کو جلد اپنا لیں گی۔

اس نئی کرپٹوکرنسی کے بارے میں اس وقت سے ہی چہ مگویاں شروع ہو گئی تھیں جب فیس بک نے 2018 میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کرنسی کے نئے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے اپنا ایک بلاک چین گروپ قائم کیا تھا۔

فیس بک اور اس کی دیگر ایپس کے دو ارب سے زائد صارفین لبرا کی کامیابی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرسکتے ہیں جس سے یہ کرنسی جلد مرکزی دھارے میں شامل ہو سکتی ہے، مگر کچھ حلقوں نے لبرا بنانے کے پیچھے مقصد پر  سوال بھی اٹھایا ہے۔

لبرا کی قدر کا استحکام کیسے ممکن ہوگا؟

بِٹ کوائن کے برعکس لبرا کی قدر کرنسیز کے مجموعے سے مشروط ہو گی جس سے اس کو غیر مستحکم ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

دنیا کی پہلی کرپٹوکرنسی بِٹ کوائن کو لوگوں نے مرکزی دھارے کی کرنسی کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے وسیع پیمانے ہر سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا۔

لبرا سب سے پہلا نام نہاد ’سٹیبل کوائن‘ نہیں ہے تاہم یہ بات واضح ہے کہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی اور پُرعزم کرنسی کے طور پر سامنے آئے گی۔

ایشفورڈز سالیسٹرز کے شراکت دار جائلز ہاکنز نے کہا: ’لبرا بِٹ کوائن سے زرا مختلف تخلیق ہو گی جو دوسری اور کرنسیز سے جڑی رہے گی اور اس کے نتیجے میں اس کے غیر مستحکم ہونے کے امکانات بھی کم ہوں گے اس لیے اس کو [سرمایہ کاری کے لیے] ذخیرہ کرنے کی بجائے وسیع پیمانے پر ایک کرنسی کے طور پر ہی استعمال کیا جائے گا۔‘

لبرا میں خرابیاں یا خطرات

لبرا کی لانچ فیس بک کے لیے ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صرف ایک برس قبل کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل میں فیس بک کے کروڑوں صارفین کی ذاتی معلومات لیک کر دی گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد فیس بک اور اس کی دیگر ایپس پر صارفین کا اعتماد کم ہو گیا تھا۔

لبرا کے ناقدین میں شامل ٹیکنالوجی کے ماہر فِل چین کا کہنا ہے کہ لبرا میں فیس بک کی شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ بِٹ کوائن کا متضاد ثابت ہو گا اور اس کے ذریعے فیس بک کمپنی صارفین اور ان کی ذاتی معلومات پر کنٹرول حاصل کر لے گی۔

فِل چین نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’اگر آپ کو فیس بک کی آپ کے نجی ڈیٹا تک بہت زیادہ رسائی یا ان کی بہت زیادہ معلومات کے حوالے سے تحفظات ہیں،  تو اچھی طرح سے جان لیں کہ یہ عالمی کرنسی ابھی تک ڈیزائن کیے گئے نگرانی کا سب سے زیادہ ناجائز اور خطرناک ذریعہ ہے۔‘

’اگر یہ [لبرا کرنسی] لانچ کی جاتی ہے اور دنیا بھر میں اس کو اپنایا جاتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ فیس بک اگلے 100 سالوں تک دنیا کی سب سے بڑی 10 کمپنیوں میں شامل رہے گی جن کی ملکیت میں صارفین کی معلومات اور فیس بک، واٹس ایپ یا انسٹاگرام کے ذریعے کیے گئے لین دین اور ان کے اعداد و شمار  کی مکمل معلومات رہیں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی