حادثاتی طور پر دنیا کی طویل ترین پرواز

دنیا کی طویل ترین پرواز کے لیے ایک نیا دعوے دار سامنے آیا ہے لیکن یہ ریکارڈ غیر ضروری طور بنے گا۔

13  مارچ، 2019 کو کیتھے پیسیفک کا مسافر طیارہ ہانگ کانگ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز کے لیے تیار کھڑا ہے (اے ایف پی)

دنیا کی طویل ترین پرواز کے لیے ایک نیا دعوے دار سامنے آیا ہے لیکن یہ ریکارڈ غیر ضروری طور بنے گا۔

روسی فضائی حدود سے بچنے کی کوشش میں کیتھے پیسیفک کی نیویارک سے ہانگ کانگ آنے والی پرواز بحر اوقیانوس، برطانیہ، جنوبی یورپ اور وسطی ایشیا کے اوپر سے گزرے گی۔

یوں کل ملا کر یہ 16 ہزار 618 کلومیٹر طے کرے گی جو اسے فاصلے کے حساب سے سب سے طویل کمرشل فلائٹ بنا دے گی۔

نئی پرواز کو یہ فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 17 گھنٹے لگیں گے اور یہ موجودہ سب سے طویل پرواز سنگاپور ایئر لائنز کی سنگاپور سے نیویارک روٹ (15 ہزار 349 کلومیٹر) سے ایک ہزار 269 کلومیٹر زیادہ فاصلہ طے کرے گی۔

ایئربس A350 کا استعمال کرتے ہوئے یہ پرواز عام طور پر آرکٹک اور روسی فضائی حدود سے گزرتی تھی لیکن کیتھے بھی بہت سی بین الاقوامی ایئر لائنز کی طرح یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس کے اوپر سے پرواز کرنے سے گریز کر رہی ہے۔

ایئر لائن کے ترجمان نے بلومبرگ کو اس پرواز کے ممکنہ نئے راستے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا: ’ہم غیرمتوقع واقعات یا منظرناموں کے پیش نظر ہمیشہ ہنگامی راستہ اپناتے ہیں۔‘

ترجمان کے مطابق: بحر اوقیانوس عبور کرنے کے آپشن کا انحصار سال کے اس وقت طاقت ور موسمی ٹیل ونڈز پر ہوتا ہے تاکہ پرواز کا وقت 16 سے 17 گھنٹے کے درمیان ہو۔ اس طرح یہ ٹرانس پیسفک روٹ سے زیادہ سازگار ہوتا ہے۔

ایئرلائن فی الحال نیویارک کے جے ایف کینڈی ہوائی اڈے سے ہانگ کانگ تک نئے راستے میں شامل ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کر رہی ہے۔

اس پرواز کے پرانے روٹ میں کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ایک سٹاپ اوور شامل تھا۔ تاہم اس نئے روٹ کے لیے یہ نان سٹاپ پرواز ہو گی۔

کیتھے کی جانب سے طویل ترین پرواز کے دعوے سے پہلے ائیر نیوزی لینڈ نے ستمبر 2022 میں آکلینڈ سے نیو یارک سٹی تک براہ راست دنیا کی طویل ترین پروازوں میں سے ایک چلانے کا اعلان کیا تھا۔

14  ہزار 200 کلومیٹر پر محیط پرواز دنیا کی چوتھی طویل ترین کمرشل پرواز بن جائے گی۔

آسڑیلیا کی ایئرلائن کنٹاس کی سڈنی، لندن اور نیویارک کے درمیان براہ راست سروس ’سن رائز فلائٹس‘ کا منصوبہ تیار تھا جو کرونا وبا کے باعث تاخیر کا شکار ہو گیا۔

سڈنی ہاپ سے ہیتھرو اور پھر کنگزفورڈ سمتھ کے سفر کے لیے 16 ہزار 983 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا جو سنگاپور اور نیویارک کے درمیان دنیا کے موجودہ طویل ترین کمرشل پرواز سے ایک ہزار 500 کلومیٹر زیادہ ہے۔

اس دوران نیویارک سے سڈنی کی براہ راست پرواز 16 ہزار 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا