اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ میر رضا علی کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق مغوی کوئٹہ جانے والی بس میں سوار ہوئے لیکن’کپتو‘ کے مقام پر ڈرائیور کو فون کال موصول ہوئی جس میں اسے راستے سے چیری ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی اور وہ گاڑی کو باغ میں لے گیا، جہاں مسلح افراد موجود تھے۔