ایڈانی گروپ، جو بندرگاہوں، توانائی، سیمنٹ اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہے، حالیہ برسوں میں مالی بے ضابطگیوں اور سٹاک مارکیٹ میں بڑے اتار چڑھاؤ کے الزامات کی زد میں رہا ہے۔
اس بحری گزرگاہ کے ذریعے سالانہ 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے اور اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔