ہاتھی گاؤں محض رہائشی کالونی نہیں بلکہ ہاتھیوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہاتھی سے جڑے خاندانوں کی سماجی ترقی کا گاؤں ہے۔
جانور
چولستان کے رہائشی گھنشام داس اپنی موسیقی کے ذریعے روہی کی ویرانی کا ذکر کرتے اور موسیقی کے ہی سہارے رب سے بارش برسانے کی فریاد کرتے ہیں۔