متاثرہ لڑکی کے والد نے 21 جون کو تھانہ بڈھ بیر میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ مقدمہ درج کروانے میں تاخیر مقامی جرگے کی کوششوں کے باعث ہوئی، جو فریقین کے درمیان صلح کروانا چاہتا تھا۔
پاکستانی فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف کاررروائیوں میں ’انڈین حمایت یافتہ‘ 21 عسکریت پسند مارے گئے۔