سوال یہ ہے کہ جے یو آئی کے پاس کیا ہے جو جماعت اسلامی کے پاس نہیں؟ اس کا ایک ہی جواب ہے: مولانا فضل الرحمن۔
نو مئی اور 26 نومبر کے بعد پی ٹی آئی کی حکمت عملی تبدیل ہوتی، رویوں میں نرمی آتی، غلطیوں کا اعتراف ہوتا، پارٹی سنجیدہ سیاسی جدوجہد کرتی، ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بناتی، اس سب کچھ کی بجائے لڑائیوں میں الجھ گئی۔