آج کے اس ڈیجیٹل دور کو دیکھتے ہوئے دل سے یہ ہی دعا نکلتی ہے کہ کاش! قانون سوشل میڈیا کو لے کر اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہرا اور گونگا بھی ہوتا۔ تاکہ فیصلے ایکس پر ٹرینڈز اور فالوورز کی گنتی پر نہیں، بلکہ صرف اور صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہوتے۔
ضابطہ اخلاق میں اگر کوئی بڑی خامی ہے تو صرف ایک کہ اس کے اطلاق کا کوئی بامعنی اور ٹھوس طریقہ کار نظر نہیں آ رہا۔