وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کہتے ہیں کہ حکومت نجکاری کے بعد پی آئی اے کے لیے نہ طیارے خریدے گی اور نہ ہی اس کام کے لیے کسی خودمختار ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے قرض دے گی۔
پی آئی اے، جو کئی برسوں کے دوران 2.8 ارب ڈالر سے زائد خسارے کا شکار رہی، کو دسمبر 2025 میں نجکاری کے عمل کے تحت فروخت کیا گیا تھا۔