تھراپسٹ ایمان نیازی کے مطابق: ’جو بچے سکول یا گھر میں کسی بھی قسم کی زیادتی کو برداشت کرتے ہیں، ان کے اندر ایک اضطراب جاری رہتا ہے، جو انہیں سکون نہیں لینے دیتا۔ ایسے بچوں میں ’لڑائی اور فرار‘ کی کیفیت ہر وقت جاگی رہتی ہے۔‘
آپ بچے کو تب مارتے ہیں جب آپ ان کی کسی حرکت سے تنگ آ جاتے ہیں، یہ ’تنگ آنا‘ دراصل آپ کی مایویسی ہوتی ہے، پھر اس دوران آپ کے ذاتی، مالی، معاشرتی، کئی دوسرے مسائل ساتھ چل رہے ہوتے ہیں جن کی مجموعی جھلاہٹ کا نشانہ وہ بچہ بنتا ہے۔