اس تناظر میں یہ بھی اہم ہوگا کہ جہاں ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا وہیں ایک کا دشمن دوسرے کا دوست نہیں رہ سکے گا، لہذا ضروری ہوگا کہ معاہدے کے فریق دوستی و دشمنی کے معیارات کو اپنی ان طویل مدتی دفاعی ضرورتوں کے حوالے سے ’ری وزٹ‘ کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ گئے جہاں وہ آج ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔