خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندان جمعرات کو پہلی مرتبہ مشترکہ طور پر پشاور پریس کلب پہنچے۔
کہا جاتا ہے کہ جب تقسیم کے فوراً بعد جونا گڑھ، حیدر آباد اور کشمیر کے مسئلے ایک ساتھ پیدا ہوئے تو پاکستان کے پاس موقع تھا کہ وہ بہتر حکمت عملی سے کشمیر لے سکتا تھا لیکن پاکستان نے یہ سنہری موقع ضائع کر دیا۔