کتاب ضخیم ہے لکھنے والے کو برسہا برس لگے۔ اس لیے کتاب تو غالبا کسی نے بھی ابھی نہیں پڑھی لیکن کچھ ناقدین نے کچھ حصہ پڑھ کے اسے ناقص اور کچھ نے اے آئی کی کارستانی قرار دیا۔
جج نے کہا کہ گوو نے ’چین میں جمہوریت لانے کے خواہاں افراد کو نشانہ بنایا‘ اور ان سے پیسے لے کر ایک عیش و عشرت بھری زندگی گزاری۔