پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق: ’انڈیا کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کی قانونی حیثیت اور نہ ہی اخلاقی اتھارٹی حاصل ہے۔‘
کاش! ایک دن پھر ایسا آئے کہ سردیوں کی پہلی صبح چترال کی چوٹیاں حسبِ معمول سفید لباس میں ملبوس ہوں، چشمے اطمینان سے بہہ رہے ہوں اور کوئی بزرگ اپنے پوتے سے مسکرا کر کہے: ’دیکھو بیٹا! برف پھر وقت پر گری ہے۔‘