بعض سوشل میڈیا پوسٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ زلزلے کے جھٹکے کسی دھماکے کا نتیجہ تھے جب کہ بعض پوسٹس میں زلزلے سے ہی انکار کر دیا گیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سورس نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس پر طویل عرصے سے بات چیت جاری تھی لیکن خطے کی تازہ ترین پیش رفت نے اسے تیز کر دیا ہے۔‘