رمضان نشریات کا ذکر ہو تو مرحوم عامر لیاقت حسین کی یاد ضرور آتی ہے، جنہوں نے اسے ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا، لیکن آج کل کی ٹرانسمیشنز میں روحانیت کی بجائے صرف ریٹنگ اور وائرل ہونے کی دوڑ نظر آتی ہے۔
رواں سال پاکستانی ڈراموں میں زیادہ تر وہ کہانیاں بیان کی گئیں، جو ہمارے ارد گرد گھوم رہی ہوتی ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے ان کا کسی نہ کسی حوالے سے کوئی تذکرہ سنا ہوتا ہے یا پھر ان کا سامنا بھی ہوچکا ہو۔