یہ ڈراما دیکھنے کے بعد معاشرہ بدلے گا اور لوگ سوشل میڈیا کے ذمے دارانہ استعمال کوسمجھیں گے۔ اس عزم کو دہرایا تھا کہ ڈراما سیریل ’ایک اور پاکیزہ‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی سحر خان نے اس وقت جب اس تخلیق کی تعارفی تقریب لاہور میں ہوئی تھی۔
حال ہی میں نشر ہونے والے اس ڈرامے نے اپنی ابتدائی اقساط ہی سے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ضمیر اور شعور کو جھنجھوڑنے والی دستک ہے۔ ہر بدھ اور جمعرات کو نشر ہونے والے ڈراما سیریل ’ایک اور پاکیزہ‘ کے ستاروں کی بات کی جائے تو اس میں کئی ایسے نام ہیں جن کو پسند کرنے والوں کا ایک وسیع حلقہ ہے۔
سحرخان اور نامیر خان تو ابھرتے ہوئے فنکار ہیں لیکن ان کے ساتھ آمنہ الیاس، گوہر رشید، حنا بیات، نادیہ افگن اور نورالحسن کی موجودگی اس ڈرامے کو اور زیادہ خاص کر رہی ہے۔ کاشف نثار کی ڈائریکشن میں تیار اس ڈرامے کو بی گل نے لکھا ہے جو خواتین کے چبھتے ہوئے حساس موضوعات پر اپنی تخلیقات کی وجہ سے غیر معمولی شہرت رکھتی ہیں۔
ڈرامے کی کہانی سائبر ہراسانی، صنفی تشدد اور پھر زبردستی کی شادی کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ پھر ان تمام مسائل سے نبرد آزما افراد بالخصوص خواتین کے جسم اور روح پر جو گھاؤ لگتے ہیں وہ ڈراما سیریل میں انتہائی خوبصورتی اور مہارت سے عکس بند کیے گئے ہیں۔
یہ ڈراما سیریل پیغام بھی دیتا ہے کہ ہر ایک کی انگلیوں پر دنیا جہاں کی معلومات ہوتو وہاں اگر کسی کو ڈیجیٹل زخم کا سامنا کرنا پڑجائے تو ان کامقابلہ کرنے کے لیے کون سےقانونی داؤ پیچ کا سہارہ لیا جائے۔
ڈرامے کی کہانی
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ڈرامے کی کہانی کا مرکزی خیال 2021 کے اس واقعے کے گرد گھومتا ہے جس میں ایک فلیٹ میں لڑکا اور لڑکی کو جسنی طور پر ہراساں کیا گیا اور ان کی قابل اعتراض ویڈیو اور جنسی عمل کرنے پر اسلحے کے زور پر مجبور کیا گیا۔
پاکستان میں یہ واقعہ کئی مہینوں تک ذرائع ابلاغ کی زینت بنا رہا تھا۔ ’ایک اور پاکیزہ‘ میں پاکیزہ یعنی سحر خان ہنس مکھ ، شوخ و چنچل حسینہ ہے جو والدین ہی نہیں دونوں بھائیوں کی آنکھ کا تارہ بھی ہے۔
پاکیزہ کی ہنستی مسکراتی دنیا اس وقت تباہ و برباد ہوجاتی ہے جب اس کی انتہائی نجی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی جاتی ہے جس کے بعد ہر رشتہ اور ہر تعلق اس کے لیے جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ اپنے نگاہیں پھیر لیتے ہیں اور جان چھڑکنے والے بھائی بدنامی کے خوف تلے دب کر اس سے راہیں جدا کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔
پاکیزہ ایک ایسے روشن خیال گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جہاں بیٹی کے بھائیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے یا اس کی انگریزی کرکٹ کمنٹری پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ ایک ایسا خاندان جہاں پاکیزہ وکالت کی تعلیم پورا کرنے کے لیے آنکھوں میں خواب سجائے بیٹھی ہے۔ لیکن اس ایک ہی واقعے نے اس خاندان نے پاکیزہ کی شناخت، اس کے کردار، عزت نفس اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ پاکیزہ اور فراز کن حالات کا شکار ہوئے اور پھر سب سے آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور وہ الزام تراشی کا ہے۔
اب تک نشر ہونے والی اقساط میں ماضی اور حال کے واقعات کا بہترین امتزاج پیش کیا جارہا ہے جس کے ذریعے کہانی سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ فلیش بیکس کے ذریعے نا صرف پاکیزہ اور فراز کے رشتے کی نوعیت واضح ہو رہی ہے بلکہ اس سانحے سے جڑے ہر فرد کی اذیت اور کرب بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ ایک علامتی اور دل دہلا دینے والا منظر وہ ہے جب پاکیزہ کا بھائی اکبر اس کا موبائل فون چکنا چور کردیتا ہے گویا یہ اعلان ہے کہ اس خاندان کو برباد کرنے والا ہتھیار یہی موبائل تھا۔
پھر بھائی کا بہن کو گھر سے نکل جانے کا کہنا اور پھر اپنی چھت پر بنے پنجرے سے کبوتروں کو آزاد کرنا بھی اس کی اندورانی جذباتی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی نہیں پاکیزہ کے والد اور والدہ کا اپنے آنسوؤں پر ضبط کرنا، ہر دکھ اور درد پوری شدت کے ساتھ ان مناظر میں محسوس ہوا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈرامے کی اب تک کی کہانی سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نازک اور معصوم سی پاکیزہ جس کی ہنسی اس واقعے نے جیسے اس کے لبوں سے نوچ لی ہے، اب اس کا مقدمہ آمنہ الیاس اور گوہر رشید لڑیں گے جو ڈرامے میں وکیل اور بیرسٹر کے روپ میں ہیں۔ ممکن تو یہ بھی ہے گوہر رشید، آمنہ الیاس کے مقابل کورٹ میں اتریں۔ یہ اس لیے بھی دلچسپ ہو جائے گا کیونکہ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ دونوں بہت جلد شادی کرنے جا رہے ہیں۔
ڈراما سیریل ’کیس نمبر 9‘ کی طرح یہ تخلیق بھی خواتین کو اس بات کی آگاہی دے گی کہ اگر وہ ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں تو کس طرح انصاف کے دروازے تک پہنچنے کے لیے اپنی توانائی کے ساتھ ساتھ عقل و شعور کا استعمال کریں۔ پھر غیر دانستہ طور پر متاثرہ ہونے کے بعد ان کو کس قدر اخلاقی اور ذہنی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈراما سیریل کے پروڈکشن ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈراما سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ ناظرین کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کرے گا کہ اس نوعیت کے واقعات میں قصور کس کا ہوتا ہے ؟ اور انصاف کیوں ضروری ہے؟
اداکاروں کی کردار نگاری
حالیہ دنوں میں نوجوان اور باصلاحیت اداکارہ سحر خان نے اپنی فطری اداکاری سے ہر ایک کے دل میں جگہ بنائی ہے۔ ان کی خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ کردار میں رچ بس جاتی ہیں۔ اگر وہ مزاحیہ ڈراما ’فیری ٹیل‘ میں جلوہ گر ہوتی ہیں تو چلبلی سی نٹ کھٹ نظر آتی ہیں تو اسی طرح ڈراما سیریل ایک اور پاکیزہ میں انہوں نے جہاں شوخ و شنگ انداز اپنایا تو وہیں اپنے ساتھ ہونے والے سانحے کے بعد ان کے چہرے کے تاثرات واقعی قابل دید ہیں۔ ڈراما سیریل کے کئی مناظر میں انہوں نے اپنے چہرے اور آنکھوں کے تاثرات سے مکالمات کی کمی کو پورا کیا۔ ایک عام رائے یہ ہے کہ سحر خان بہت جلد ان اداکاراؤں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گی جو پاکستانی ڈراما انڈسٹری کی منجھی ہوئی اور مستند اداکاراؤں کی ہے۔
نامیر خان کے ڈراموں کی تعداد کچھ اتنی زیادہ نہیں لیکن نجانے کیوں انہیں ہدایتکار ایک جیسے کرداروں میں پیش کرتے آرہے ہیں۔ ایک اور پاکیزہ میں ان کا فراز کا کردار قرض جاں اور پھر میں منٹو نہیں ہوں کی ہی اگلی قسط لگ رہا ہے۔ ہدایتکار انہیں چھوٹی سکرین کا اینگری ینگ مین بنانے کی جستجو میں ہیں۔ بہرحال نامیر خان کا کردار فراز اس تلخ حقیقت کو سامنے لارہا ہے کہ معاشرے میں متاثرہ مرد اور خاتون کے ساتھ کس قدر مختلف رویہ اختیارکیا جاتا ہے۔ ڈرامے میں وہ اور پاکیزہ دونوں سائبر کرائم کا شکار ہیں لیکن زیادہ سزا اور ذہنی اذیت پاکیزہ کو جھیلنی پڑ رہی ہے کیونکہ وہ ایک خاتون ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں ڈرامے میں فراز گھر سے نکل کر اپنے والدین سے ملنے جا سکتا ہے لیکن دوسری طرف پاکیزہ کے گھر والے اسے قبول نہیں کررہے بلکہ پاکیزہ ایک ایسی آزمائش سے دوچار ہے جس کے تحت وہ دن کی روشنی میں بھی چہرہ چھپا کر باہر نکلنے سے خوف زدہ ہے کہ کہیں اس کی شناخت نہ ہوجائے۔ ہراسانی کا شکار مرد اور خاتون کے درمیان یہ امتیازی تفریق ہر ایک کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہی ہے۔
آمنہ الیاس اور گوہر رشید کی کردار نگاری ابھی کھل کر سامنے نہیں آئی جب عدالتی جنگ کی شروعات ہو تو ممکن ہے یہ دونوں اپنے جوبن پر نظر ائیں گے ۔ اسی طرح نور الحسن جو کیس نمبر 9 میں چالاک، شاطر اور موقع شناس وکیل کے روپ میں تھے اس نئی تخلیق میں پاکیزہ کے مجبور، بے بس اور لاچار والد کے روپ میں پھر چھا گئے۔ بالخصوص پاکیزہ کے ساتھ ہونے والے واقعات کے بعد ان کی دل و دماغ میں جو بدنامی سے بچنے کی جنگ چل رہی ہے وہ ان کے چہرے سے ہی نہیں جسمانی بولی سے بھی خوبصورت انداز میں پیش کی جا رہی ہے۔
اب تک کی اقساط میں کہانی کا ٹیمپو سست ضرور ہے، مگر یہ سستی دراصل زخموں کو محسوس کرنے کا وقت دے رہی ہے ۔ صرف ابتدائی اقساط سے ہی ڈرامے نے سماجی دباؤ، خاندانی رویوں، جذباتی اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ اور قانونی جدوجہد جیسے اہم نکات پر نئی بحث کا در کھول دیا ہے۔
ڈرامے کی تعارفی تقریب میں یہ بات بھی نمایاں کی گئی کہ اس تخلیق کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ریسرچ ٹیم نے کئی مہینوں تک عرق ریزی کے ساتھ مختلف کیس سٹڈیز اور ڈیٹا جمع کیا۔ نوجوان وکلا سے مشاورت کی گئی اور متاثرین سے بھی گفتگو کرکے ڈرامے کے سکرپٹ کو حتمی شکل دی گئی۔
ایسے میں جب ہر تھوڑے وقفے کے بعد کسی نہ کسی کی قابل اعتراض ویڈیوز سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں ڈراما سیریل ایک اور پاکیزہ اس جانب بھی اشارہ کررہا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ایک لمحے کی غفلت یا لاپرواہی کس طرح پوری زندگی پر بھاری ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ ڈراما اس پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں لاتعداد زندگیوں کو متاثر کرنے والے خطرات اور خدشات سے آگاہی، احتیاط اور سمجھ بوجھ وقت کی کتنی اہم ضرورت ہے۔