پاک افغان سرحد: انگور اڈہ گیٹ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے کھل گیا

انگور اڈہ گیٹ کو ایک ہفتہ قبل سرکنڈہ چیک پوسٹ پر تحریک طالبان پاکستان کے حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا جس میں پاکستانی فوج کے ایک میجر سمیت دو اہلکار جان سے چلے گئے تھے۔

پاکستانی سکیورٹی اہلکار افغانستان کی سرحد کے ساتھ متصل پاکستانی علاقے جنوبی وزیرستان کمیں انگور اڈہ کے مقام پر 18 اکتوبر 2017 کو لگائی گئی سرحدی باڑ کے ساتھ موجود ہیں اور نگرانی کر رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

پاکستان کے قبائلی ضلعے جنوبی وزیرستان سے متصل پاکستان افغانستان سرحد پر انگور اڈہ گیٹ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے جسے جنوبی و شمالی وزیرستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

اسسٹنٹ کمشنر وانا بشیر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’اس اقدام سے ایک روز قبل کئی دنوں سے پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو پیدل آنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔‘

انگور اڈہ گیٹ کو ایک ہفتہ قبل سرکنڈہ چیک پوسٹ پر تحریک طالبان پاکستان کے حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا جس میں پاکستانی فوج کے ایک میجر سمیت دو اہلکار جان سے چلے گئے تھے۔

اس واقعے کے دوران پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی میں تین مبینہ شدت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر وانا کا کہنا ہے کہ ’گیٹ کھولنے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر باقاعدہ طور پر تجارت شروع ہوگئی ہے جس کی بدولت نہ صرف تجارت سے وابستہ لوگوں کا روزگار چل پڑا ہے بلکہ مقامی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔‘

دوسری جانب تجارت سے وابستہ لوگوں نے شکایت کی ہے کہ پھنسی ہوئی گاڑیوں میں زیادہ تر میوہ جات اور سبزیاں تھیں جوکہ اب ضائع ہوچکی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کم آمدن والے تاجروں کے نقصان کا ازالہ کرے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کرنے والے ایک تاجر ٹکا خان نے بتایا کہ جو بڑے بڑے تاجر ہیں وہ تو نقصان سے بچ گئے ہیں اور چھوٹے تاجروں کا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بڑے تاجر چھوٹے تاجر کو مال پہنچنے پر پیسے ادا کرتے ہیں اور راستوں میں مال کی خرابی کے ذمہ دار چھوٹے تاجر ہی ہوتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سرحدی گیٹ بند کرنے کے واقعے کے بعد افغان طالبان نے بھی گیٹ کے بیچ میں اینٹوں کی دیوار کھڑی کر دی تھی جس کی وجہ سے کاروباری لوگوں کے علاوہ عام شہریوں کو بھی پریشانی کا سامنا تھا مگر پاکستان کی جانب سے گیٹ دوبارہ کھولے جانے کے بعد افغان طالبان نے بھی دیوار ہٹا دی ہے اور راستے کو کھول دیا گیا ہے۔

وانا میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد نہ صرف انگور اڈہ گیٹ کو بند کردیا گیا تھا بلکہ تھری جی، فور جی بھی معطل کر دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جرگے کے کامیاب مذاکرات کے بعد سرحدی گیٹ تو کھول دیا مگر نیٹ ورک بدستور بند ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما عمران مخلص نے کہا کہ ’وانا میں تھری جی فور جی کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

عمران مخلص نے نیٹ ورک کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر نیٹ ورک جلد بحال نہ ہوا تو سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اس کے علاوہ چند دن قبل وانا بازار کے قریب سکاؤٹس فورس کے واٹر ٹینکر کو دھماکے سے آُڑانے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران وانا بازار کے قریب گاؤں اشرف خیل سے چھ افراد کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مقامی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ پوچھ گچھ کے بعد تمام شہریوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔

شہریوں کی رہائی کے لیے پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، جعمیت علمائے اسلام اور پی ٹی ایم کے سینکڑوں کارکنوں نے سکاؤٹس کیمپ کے سامنے دھرنا دیا ہے۔

جس میں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہیں مگر دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کا کام ہے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما عمران مخلص نے کہا کہ ’دھماکہ گاؤں سے کافی فاصلے پر ہوا ہے جس میں گاؤں کا کوئی بھی شخص ملوث نہیں اگر حکومت کو کوئی مشکوک نظر آرہا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ قوم کسی بھی صورت میں دہشت گردی کے خلاف لشکر کشی کے لیے تیار نہیں البتہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دیا جائے گا۔

مبصرین کے خیال میں خواست میں شمالی وزیرستان کے متاثرین پر ہونے والے حملے کے بعد سرحد پر حالت خوشگوار نہیں ہیں اور سرحد کے قریب پاکستانی چیک پوسٹوں پر افغانستان کی سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان کے حملے کا خطرہ موجود ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان