میں جھولے سے ملی، بلقیس ایدھی نے شناخت دی: رابعہ بی بی

رابعہ بی بی عثمان نے بتایا کہ عام تاثر ہے کہ جب وہ نوزائیدہ تھیں اور انہیں جھولے میں چھوڑ دیا گیا تھا تو اس کے بعد وہ ایدھی یتیم خانے میں پلی بڑھیں، مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔

بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ بلقیس ایدھی کی وفات کے کچھ گھنٹوں بعد ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ لنکڈ ان پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی، جس میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔

اس پوسٹ میں لکھا گیا تھا: ’28 سال پہلے مجھے ایدھی یتیم خانے کے سامنے جھولے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ میں آپ کو ملی، آپ نے اپنی والدہ رابعہ بانو کا نام دے کر مجھے ایک شناخت دی، آپ نے مجھے گھر دیا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ آپ ہی کی وجہ سے ہوں۔ میری ایک شناخت ہے اور پیار کرنے والے والدین ہیں، جن کو میں اپنے والدین کہہ سکتی ہوں۔‘ 

سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ رابعہ بی بی عثمان نے شیئر کی تھی، جو چند ہی گھنٹوں میں انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی۔

لوگوں نے پوسٹ کے سکرین شاٹس لے کر فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام پر شیئر کرنا شروع کر دیے۔ صرف لنکڈ اِن پر ہی اس پوسٹ کو تقریباً دو ہزار بار شیئر کیا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے قریب لوگوں نے اس پر ردعمل دیا ہے۔

اپنی اس پوسٹ میں رابعہ نے مزید لکھا تھا کہ ’بلقیس آپ نے خواتین کے حقوق پر کام کیا۔ آپ ایک متحرک سماجی کارکن اور اچھائی کے کام کرنے والی باغی تھیں۔ آپ نے مجھے سکھایا کہ عورت کی کیا طاقت ہوتی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے سکائپ کال پر بات کرتے ہوئے رابعہ نے بتایا کہ عام تاثر ہے کہ جب وہ نوزائیدہ تھیں اور انہیں جھولے میں چھوڑ دیا گیا تھا تو اس کے بعد وہ ایدھی یتیم خانے میں پلی بڑھیں، مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں چند دن ہی کی تھی جب مجھے میرے والد محمد عثمان نے بلقیس ایدھی سے گود لے لیا تھا۔ میں نیویارک شہر میں پلی بڑھی اور یہیں تعلیم حاصل کی۔‘

رابعہ نے امریکہ سے سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی لا میں ماسٹرز ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے مطابق وہ نیویارک سٹیٹ اسمبلی، امریکی کانگریس اور سینیٹ میں انٹرن شپ بھی کر چکی ہیں جبکہ اس وقت وہ سینیئر پرائیویسی اینڈ کمپلائنس انالسٹ ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین نے ان سے پہلے بھی ایک بچی کو گود لیا تھا جس کا نام علینا تھا جو دو ہفتے تک زندہ رہنے کے بعد انتقال گرگئی تھی۔ جس پر بلقیس ایدھی نے میری والدہ سے کہا کہ وہ دکھی نہ ہوں، بلقیس انہیں ایک اور بچہ لے دیں گی۔

انہوں نے بتایا: ’جب میں ملی تو بلقیس نے میرا نام اپنی والدہ رابعہ نور کے نام پر رکھا، جس پر میری امی خوش ہوگئیں، کیوں کہ ان کی والدہ کا نام بھی رابعہ ہے۔ پھر میرے والد نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام کیوں نہیں ہے میرے نام میں؟ میری دادی کا نام چاند بی بی تھا تو والد نے میرا نام رابعہ بی بی عثمان رکھا۔ میرا نام رابعہ بانو نہیں۔‘

رابعہ نے بتایا کہ ان کا کسی بھی سوشل میڈیا پر کوئی بھی اکاؤنٹ نہیں صرف لنکڈ اِن پر اکاؤنٹ ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ عام طور پر جن لاوارث بچوں کو گود لیا جاتا ہے، وہ اپنی شناخت چھپاتے ہیں، انہوں نے بلقیس ایدھی کی وفات پر نہ صرف ان کو خراج تحسین پیش کیا اور ساتھ میں فخریہ انداز میں اپنی شناخت بھی بتائی۔

جس پر رابعہ نے بتایا کہ ’جب بلقیس ایدھی زندہ تھیں، تب میں نے ان کو کہا تھا کہ ماں میں آپ کی وجہ سے یہاں ہوں، مگر مجھے لگا کہ صرف اتنا کہنا کم تھا۔ اس لیے جب مجھے ان کی وفات کا بتایا گیا تو مجھے غم کے ساتھ غصہ بھی آیا کہ ماں کہاں چلی گئیں۔ یہ پوسٹ ایک دل شکستہ بیٹی کی جانب سے اپنی ماں کو لکھا گیا ایک خط تھا۔‘ 

انہوں نے مزید کہا: ’لوگوں نے مجھے کہا کہ ان کو میری پوسٹ سے جذبہ ملا ہے، تو میں ان سب سے کہتی ہوں کہ میری تعریف بہت ہوگئی۔ بلقیس ایدھی چلی گئیں مگر ان کی روایت تو جاری ہے۔ اب لوگ جاکر ان کی تنظیم کی مدد کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا