کیا جمہوریت یہ ہوتی ہے؟ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ برہم

جسٹس امیر بھٹی نے درخواست گزار پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں نے عدالتوں کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ پورے پاکستان کو نچایا ہوا ہے۔‘

ایک وکیل لاہور ہائی کورٹ میں اپنے مقدمے کی سماعت کے بعد واپس جا رہا ہے (اے ایف پی فائل فوٹو)

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی جمعرات کو عثمان بزادر کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بحال کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے بظاہر برہم ہوگئے۔

جسٹس امیر بھٹی نے درخواست گزار وکیل ندیم سرور پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں نے عدالتوں کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ پورے پاکستان کو نچایا ہوا ہے۔ جمہوریت، جمہوریت، جمہوریت کیا ذرا سا صبر نہیں ہے۔ کیا یہ جمہوریت ہوتی ہے؟‘

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی نے بعد میں یہ درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ چیف جسٹس کا وکیل سے کہنا تھا کہ جب آپ متاثرہ فریق نہیں تو درخواست کیوں دائر کی؟ بےبنیاد درخواست دائر کرنے پر آپ کو 10 لاکھ جرمانہ کر دیتے ہیں۔ جس پر درخواست دائر کرنے والے وکیل ندیم سرور نے عدالت سے غیرمشروط معافی کی درخواست کرتے ہوئے اپنی درخواست واپس لے لی۔ 

اس سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا تھا کہ جب متاثرہ فریق مطمئن ہے تو آپ نے درخواست کیوں دائر کی، جس پر وکیل ندیم سرور نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ درخواست بطور قانون کے طالب علم دائر کی ہے۔  

سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا استعفیٰ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ایڈووکیٹ ندیم سرور نے ایک آئینی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں عمران خان، عثمان بزدار، حمزہ شہباز، عمر سرفراز چیمہ کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا  تھا کہ عثمان بزدار نے اپنا استعفیٰ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو بھجوایا، قانون کے مطابق وزیر اعلیٰ استعفیٰ گورنر کو بھجوا سکتا ہے، سابق گورنر چوہدری سرور نے غیرقانونی طور پر عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کیا۔ 

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کرنے کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے۔ ساتھ ہی ساتھ وزیراعلٰیٰ پنجاب کے انتخاب کا سارا عمل بھی  کالعدم قرار دیا جائے اور حمزہ شہباز کو بطور وزیر اعلیٰ کام کرنے سے روکنے کے احکامات جاری  کر کے عثمان بزدار کو بطور وزیر اعلیٰ پنجاب بحال کیا جائے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے جمعرات کو ہی حمزہ شہباز کی درخواست پر بھی سماعت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حلف نہ لینے کے خلاف حمزہ شہباز کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو کل جمعے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے گورنر پنجاب سے ہدایات لے کر پیش ہونے کا حکم دیا۔  

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صوبہ وزیر اعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے۔ وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ سے حلف نہ لینا آئین کی خلاف ورزی ہے لہذا عدالت گورنر پنجاب کو آج ہی حمزہ شہباز سے حلف لینے کا حکم جاری کرے۔  

دوران سماعت سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی سے آج (جمعرات) ایک بجے دوبارہ حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کرنے کی استدعا کی جس کو عدالت نے مسترد کر دیا اور کہا، ’10 دن آپ گھر بیٹھے رہتے ہیں اور آ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے، ’اگر عدالت کہے کہ سسٹم چلنے دیں تو آپ سسٹم نہیں چلنے دیتے۔ عدالتی سسٹم کو چلنے دیں۔‘ 

عدالت نے کل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو گورنر پنجاب سے ہدایت لے کر جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان